حدیث میں آتا ہے مردہ زائر کا سلام سن کر جواب دیتا ہے، اس کی تحقیق:
Question
ایک حدیث لوگوں میں مشہور ہے کہ جب کوئی شخص کسی کی قبر پر زیارت کے لیے جاتا ہے، اور سلام کرتا ہے تو اللہ تعالی مردہ کو اس قابل بنا دیتے ہیں کہ زائر کو پہچان کر سلام سنے اور اس کا جواب دے، یہ حدیث کہاں تک صحیح ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ثابت نہیں ہے۔ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ حدیثِ بالا تین صحابہ کرام رضي الله عنہم سے مروی ہے: ۱۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے، اِس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ۲۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے، اِس روایت کی سند بھی ضعیف ہے۔ ۳۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے، اِس روایت کی سند کو حافظ عراقی رحمه الله، علامہ عینی رحمه الله، علامہ ابن تیمیہ رحمه الله، امام قرطبی رحمه الله، شیخ عبد الحق الاشبیلی رحمه الله، علامہ شوکانی رحمه الله، حافظ ابن کثیر رحمه الله اور علامہ جلال الدین سیوطی رحمه الله وغیرہ حضرات نے صحیح کہا ہے۔ نیز اِس باب میں اِن کے علاوہ اور بھی روایات موجود ہیں، جن کو علامہ جلال الدین سیوطی رحمه الله نے اپنے رسالہ "شرح الصدور" میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت: ملاحظہ کیجیے:
قال ابن عبد البر في الاستذكار: أخبرنا أبو عبد الله عبيد بن محمد (ثقة) قراءة مني عليه سنة تسعين وثلاثمائة في ربيع الأول قال: أملت علينا فاطمة بنت الريان (لم أجد من ترجمها) المستملي في دارها بمصر في شوال سنة اثنتين وأربعين وثلاث مئة قالت: حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن صاحب الشافعي (الحافظ) قال: حدثنا بشر بن بكير (ثقة) عن الأوزاعي (شيخ الإسلام) عن عطاء (أحد الأعلام وهو ابن أبي رباح) عن عبيد بن عمير (مجمع على ثقته) عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من أحد مر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام". (الاستذكار: ۲/۱٦۵).
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر سے گزرتا ہے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اس پر سلام کرتا ہے، تومر دہ اس کو پہچان لیتا ہے اور سلام کا جواب دیتا ہے۔
حدیثِ بالا کو صحیح کہنے والے حضرات کی عبارات حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) علامہ بدر الدین عینی رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
قال العلامة العيني: وعند ابن عبد البر، بسند صحيح: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام. (عمدة القاري: ٦/۹۵).
(۲) شیخ عبد الحق اشبیلی رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
قال عبد الحق الاشبيلي: وذكر أبو عمرو بن عبد البر في الاستذكار من حديث ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فسلم عليه، إلا ورد عليه السلام. إسناده صحيح. (الأحكام الوسطي: ۲/۱۵۲).
(۳) حافظ عراقی رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
وأفاد الحافظ العراقي أن ابن عبد البر أخرجه في التمهيد والاستذكار بإسناد صحيح من حديث ابن عباس رضي الله عنه وممن صححه عبد الحق بلفظ: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام. (فيض القدير: ۵/٤۸۷).
(٤) علامہ شوکانی رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
قال الشوكاني: وقد صح عن ابن عباس رضي الله عنه مرفوعاً: ما من أحد يمر على قبر أخيه المؤمن وفي رواية: بقبر الرجل كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه. (نيل الأوطار: ۳/۲۹۵).
(۵) امام قرطبی رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
قال القرطبي: وقد ذكر أبو عمر بن عبد البر حديثاً صحيحاً عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: قال: ما من مسلم يمر بقبر أخيه المسلم كان يعرفه في الدنيا، فيسلم إليه، إلا رد عليه السلام من قبره. (المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم: ۱/۵۰۰، ط: دمشق، بيروت).
(٦) علامہ ابن تیمیہ رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
وأما علم الميت بالحي إذا زاره وسلم عليه ففي حديث ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام". قال ابن المبارك رحمه الله ثبت ذلك عن النبي ﷺ وصححه عبد الحق صاحب الأحكام. (مجموع الفتاوي: ۲٤/۳۳۱).
(۷) صاحب عون المعبود محمد شمس الحق عظیم آبادی نے صحیح کہا ہے:
وقد صح عن ابن عباس رضي الله عنه مرفوعاً: ما من أحد يمر على قبر أخيه المؤمن وفي رواية: بقبر الرجل كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه. (عون المعبود: ۳/۲٦۱، ط: دار الكتب العلمية، بيروت).
(۸) علامہ ابن کثیر رحمه الله نے ابن عبد البر سے تصحیح نقل کی ہے:
قال: والصحيح عند العلماء رواية ابن عمر رضي الله عنه، لما لها من الشواهد على صحتها من وجوه كثيرة، من أشهر ذلك ما رواه ابن عبد البر مصححاً له عن ابن عباس رضي الله عنه مرفوعاً: ما من أحد يمر بقبر أخيه المسلم، كان يعرفه في الدنيا، فيسلم عليه إلا رد الله عليه روحه، حتى يرد عليه السلام. (تفسير ابن كثير: ۳/٤۸۲، سورة الروم، مكتبة دار السلام).
(۹) شیخ ابن علان الشافعی نے دلیل الفالحین میں صحیح کہا ہے:
كما دل عليه الخبر الصحيح: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام. (دليل الفالحين: ۵/۱۰).
(۱۰) علامہ سید احمد طحطاوی رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
وروي الحديث بألفاظ مختلفة وأخرج ابن عبد البر في الاستذكار والتمهيد بسند صحيح عن ابن عباس رضي الله عنه قوله: قال: قال رسول الله ﷺ: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص، فصل في زيارة القبور، ص ٦۲۱، قديمي كتب خانه).
(۱۱) شیخ ابن حجر ہیتمی رحمه الله نے صحیح کہا ہے:
وصح حديث: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن
الخ. (الفتاوى الفقهية الكبري: ۲/۲۹، ط: دار الفكر).
(۱۲) شیخ زکریا انصاری رحمه الله شافعی نے حسن کہا ہے:
فقد روي ابن عبد البر بإسناد حسن: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن
الخ. (اسني المطالب: ۲/۳٤۵، كتاب الجنائز، ط: دار الكتب العلمية).
اِس حدیث پر اشکالات اور جوابات:
(۱) اشکال: الاحکام الوسطی اور علل متناہیہ کی تعلیقات اور دیگر بعض کتب میں یہ مرقوم ہے کہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبید بن عمیر مجہول ہے؟ ملاحظہ ہو الاحکام الوسطی کی تعلیقات میں ہے:
رواه ابن عبد البر في الاستذكار (۱/۲۳٤) وعبيد بن محمد شيخ ابن عبد البر ذكره الحميدي في جذوة المقتبس (ص ۲۷۷) فقال: كن رجلاً صالحاً يضرب به المثل في الزهد، ولم نجد من وثقه، وأحاديث الزهاد لا اعتداد بها، وشيخته فاطمة بنت الريان لا ذكر لها في كتب الرجال، فهي لا تعرف، وعبيد بن عمير هو مولي ابن عباس رضي الله عنه وهو مجهول كما قال الحافظ في التقريب، فكيف يكون إسناده صحيحاً؟ (التعليقات على الأحكام الوسطي للشيخ صبحي السامرائي: ۲/۱۵۲).
اِس عبارت میں محشی صاحب نے شیخ عبد الحق الاشبیلی کی تصحیح پر تین اشکالات کیے ہیں: ۱۔ ابن عبد البر کے شیخ صوفی ہیں اور صوفیاء کی روایت مقبول نہیں۔ ۲۔ فاطمہ بنت ریان مجہولہ ہے۔ ۳۔ عبید بن عمیر یہ مولی ابن عباس ہے اور وہ مجہول ہے۔ ہر ایک کا جواب ملاحظہ کیجیے:
جواب: عبید بن عمیر مولی ابن عباس مجہول ہے وہ دوسرا شخص ہے، اور اس روایت کی سند میں عبید بن عمیر بن قتادہ لیثی ہیں جو کتبِ ستہ کے راوی ہیں؛ صحیح بخاری شریف میں متعدد روایات ان سے مروی ہیں، مثلاً: حدیث نمبر ۲۰٦۲، ۱۱٦۹، ٤۵۳۵، ٤۹۱۲، ۵۲٦۷، ٦٦۹۱، ۷۳۵۳ وغیرہ۔ نیز عبید بن عمیر لیثی کے مشائخ میں ابن عباس رضی الله عنه کا تذکرہ ہے اور شاگردوں میں عطاء کا تذکرہ ہے، جب کہ عبید بن عمیر مولی ابن عباس کے شیخ ابن عباس ہیں لیکن شاگردوں میں عطا کا تذکرہ نہیں ملتا۔ یہ واضح قرینہ ہے کہ اس روایت کی سند میں عبید بن عمیر لیثی ہے جو ثقہ راوی ہے۔ ملاحظہ ہو تہذیب الکمال میں مرقوم ہے:
عبيد بن عمير: (خ م د ت س ق) عبيد بن عمير بن قتادة بن سعد بن عامر بن جندع بن ليث الليثي ثم الجندعي، أبو عاصم المكي قاص أهل مكة. روي عن عبد الله بن عباس رضي الله عنه. قال إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين، وأبو زرعة: ثقة. قال: ومات عبيد بن عمير قبل ابن عمر رضي الله عنه، وروي له الجماعة. (تهذيب الكمال: ۱۹/۲۲۳/۳۷۳۰).
تقریب میں حافظ ابن حجر رحمه الله لکھتے ہیں:
عبيد بن عمير بن قتادة الليثي أبو عاصم المكي ولد في عهد النبي ﷺ قاله مسلم وعده غيره من كبار التابعين وكان قاص أهل مكة مجمع على ثقته. (تقريب التهذيب، ص ٤٤۱).
اشکال (۲) اور اس کا جواب: ایک اشکال یہ بھی کیا تھا کہ ابن عبد البر کے شیخ صوفی ہیں اور صوفیاء کی احادیث غیر معتبر ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قاعدہ عام نہیں ہے بلکہ بہت سارے صوفیاء میں سے محدث ہوے ہیں، اور ان کی روایات معتبر سمجھی جاتی ہیں؛ مثلاً: فضیل بن عیاض مشہور صوفی تھے اور مشہور ثقہ محدث تھے
(انظر: التقريب، ۵٤۳۱)،
اسی طرح ابن عبد البر کے شیخ بھی ثقہ ہیں، علامہ قاسم بن قطلوبغا نے ان کو ثقہ کہا ہے: ملاحظہ ہو:
فقال: عبيد الله بن محمد بن قاسم، أبو مروان الكديمي، له رواية عن أبي محمد القاسم بن خلف الجبيري، وغيره، حدث عنه ابن عبد البر وقال: كان من ثقات الناس وعقلائهم
۔
(الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة: ۷/ ۳۸/ ۷٤۸٦)
۔
تاریخ الاسلام میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
أبو عبد الله عبيد بن محمد، وكان شيخاً صالحاً متعبداً مجاهداً، سمع الناس منه كثيراً. (تاريخ الإسلام: ۲۷/۲۰۰، ط: المكتبة التوفيقية).
اشکال: (۳) اس روایت کی سند میں فاطمہ بنت ریان مجہولہ ہے؟
جواب: فاطمہ بنت ریان سے دو ثقہ راوی روایت کرتے ہیں؛ اور محدثین کے یہاں قاعدہ ہے کہ جب کسی غیر معروف راوی سے دو ثقہ راوی روایت کریں تو جہالتِ ذات مرتفع ہو جاتی ہے۔ ۱۔ عبید بن محمد،
قال: أملت علينا فاطمة بنت الريان في دارها بمصر. (الاستذكار).
۲ ۔ ابن النحاس، امام ذہبی رحمه الله نے سیر اعلام النبلاء میں درجِ ذیل الفاظ میں ان کا تذکرہ کیا ہے ۔
قال: الشيخ، الإمام، الفقيه، المحدث، الصدوق، مسند الديار المصرية، أبو محمد عبد الرحمن بن عمر بن محمد بن سعد التجيبي، المصري، المالكي، البزاز، المعروف بابن النحاس، وسمع بمصر من
وفاطمة بنت الريان، وعدة. (سير أعلام النبلاء: ۱۷/۳۱٤، مؤسسة الرسالة).
قال الدارقطني رحمه الله: من روي عنه ثقتان فقد ارتفعت جهالته، وثبتت عدالته. (فتح المغيث: ۲/۵٤).
امام ذہبی میزان میں لکھتے ہیں:
وما علمت في النساء من اتهمت ولا من تركوها. (ميزان الاعتدال: ٦/۲۷۸، وكذا في لسان الميزان: ۷/٤۹۷).
جہاں تک جہالتِ حال کی بات ہے تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ اگر سلف نے اس راوی سے روایت لی ہو اور اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہو تو اس کی روایت بھی مشہور راوی کی روایت کے مثل ہے۔
ملاحظہ ہو امام بزدوی رحمه الله اور محقق ابن ہمام رحمه الله فرماتے ہیں:
أما المجهول: فإنما نعني به المجهول في رواية الحديث، بأن لم يعرف إلا بحديث أو حديثين، فإن روي عنه السلف وشهدوا له بصحة الحديث صار حديثه مثل حديث المعروف، وإن سكتوا عن الطعن بعد النقل: فكذلك، وإن اختلف فيه مع نقل الثقات عنه: فكذلك عندنا
(مستفاد من اصول البزدوي: ۱/۷۰٤، والتحرير في الاصول: ۲/۲٤۹).
قال الشيخ محمد عوامة: إن الجمهور على أن من كان من المشايخ قد روي عنه جماعة، ولم يأت بما ينكر عليه؛ فحديثه صحيح، أقره الحافظ في حق من لم يوثقه أحد. (دراسات الكاشف: ۱/۵۵).
وأما مجهول الحال فقد ذهب ابن القيم رحمه الله إلى أن الجهالة تزول عنه ويحتج بحديثه: ۱۔ إذا روي عنه ثقتان، ۲۔ ولم يعلم فيه جرح ولا قدح. (ابن القيم الجوزية وجهوده في خدمة السنة: ۱/٤۷۷).
قال ابن رجب الحنبلي في شرح علل الترمذي: وقد اختلف الفقهاء وأهل الحديث في رواية الثقة عن رجل غير معروف، هل هو تعديل له أم لا؟ وحكي أصحابنا عن أحمد في ذلك روايتين، وحكوا عن الحنفية أنه تعديل، وعن الشافعية خلاف ذلك، والمنصوص عن أحمد يدل على أنه من عرف منه أنه لا يروي إلا عن ثقة فروايته عن إنسان تعديل له، ومن لم يعرف منه ذلك فليس بتعديل، وصرح بذلك طائفة من المحققين من أصحابنا وأصحاب الشافعي.
قال أحمد في رواية الأثرم: إذا روي الحديث عبد الرحمن بن المهدي عن رجل فهو حجة، ثم قال: كان عبد الرحمن أولاً يتساهل في الرواية عن غير واحد ثم تشدد بعدها، وكان يروي عن جابر ثم تركه.
وقال في رواية أبي زرعة: مالك بن أنس إذا روي عن رجل لا يعرف فهو حجة.
وقال يعقوب بن شيبة: قلت ليحيى بن معين: متى يكون الرجل معروفاً؟ إذا روي عنه كم؟ قال: إذا روي عن الرجل مثل ابن سيرين والشعبي، وهؤلاء أهل العلم فهو غير مجهول. قلت: فإذا روي عن الرجل مثل سماك بن حرب وأبي إسحاق؟ قال: هؤلاء يروون عن المجهولين، انتهى.
وهذا تفصيل حسن، وهو مخالف إطلاق محمد بن يحيى الذهلي الذي تبعه عليه المتأخرون أنه لا يخرج الرجل من الجهالة إلا برواية رجلين فصاعداً عنه. (شرح علل الترمذي: ۱/۸۰. ۸۲).
جب کہ مذکورہ بالا روایت کو شیخ عبد الحق الاشبیلی رحمه الله نے صحیح فرمایا ہے، اور شیخ عبد الحق فن جرح و تعدیل کے نامور علماء میں سے ہیں، چنانچہ خود سلفی حضرات بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
ملاحظہ ہو بلوغ المرام کے آخر میں ائمہ حدیث کے حالات کے تحت مرقوم ہے:
هو الحافظ، العلامة، الحجة، أبو محمد عبد الحق بن عبد الرحمن بن عبد الله بن حسين بن سعيد الأزدي، الاشبيلي، سكن بجاية فنشر بها علمه، وصنف التصانيف، واشتهر اسمه، وبعد صيته، ولي خطابة بجاية، وكان فقيهاً حافظاً عالماً بالحديث وعِلَلِه عارفاً بالرجال موصوفاً بالخير والصلاح والزهد والورع ولزوم السنة والتقلل من الدنيا، مشاركاً في الأدب، وقول الشعر، ولد سنة: ۵۱۰هـ وتوفي بجاية في ربيع الآخر سنة ۵۸۱ هـ. (الموجز عن الأئمة الإعلام الملحقة مع بلوغ المرام للشيخ صفي الرحمن المباركفوري، ص ٤٦۸).
وانظر للمزيد: (الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب: ۱/۱۰۳، لابن فرحون المالكي، وتذكرة الحفاظ للإمام الذهبي: ٤/۹۷، ط: بيروت).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ضعیف ہے؛ ملاحظہ کیجیے:
أخرج الإمام البيهقي في شعب الإيمان (۱۱/٤۷۳/۸۸۵۷) قال: ونا أبو بكر بن أبي الدنيا نا محمد بن قدامة الجوهري نا معن بن عيسى القزاز أنا هشام بن سعد نا زيد بن أسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: إذا مر الرجل بقبر يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام وعرفه وإذا مر بقبر لا يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام. إسناده ضعيف؛ فيه زيد بن أسلم لم يسمع من أبي هريرة رضي الله عنه. قال الإمام الترمذي: ولا نعرف لزيد بن أسلم سماعاً من أبي هريرة رضي الله عنه، وهو عندي حديث مرسل. (سنن الترمذي، رقم: ۳۸۴۶، باب مناقب خالد بن الوليد). وكذا في تاريخ ابن معين: ۳/ ۲۴۴).
یہ روایت موصولاً بھی مروی ہے لیکن صحیح نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو العلل المتناہیہ میں ہے:
أنا أبو منصور القزاز قال: أنا أبو بكر أحمد بن على الحافظ قال: أنا أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله السراج قال: حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم قال: نا الربيع بن سليمان قال: نا بشر بن بكر قال: نا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ قال: ما من عبد يمر على قبر رجل يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام. قال المؤلف: هذا حديث لا يصح وقد أجمعوا على تضعيف عبد الرحمن بن زيد قال: ابن حبان: كان يقلب الأخبار وهو لا يعلم حتى كثر ذلك في روايته من رفع المراسيل وإسناد الموقوف فاستحق الترك. (العلل المتناهية: ۲/۹۱۱).
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت بھی ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو:
عن عائشة رضي الله عنه قال رسول الله ﷺ: ما من رجل يزور قبر حميمه فيسلم عليه ويقعد عنده إلا رد عليه السلام وآنس به حتى يقوم عنده. (ذكره الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، رقم: ۶۰۵۵).
وذكره الغزالي في إحياء العلوم، وقال العراقي: أخرجه ابن أبي الدنيا في القبور وفيه عبد الله بن سمعان ولم أقف على حاله، ورواه ابن عبد البر في التمهيد من حديث ابن عباس رضي الله عنه نحوه وصححه عبد الحق الاشبيلي. (المغني: ٤/۲۷۵/۴۴۳۵، مكتبة طبرية).
مذکورہ بالا حدیث کے چند مؤیدات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب تم قبرستان جاؤ تو مردوں کو خطاب کر کے
"السلام عليكم يا أهل القبور"
کہو، اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کو سلام کا پتا چلتا ہے اور وہ سلام کا جواب بھی دیتے ہیں۔
أخرج الإمام الترمذي بسنده عن ابن عباس رضي الله عنه قال: مر رسول الله ﷺ بقبور المدينة فأقبل عليهم بوجهه، فقال: السلام عليكم يا أهل القبور! يغفر الله لنا ولكم، أنتم سلفنا ونحن بالأثر. قال أبو عيسى: حديث ابن عباس رضي الله عنه حديث حسن غريب. (سنن الترمذي، رقم: ۱۰۵۳).
اگر کوئی یہ کہے کہ السلام علیکم یہ دعا کے معنی میں ہے کہ اللہ تعالی تم سب پر اپنی سلامتی نازل کرے، خطاب کے معنی میں نہیں ہے، تو اصل بات یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہ دعا قبرستان میں پڑھنے کے لیے بتلائی ہے اگر یہ محض دعا ہی ہوتی تو پھر کسی بھی جگہ سے کی جا سکتی تھی، قبرستان جانے کی ضرورت نہ ہوتی، تو معلوم ہوا کہ یہ اصل میں خطاب ہے اور قبرستان والوں کو سلام کرنا ہے۔ علامہ ابن قیم رحمه الله لکھتے ہیں:
وقد شرع النبي ﷺ لا مته إذا سلموا على أهل القبور أن يسلموا عليهم سلام يخاطبونه فيقول: السلام عليكم دار قوم مؤمنين وهذا خطاب لمن يسمع ويعقل ولولا ذلك لكان هذا الخطاب بمنزلة خطاب المعدوم والجماد. (
کتاب الروح، ص ۵)۔
حاشية الطحطاوي
میں مرقوم ہے:
قال ابن القيم رحمه الله: الأحاديث والآثار تدل على أن الزائر حين جاء، علم به المزور، وسمع سلامه، وآنس به، ورد عليه، وهذا في حق الشهداء وغيرهم، وأنه لا توقيت في ذلك. (حاشية الطحطاوي، ص ۶۲۰).
وللمزيد انظر: (كتاب الروح لابن القيم الجوزية، المسألة الأولي وهي هل تعرف الأموات زيارة الأحياء وسلامهم أم لا (۱/۲۳) وشرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور، للإمام السيوطي، باب زيارة القبور وعلم الموتى بزوارهم ورؤيتهم لهم (۸۴) وروح المعاني: ۲/۵۰۷، والتفسير المظهري: ۲/۱۵۳، وفيض الباري: ۲/۴۶۷، وفتح الملهم، وتفسير ابن كثير: ۳/۴۳۸، ونيل الأوطار: ۳/۲۶۴، وسماعِ موتي لمولانا سرفراز خان صاحب).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.