حضرت عائشہ رضی الله عنه کی رخصتی سے متعلق صحیحین کی روایات پر اشکال اور جواب:
Question
اشکال: بعض روشن خیال لوگ صحیحین کی روایات "جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی اور رخصتی کے بارے میں وارد ہوئی ہیں" پر اشکال کرتے ہیں کہ ان کے راوی ہشام عن عروہ ہیں یعنی یہ روایتیں عروہ سے ہشام نے نقل کی ہیں اور ہشام کی مدنی دور کی روایات صحیح ہیں، عراقی دور کی روایات صحیح نہیں ، ان میں خلط و اختلاط ہوا ہے کیوں کہ ان کا حافظہ متغیر ہو چکا تھا؟
Answer
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ حضرت عروہ سے صرف ہشام نقل نہیں کرتے بلکہ ان سے روایت کرنے والے ہشام کے علاوہ؛ عبد اللہ مدنی، امام زہری مدنی، عبد اللہ بن عروہ ہیں، پھر ہشام سے نقل کرنے والے چند حضرات ہیں؛ ابو اسامہ، اسماعیل بن زکریا، عبدہ، عبد الرحمن، علی بن مسہر، سفیان، عبد اللہ بن محمد بن یحیی مدنی، وہیب بن خالد، وکیع، ابو معاویہ اور حماد بن زید۔
نیز حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی فقط عروہ روایت نہیں کرتے بلکہ مزید چند حضرات ہیں جو درجِ ذیل ہیں؛ ابو عبیدہ، اسود، ابو سلمہ بن عبد الرحمن، جابر بن زید، قاسم بن محمد، یحیی بن عبد الرحمن، ابن ابی ملیکہ اور عبد الملک بن عمیر، وغیرہ۔
اگر بالفرض ہشام کی عراقی دور کی روایات کو مختلط تسلیم کر لیا جائے تب بھی ہشام سے مدنی راویوں نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن محمد بن یحیی مدنی ہیں[ اور عروہ سے ہشام کے علاوہ اس حدیث کو نقل کرنے والے؛ ابو الزناد عبد اللہ اور امام زہری یہ دونوں مدنی ہیں]
روات کی تفصیل کے لیے نقشہ ملاحظہ کیجیے:
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.