مردہ کے جسم کو محض تفریحاً دکھانے کے لیے رکھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #160Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

جوہانسبرگ میں مردہ کے جسم کی نمائش ہوتی ہے اس میں اسکول کے بچوں کو دکھایا جاتا ہے کہ بدن کیسے چلتا ہے وغیرہ، تو کیا محض تفریح کے لیے انسانی جسموں کو رکھنا اور دکھانا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

طبی تجربات کے لیے جسمِ انسانی کو رکھنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض حضرات اجازت دیتے ہیں کہ چند جسموں کی وجہ سے سینکڑوں کی جانیں بچ جائیں گی، لیکن بعض علماء اس کی بھی اجازت نہیں دیتے تو محض تفریح کی غرض سے کیسے اجازت دی جا سکتی ہے؟ یہ جسمِ انسانی کی توہین میں داخل ہے اللہ تعالی نے انسان کو محترم و مکرم بنایا ہے اور اس کی اہانت کو گوارا نہیں فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:

ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر ورزقناهم من الطيبات وفضلناهم على كثير ممن خلقنا تفضيلاً. (الاسراء: ۷۰). قال ابن كثير رحمه الله: يخبر تعالى عن تشريفه لبني آدم، وتكريمه إياهم، في خلقه لهم على أحسن الهيئات وأكملها. (تفسير ابن كثير: ۵/۹۷، دار طيبة للنشر والتوزيع).

ابو داود شریف میں روایت ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن رسول الله ﷺ قال: كسر عظم الميت ككسره حياً. (رواه أبو داود، رقم: ۳۲۰۷، وابن ماجه: ۱۶۱٦).
قال الطيبي رحمه الله: فيه إشارة إلى أنه لا يهان الميت كما لا يهان الحي وقال ابن الملك وإلي أن الميت يتألم، وقال ابن حجر رحمه الله: من لوازمه أنه يستلذ بما يستلذ به الحي، قال في الدرجات: روينا في جزء بحديث ابن منيع عن جابر رضي الله عنهم قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ حتى إذا جئنا القبر إذا هو لم يفرغ، فجلس النبي ﷺ على شفير القبر، وجلسنا معه، فأخرج الحفار عظماً ساقاً أو عضداً فذهب ليكسرها، فقال النبي ﷺ: لا تكسرها فإن كسرك إياه ميتاً ككسرك إياه حياً، ولكن دسه بجانب القبر، فاستفدنا منه سبب الحديث، انتهى. (بذل المجهود: ۱۰/۴۹۷، ط: دار البشائر).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلد ششم، از ص ۷۸۲۔ ۷۸۶)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.