امام ابو حنیفہ رحمه الله کی منقبت میں مشہور اشعار کی تحقیق:

5 min readFatwa Vol 8 #195Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

امام ابو حنیفہ رحمه الله کی منقبت میں یہ اشعار مشہور ہیں:
لقد زان البلاد ومن عليها

الخ،
یہ اشعار عبد اللہ بن المبارک کے ہیں یا امام شافعی رحمه الله کے؟ اگر اول الذکر کے ہیں تو پھر دیوانِ امام شافعی میں کیسے آ گئے؟ اور یہ شعر:
فلعنة ربنا أعداد رمل على من رد قول أبي حنيفة
ان میں ہے یا نہیں ؟ اور اگر یہ شعر ان میں موجود ہے تو پھر اس کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مذکورہ بالا اشعار حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمه الله کی طرف مختلف کتابوں میں منسوب ہیں: چند حوالہ جات حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
الوافی بالوفیات۔ (للصفدی
۲۷
/
۹۳
دار احیا التراث)۔
آثار البلاد واخبار العباد۔ (للقزوینی
۱
/
۲۵۲
دار الصادر بیروت)۔
الفہرست لابن ندیم۔ (
۱
/
۲۵۱
دار المعرفۃ بیروت)۔
الدر المختار۔ (
۱
/
۵۹
سعید باکستان)۔
النجوم الزاہرۃ۔ (
۲
/
۱۵
دار الکتب مصر)۔
اور بعض کتابوں میں یہ سند بھی مذکور ہے:

أنشدنا أبو الحسن العباس بن أحمد بن الفضل الهاشمي قال: أنشدنا أحمد بن محمد المنصوري قال: أنشدنا على بن محمد النخعي قال: أنشدنا إسحاق بن إبراهيم بن مقراض قال: أنشدنا سويد بن سعيد المروزي قال: سمعت ابن المبارك يقول:
(أخبار أبي حنيفة وأصحابه للصيمري: ۱/۹۱).

٭

یہ اشعار دیوانِ امام شافعی رحمه الله میں بھی آئے ہیں (ص
٤۵
دار الصادر) لیکن کسی نسخے میں اس کی سند مذکور نہیں ہے، اور ان اشعار کی نسبت امام شافعی رحمه الله کی طرف کرنے سے محققین نے اعتذار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو دکتور احسان عباس لکھتے ہیں:

والمشكلة بالنسبة للقارئ في ما يتعلق بشعر الشافعي هي تمييز ما ثبتت نسبته له، مما نسب إليه وهو لغيره أي أن الدارس لشعر الشافعي يجد أن من الصعب الحكم على شعره لأنه قد اختلط بأشعار كان يتمثل بها الشافعي ويسمعها منه تلامذته، وقد وصلتنا هذه الأشعار مختلطة بشعر صحيح النسبة إلى الشافعي وحين اهتم بعض المعاصرين بجمع شعره لم يميزوا الدخيل من الأصيل في ذلك الشعر وحشدوا كل ذلك معاً ظناً منهم أنه كله صحيح النسبة إلى الإمام الكبير وقد مهدت النظرة التعليمية الأخلاقية لقبول شعر تعليمي كثير وربطه باسم الشافعي حتى امتزج بشعره بعض شعر أبي العتاهية ومحمود الوراق والفقيه المنصور بل وأبيات زهدية تنسب لا بي نواس أو للشاعر الخارجي عمرو القنا العنبري وغيرهم لهذا أصبح تخليص شعر الشافعي من غيره أمراً عسيراً وإني لا عجب من دارس كتب كتاباً في دراسته الناحية الفنية في شعر الشافعي، كيف تأتي له تخليص شعره من غيره، وحسب أي معيار. (مقدمة ديوان الشافعي مكتبة دار الصادر بيروت).

خلاصہ یہ ہے کہ بہت سی مرتبہ شعرا کی مجلس میں بیٹھنے والے اس مغالطہ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ شاعر کے خواندہ اشعار کو شاعر کے بنائے ہوے اشعار تصور کرتے ہیں؛ بلکہ جو اشعار کی حقیقت سے واقف نہ ہوں وہ شاعر کے نثر کو بھی نظم کہتے ہیں یہی معاملہ امام شافعی رحمه الله کے دیوان کے ساتھ بھی ہوا ہے۔
٭ اور یہ شعر:
فلعنة ربنا

الخ،
بعض نسخوں میں موجود نہیں ہے۔ اور الفاظ اور قواعد شعریہ کو مد نظر رکھتے ہوے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ شعر اس قصیدے کا حصہ نہیں ہے۔
ہاں بعض نسخوں میں موجود ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص امام صاحب رحمه الله کے قول کو حقارت و اہانت کے ساتھ رد کر دے تو اس پر رب کی طرف سے پھٹکار نازل ہو، کیوں کہ یہ احکامِ شرعیہ کی توہین کے مترادف ہے؛ ورنہ فقہاء ایک دوسرے کے اقوال احترام کے ساتھ رد کرتے ہی رہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

أي على من رد ما قاله من الأحكام الشرعية محتقراً لها فإن ذلك موجب للطرد والإبعاد لا بمجرد الطعن في الاستدلال لأن الأئمة لم تزل يرد بعضهم قول بعض ولا بمجرد الطعن في الإمام نفسه، لأن غايته الحرمة فلا يوجب اللعن، لكن ليس فيه لعن شخص معين فهو كلعن الكاذبين ونحوهم من العصاة فافهم. وفي هذا البيت من عيوب الشعر الإيطاء على أنه لم يذكره في تنوير الصحيفة كما قاله ابن عبد الرزاق. (مقدمة رد المحتار ٦۳، ط: سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.