مسلمان بچی کا نام فریال رکھنے کا حکم:
Question
مسلمان بچی کا نام فریال رکھنا درست ہے یا نہیں ؟ اور اس کا کیا معنی ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ فریال فارسی لفظ ہے اور دراصل فاء کے فتحہ کے ساتھ آتا ہے، جو فر اور یال سے مرکب ہے، فر کے معنی: نور، حسن و جمال وغیرہ کے آتے ہیں اور "یال" کے معنی فارسی میں گردن، چہرہ وغیرہ کے ہیں تو اب فریال کے معنی ہوں گے خوبصورت چہرے والی، لہذا شرعاً فریال نام رکھنا جائز اور درست ہے۔
قال في "المعجم الذهبي": فَر: نور، شأن، مكانة، حسن، جمال
ويال: عنق، عضد، ابن، وجه، شجاع
(المعجم الذهبي، ص ٤۲۵، ٦۱۸).
لغاتِ کشوری میں مرقوم ہے: فر: شان، شوکت، دبدبہ، نور، ویال: گردن مجاز گھوڑے کی گردن کے بال۔ (لغاتِ کشوری، ص
۳٤۳
،
۵۷۹
)۔
قاموس الفارسیہ میں مذکور ہے: فر: عظمت، جمال، لیاقت، قدرت۔ (
٤۸۹
،
۸۲٦
)۔
موسوعة الأسماء ومعانيها: فريال: التي جاء ت بأمر عجيب وغريب محير
(۱۰۱).
ترجمہ: فریال، جو حیرت انگیز کارنامے انجام دے۔
خلاصہ یہ ہے کہ فریال کے معنی: خوبصورت، اور حیرت انگیز کارنامے انجام دینے والی، یا شان و شوکت والی لڑکی کے ہیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.