مسلمانوں کی دعاؤں کے قبول نہ ہونے کے اسباب اور صوبہ سندھ کی فتح کی سر گزشت:

17 min readFatwa Vol 8 #233Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

بعض غیر مسلم ممالک میں بے حد ظلم ہوتا رہتا ہے، میں نے علما سے سنا ہے کہ مظلوم کی دعا رد نہیں ہوتی ہے، مظلومین دعائیں کرتے رہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ظالموں پر آفت نہیں پڑتی، کیا یہ دعائیں رائگاں جاتی ہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ فوری طور پر دعا قبول نہ ہونے کے کچھ اسباب ہیں، نیز دعا کی قبولیت کی مختلف شکلیں ہیں؛ کبھی اس کی وجہ سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے، کبھی آخرت کے لیے ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، وغیرہ۔ نیز دعا کی قبولیت کی کچھ شرائط بھی ہیں، ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو گی تو دعا قبول نہ ہو گی، باقی مظلومین کی مدد و نصرت کا اللہ تعالی نے وعدہ فرمایا ہے لیکن ایفائے وعدہ کے لیے کوئی وقت متعین نہیں فرمایا۔
قبولیتِ دعا کے چند اسباب و شرائط حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
۱۔ کبھی ظالموں کو مہلت دی جاتی ہے، اس مہلت کے درمیان ان کا ظلم و ستم حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اور مسلمانوں کی آزمائش اور کچھ مصالح کی وجہ سے نصرت کو مؤخر کیا جاتا ہے۔
ملاحظہ ہو؛ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن میں فرماتے ہیں:
اللہ جل شانہ اپنی رحمت و حکمتِ بالغہ سے بسا اوقات مجرم قوموں کو مہلت دیتے ہیں، اور یہ مہلت بسا اوقات بڑی طویل بھی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے سرکشوں کی جرأت بڑھ جاتی ہے اور پیغمبروں کو ایک گنا پریشانی پیش آتی ہے (اللہ تعالی نے) ارشاد فرمایا:
﴿حتي إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا جاء هم نصرنا فنجي من نشاء ولا يرد بأسنا عن القوم المجرمين﴾ [يوسف: ۱۱۰]
یعنی پچھلی اُمتوں کے نا فرمانوں کو بڑی بڑی مہلتیں دیں، یہاں تک کہ مدتِ دراز تک ان پر عذاب نہ آنے سے پیغمبر یہ خیال کر کے مایوس ہو گئے کہ اللہ تعالی کے اجمالی وعدۂ عذاب کا جو وقت ہم نے اپنے انداز سے اپنے ذہنوں میں مقرر کر رکھا تھا اس وقت میں کفار پر عذاب نہ آئے گا اور حق کا غلبہ ظاہر نہ ہو گا اور ان پیغمبروں کو گمانِ غالب ہو گیا کہ وعدۂ الہیہ کا اپنے اندازے سے وقت مقرر کرنے میں ہماری فہم نے غلطی کی ہے کہ اللہ تعالی نے کوئی متعین وقت بتلایا نہیں تھا، ہم نے مخصوص قرائن سے ایک مدت متعین کر لی تھی اسی مایوسی کی حالت میں ان کو ہماری مدد پہنچی

الخ۔ (معارف القرآن:
۵
/
۱٤۹
)۔
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿الٓمٓ، أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا آمنا وهم لا يفتنون، ولقد فتنا الذين من قبلهم فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين﴾ [العنكبوت: ۱، ۳)،
اس آیت کے شانِ نزول میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مصالح کی وجہ سے اللہ تعالی مدد کو مؤخر کرتے ہیں۔

عن خباب بن الأرت قال: شكونا إلى رسول الله ﷺ وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة فقلنا: ألا تستنصر لنا ألا تدعونا؟ فقال: قد كان من قبلكم يؤخذ الرجل فيحفر له في الأرض فيجعل فيها فيجاء بالمنشار فيوضع على رأسه فيجعل نصفين، ويمشط بأمشاط الحديد ما دون لحمه وعظمه فما يصده ذلك عن دينه، والله ليتمن هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضر موت لا يخاف إلا الله والذئب على غنمه ولكنكم تستعجلون. (صحيح البخاري، رقم: ٦۹٤۳).

ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اگر چہ کچھ مصالح کی وجہ سے تاخیر ممکن ہے۔
ولو بعد حين. (
سنن الترمذی، رقم:
۳۵۹۸
)۔
۲۔ کبھی غیر مسلم ممالک ایک جگہ کے مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ اپنے ملک میں مسلمانوں کو خوب راحت پہنچاتے ہیں اور ان مسلمانوں کی قلبی ہمدردی کی وجہ سے ظالم دنیا میں یا کچھ مدت کے لیے محفوظ رہتے ہیں، مثلاً: حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو کپڑا پہنائے وہ اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے جب تک اس کے بدن پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا باقی رہے۔ ترمذی شریف میں ہے:

عن حصين قال: جاء سائل فسأل ابن عباس رضي الله عنه، فقال ابن عباس رضي الله عنه للسائل: أتشهد أن لا إله إلا الله؟ قال: نعم، قال: أتشهد أن محمداً رسول الله؟ قال: نعم، قال: وتصوم رمضان؟ قال: نعم، قال: سألت وللسائل حق، إنه لحق علينا أن نصلك، فأعطاه ثوباً ثم قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: ما من مسلم كسا مسلماً ثوباً إلا كان في حفظ من الله ما دام منه عليه خرقة. هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه. (سنن الترمذي، رقم: ۲٤۸٤).

۳۔ قبولیتِ دعا کے مختلف طریقے ہوتے ہیں: ممکن ہے کہ جو ظالم ظلم کرتے ہیں ان کے مقابلہ میں اگر مسلمانوں کو حکومت مل جائے تو وہ ان سے بھی بڑے ظالم ہوں گے تو بڑے ظالم سے بچانا بھی دعا کی قبولیت کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد میں روایت ہے:

عن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث؛ إما أن تعجل له دعوته، وإما أن يدخرها له في الآخرة، وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها، قالوا: إذا نكثر، قال: الله أكثر. (مسند الامام أحمد: ۱۷/۲۱۳/۱۱۱۳۳). (وكذا في المستدرك للحاكم، قال الحاكم: هذا حديث صحيح الاسناد الا ان الشيخين لم يخرجاه عن على بن على الرفاعي: ۱/٦۷۰/۱۸۱٦).

٤۔ کبھی بعض مصالح کی وجہ سے ظالم کی پکڑ آخرت کے لیے رکھی جاتی ہے اور دنیا میں ظالم عیاشی کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿ولا تحسبن الله غافلاً عما يعمل الظالمون إنما يؤخرهم ليوم تشخص فيه الأبصار﴾ [إبراهيم: ٤۲]،
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور ہر مظلوم کی تسلی اور ظالم کے لیے سخت عذاب کی دھمکی ہے کہ ظالم اور مجرم لوگ اللہ تعالی کی ڈھیل دینے سے بے فکر نہ ہو جائیں، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالی کو ان کے جرائم کی خبر نہیں ، اس لیے باوجود جرائم کے وہ پھل پھول رہے ہیں، کوئی عذاب و مصیبت ان پر نہیں آتی، بلکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں سب اللہ تعالی کی نظر میں ہے، مگر وہ اپنی رحمت اور حکمت کے تقاضے سے ڈھیل دے رہے ہیں۔ (معارف القرآن:
۵
/
۲۵۹
)۔
۵۔ کبھی دعاؤں کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں، چند شرائط درجِ ذیل ہیں:
(۱) کھانا، پینا، لباس وغیرہ کا حلال اور طیب ہونا؛
صحیح مسلم شریف میں روایت ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيباً، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: ﴿يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً، إني بما تعملون عليم﴾ [المؤمنون: ۵۱]، وقال: ﴿يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم﴾ [البقرة: ۱۷۲]، ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب، ومطمعه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام، فأني يستجاب لذلك. (صحيح مسلم: ۲/۷۰۳. ۱۰۱۵).

(۲) امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے رہنا؛ ترمذی شریف میں ہے:
عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عقاباً منه ثم تدعونه فلا يستجاب لكم. هذا حديث حسن. (سنن الترمذي، رقم: ۲۱٦۹).

(۳) ہمیشہ دعا کرتے رہنا، اسباب اختیار کرتے ہوئے اللہ کی مدد کا منتظر رہنا اور مایوس اور نا امید نہ ہونا؛
صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: يستجاب لا حدكم ما لم يعجل، يقول: دعوت فلم يستجب لي. (صحيح البخاري، رقم: ٦۳٤۰).

صحیح مسلم شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ أنه قال: لا يزال يستجاب للعبد ما لم يدع بأثم أو قطيعة رحم ما لم يستعجل قيل: يا رسول الله! ما الاستعجال؟ قال: يقول: قد دعوت، وقد دعوت فلم أر يستجيب لي فيستحسر عند ذلك ويدع الدعاء. (صحيح مسلم، رقم: ۲۷۳۵).

٦۔ کبھی مسلمانوں کو غفلت اور ترکِ اسباب کی سزا دی جاتی ہے اور دعا قبول نہیں ہوتی، جیسے اگر کوئی شادی نہ کرے اور اولاد کی دعا کرتا رہے تو دعا قبول نہیں ہو گی، اسی طرح مظلوم لوگ دعا کرتے رہتے ہیں لیکن مسلمان حکم ران ظالم کو دفع کرنے اور ظالم کو سزا دینے کے اسباب اختیار نہیں کرتے، اور مظلوم ظلم میں پستے رہتے ہیں۔ مثلاً: راجہ داہر کی پبلک نے جب عراقی مسلمانوں پر ظلم کر کے ان کو لوٹا اور مظلوم نے دعا کی اور حجاج بن یوسف عراق کے گورنر کو یاد کیا تو انہوں نے مظلوم کی دعاؤں کے ساتھ اسباب کو بروئے کار لا کر ظالموں کا قلع قمع کیا۔
فاعتبروا يا أولي الأبصار
۔
سندھ سے مسلم خاتون کی فریاد پر حجاج بن یوسف کا عراق سے لبیک کہنا:
واقعہ کی تفصیل درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
کچھ مسلمان سوداگر جزیرۂ سراندیپ میں بحالتِ سفر فوت ہو گئے تھے، ان کے یتیم بچے اور بیوہ عورتیں جو اس جزیرہ میں رہ گئی تھیں، ان کو سراندیپ کے راجہ نے حجاج بن یوسف ثقفی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک کی عنایت اور مہربانی اپنی طرف مبذول کرنے کے لیے بہترین ذریعہ سمجھا، سراندیپ کا راجہ مسلمانوں کی فتوحات کا حال سن سن کر پہلے سے مرعوب اور اپنی نیاز مندی کے اظہار کی غرض سے کسی ذریعہ اور حیلہ کا متلاشی تھا، چنانچہ اس نے یتیم بچوں اور بیواؤں کو تعظیم و تکریم کے ساتھ اپنے معتمدوں کے ساتھ اپنے خاص جہازوں میں بٹھا کر حجاج کے پاس روانہ کیا، بہت قیمتی تحائف اور ہدیے حجاج اور خلیفہ ولید کے لیے بھیجے اور ان یتیموں اور بیواؤں سے امید رکھی کہ یہ ضرور میری تعریف حجاج سے کریں گے۔
کشتیاں سراندیپ سے روانہ ہو کر ساحل کے قریب قریب سفر کرتی ہوئی خلیج فارس کی طرف روانہ ہوئیں کہ وہاں سے خشکی پر اتر کر معہ تحفہ اور ہدایا حجاج کی خدمت میں کوفہ پہنچیں گے، راستے میں بادِ مخالف کے طوفان نے ان کشتیوں کو سندھ کے بندر گاہ دَیبل میں لا ڈالا، یہاں سندھ کے راجہ مسمی داہر کے سپاہیوں نے ان کشتیوں کو لوٹ لیا اور سواروں کو قید کر لیا، یہ حال جب حجاج کو معلوم ہوا تو اس نے سندھ کے راجہ کو لکھا کہ وہ کشتیاں ہمارے پاس آ رہی تھیں، تم لٹیروں کو قرار واقعی سزا دو اور کشتیوں کے آدمیوں کو معہ سامانِ سفر مسروقہ ہمارے پاس بھیج دو، یہاں سے راجہ نے حجاج کو نہایت مغرورانہ اور نامعقول جواب لکھا، حجاج نے اولاً عبد اللہ اسلمی کو چھ ہزار فوج کے ساتھ سندھ کی طرف روانہ کیا، عبد اللہ سندھ پہنچ کر راجہ داہر کی فوج کا مقابلہ کرتا ہوا شہید ہو گیا، اور یہ مہم ناکام رہی، دوسری مرتبہ حجاج نے بدیل نامی سردار کو مامور کیا، وہ بھی چھ ہزار فوج لے کر بدیل پہنچ گیا مگر راجہ جیب کے مقابلہ میں لڑتا ہوا گھوڑے سے گر کر شہید ہو گیا، اس خبر کو سن کر حجاج کو اور بھی زیادہ ملال ہوا۔
تیسری مرتبہ محمد بن قاسم کو جو اس کا داماد بھی تھا اور چھبیس، ستائیس سال کی عمر کا نوجوان تھا، چھ ہزار شامی فوج کے ساتھ سندھ کی طرف روانہ کیا محمد بن قاسم کے ساتھ اس مرتبہ شامی سپاہی اس لیے بھیجے گئے کہ حجاج کو اس بات کا شبہ تھا کہ عراقی اور ایرانی سپاہی، مشرکین سے ساز باز رکھتے ہیں، محمد بن قاسم نے اول صوبہ مکران کو جس پر مشرکین نے قبضہ کر رکھا تھا فتح کر کے مشرکین کو بھگایا، پھر دیبل پہنچ کر شہر کا محاصرہ کیا، اپنی فوجوں کے آگے خندق کھودی اور بہادرانِ اسلام کی صفیں ترتیب کے ساتھ قائم کر دیں، منجنیق بھی مناسب مقامات پر نصب کر دی گئیں، وسط شہر میں ایک بہت بڑے مندر میں بدھ کا بت تھا، مندر کی شاندار عمارت پر ایک بہت بڑا مینار بنا ہوا تھا، مینار کے برج پر ایک بہت بڑا سرخ جھنڈا نصب تھا، منجنیق سے اس کو گرایا، تو اہل شہر کی ہمتیں پست ہو گئیں، پھر مسلمانوں نے جوش و خروش کے ساتھ شہر پر حملہ کیا اور فتح کر لیا، پھر نیرون اور برہمن آباد کی طرف بڑھا وہاں کے حاکم نے مصالحت کر لی، اب محمد بن قاسم نے سندھ کی طرف پیش قدمی کی جہاں راجہ داہر تھا، راجہ داہر کے پاس نہ صرف ایرانی لوگ پناہ گزیں تھے بلکہ بہت سے عرب لوگ بھی جو خلیفہ وقت یا عمالِ خلافت سے باغی ہو کر بھاگے تھے، سندھ میں راجہ داہر کے پاس پناہ گزیں تھے، اس لیے بھی سندھ پر حملہ کرنا ناگزیر تھا، راجہ داہر دریائے سندھ کے کنارے دوسرے راجاؤں کے ساتھ عظیم الشان لشکر کے ساتھ تھا، سندھ میں مقابلہ ہوا، مشرکین کی فوج کے آگے ہاتھی صف باندھے کھڑے تھے، خود راجہ داہر بھی صف کے درمیان ایک سفید ہاتھی پر سوار فوج کی کمان کر رہا تھا، دونوں کے درمیان خونریز لڑائی ہوئی، بالآخر راجہ داہر قتل کیا گیا، اور محمد بن قاسم رحمه الله کو فتح حاصل ہوئی، اس کے بعد محمد بن قاسم نے یکے بعد دیگرے سندھ کے شہروں کو فتح کرنا شروع کیا حتی کہ تمام ملک سندھ اور ملتان اس کے ہاتھ پر فتح ہوا، سندھ کی فتح میں حجاج کی توجہ پورے طور پر محمد بن قاسم کی طرف مبذول رہی، وہ روزانہ خبریں منگواتا اور روزانہ محمد بن قاسم کو ہدایات بھیجتا تھا۔
محمد بن قاسم نے اپنے آپ کو سندھیوں کے لیے نہایت شفیق اور رحم دل فاتح اور رعایا پرور حکم ران ثابت کیا، اس نوجوان فتح مند نے جس رواداری، بردباری، سیر چشمی اور عطا کا اظہار کیا اس کی مثال تاریخِ اسلام میں بہت ہی کم دستیاب ہو سکتی ہے۔ (مستفاد از تاریخ اسلام:
۲
/
۱۷۰
، و تاریخ ملت: /
٦۰۲
، و اسلامی ہند کی عظمتِ رفتہ، ص
107
)۔
فتوح البدان میں ہے:

فحدثني منصور بن حاتم قال: داهر والذي قتله مصوران ببروص. (فتوح البلدان، ص ٤۱۹).

یعنی منصور بن حاتم کا بیان ہے کہ بھروچ میں راجہ داہر اور اس کے قاتل دونوں کی تصویر بنا کر یادگار قائم کی گئی۔ (اسلامی ہند کی عظمتِ رفتہ، ص
111
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.