شر سے بچنے والی دعاؤں کے باوجود شر سے نہ بچ سکنا:
Question
شر سے بچنے والی دعاؤں کے پڑھنے کے باوجود کسی کے شر سے نہ بچ سکنا اس کی کیا وجہ ہے؟
Answer
دعا کی مقبولیت میں اللہ کے ساتھ حسن ظن اور یقین کو بڑا دخل ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم اللہ تعالی سے اس طرح دعا کرو کہ تمہیں اس کے قبول ہونے کا یقین ہو۔
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: القلوب أوعية بعضها من بعض فإذا سألتم الله عز وجل أيها الناس فسلوه وأنتم موقنون بالإجابة فإن الله لا يستجيب لعبد دعاه عن ظهر قلب غافل. [رواه أحمد وإسناده حسن]. (مجمع الزوائد: ۱۰/۱٤۸).
دوسری حدیث میں ہے کہ بندے کی ہر دعا قبول ہوتی ہے بشرطیکہ جلد بازی سے کام نہ لے۔ عرض کیا گیا کہ جلد بازی کا کیا مطلب؟ ارشاد فرمایا جلد بازی یہ ہے کہ آدمی یہ سوچنے لگے کہ میں نے بہت دعائیں کیں مگر قبول ہی نہیں ہوتیں اور تھک کر دعا کرنا ہی چھوڑ دے۔ (رواہ مسلم، رقم:
۲۷۳۵
)۔
حضرت مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ تعالی اپنے ایک ملفوظ میں فرماتے ہیں: "دعا کی حقیقت ہے اپنی حاجتوں کو بلند بارگاہ میں پیش کرنا پس جتنی بلند وہ بارگاہ ہے اتنا ہی دعا کے وقت دل کو متوجہ کرنا اور الفاظ تضرع و زاری سے ادا کرنا چاہیے۔ اور یقین و اذعان کے ساتھ دعا کرنا چاہیے کہ ضرور قبول ہوگی۔ کیونکہ جس سے مانگا جا رہا ہے وہ بہت سخی اور کریم ہے۔ اپنے بندوں پر رحیم ہے، زمیں و آسمان کے خزانے سب اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔" (ملفوظات از حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ، ص
۵۵
)۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
سوال: ماثور دعائیں پڑھنے کا اثر کیوں نہیں ہوتا؟
جواب: آنحضرت ﷺ کا فرمودہ بر حق ہے لیکن بعض اوقات ہمارے ان دعاؤں کے پڑھنے میں جیسا استحضار ہونا چاہیے وہ نہیں ہوتا اور کبھی ہمارے اعمال بد اس مقصد سے مانع ہو جاتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ اطبا ایک دوا کی خاصیت بیان کرتے ہیں جس کا بار ہا تجربہ ہو چکا ہے لیکن کبھی دوا کا وہ مطلوب اثر ظاہر نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوا اثر نہیں رکھتی بلکہ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ کوئی عارض مانع ہو جاتا ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۲۹
)۔
پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قبولیتِ دعا کی صرف ایک شکل نہیں ہوتی۔ مسند احمد میں ایک حدیث ہے۔
"نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب بھی بندۂ مسلم دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو اس دعا کی برکت سے تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور عطا فرماتے ہیں یا تو جو کچھ اس نے مانگا وہی عطا فرما دیتے ہیں یا اس کی دعا کو ذخیرۂ آخرت بنا دیتے ہیں یا اس دعا کی برکت سے اس شخص سے کسی آفت کو ٹال دیتے ہیں۔"
یا مطلوب سے بہتر چیز ملتی ہے جیسے حضرت مریم کی والدہ نے بیت المقدس کی خدمت کے لیے بچہ مانگا تھا ان کو حضرت مریم مل گئی جو مذکر خادم سے بہت افضل تھیں۔
عن أبي سعيد أن النبي ﷺ قال: ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث: إما أن تجعل له دعوته وإما أن يدخرها له في الآخرة وإما أن يصرف عنه السوء مثلها، قالوا: إذا نكثر، قال: الله أكثر. (أخرجه الإمام أحمد في مسنده، رقم: ۱۱۱٤۹). قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده جيد.
قال الهيثمي في المجمع (۱۰/۱٤۸): رواه أحمد وأبو يعلي بنحوه والبزار والطبراني في الأوسط ورجال أحمد وأبي يعلي وأحد إسنادي البزار رجاله رجال الصحيح غير علي بن علي الرفاعي وهو ثقة.
حاصل یہ کہ دعائیں تو ضرور قبول ہوتی ہیں لیکن قبولیت کی شکلیں مختلف ہیں۔ اس لیے بندہ کا فرض ہے کہ اللہ تعالی سے مانگتا رہے اور پورا اطمینان رکھے کہ اللہ تعالی اس کے حق میں بہتر معاملہ فرمائیں گے۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.