دعائے جمیلہ کا حکم:
Question
عام لوگوں میں دعاؤں کا ایک رسالہ مروج ہے جس کو دعائے جمیلہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جمیلہ کون ہے یا کیا ہے؟ اور یہ دعا کس کی طرف منسوب ہے؟ اور کیا اس کی نسبت صحیح ہے یا نہیں؟ نیز اس کے الفاظ قابل اعتراض ہیں یا قابل تحسین؟ بینوا توجروا۔
Answer
دعائے جمیلہ کے نام سے جو رسالہ شائع ہے اس میں جمیلہ کے بارے میں ہمیں تحقیق نہیں ہے کہ کون ہے یا کیا ہے، ممکن ہے کہ خوبصورت دعاؤں کے معنی مستعمل ہو۔ لیکن رسالہ کی ابتدا میں جو فضائل بیان کیے گئے ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں:
جو کوئی بعد نمازِ فجر کے پڑھے تین سو حج کا ثواب پائے برابر حضرت آدم علیہ السلام کے اور جو کوئی بعد نمازِ ظہر کے پڑھے پانچ سو حج کا ثواب پائے برابر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اور جو کوئی بعد نمازِ عصر پڑھے ثواب سو حج کا پاوے برابر حضرت یونس علیہ السلام کے اور جو کوئی بعد نمازِ عشاء کے پڑھے ثواب ہزار حج کا پائے برابر حضرت موسی علیہ السلام کے اور جو کوئی بعد نمازِ تہجد کے پڑھے لاکھ حج کا ثواب پائے برابر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے، اگر کوئی شک کرے تو نفع نہ پائے۔
ایک روایت ہے کہ ایک دن حضرت رسالت پناہ ﷺ مسجدِ نبوی میں بیٹھے تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا یا رسول اللہ حق تعالی سلام فرماتے ہیں اور یہ دعائے جمیلہ آپ کی امت کے لیے بھیجی ہے، حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس کا ثواب کتنا ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ جواس کو پڑھے یا اپنے پاس رکھے اگر چہ اس کے گناہ مانندِ کفِ دریا یا مثل ریت جنگل یا موافق درختوں کے پتوں کے ہوں حق تعالی بخش دے گا اور وقتِ جان کندنی اپنے یدِ قدرت سے خاتمہ بالخیر کرے گا اور قبر میں ایک فرشتہ قیامت تک اس کی حفاظت کرے گا اور جو کوئی پندرہویں رمضان کو روزہ کھولنے کے وقت پڑھے گا یا پڑھنا نہ جانتا ہو تو اپنے ہاتھ میں رکھے گا اور گیارہ مرتبہ درود شریف: "
اللهم صل على سيدنا محمد وعلي آل سيدنا ومولنا محمد وبارك وسلم برحمتك يا أرحم الراحمين"
۔ با وضو پڑھے گا تو ثواب بے حد و بے شمار پائے گا اور جو حاجت رکھتا ہو اللہ تعالی اس کو پورا کرے گا اگر ساری عمر میں ایک دفعہ پڑھے یا اپنے پاس رکھے قیامت کے دن آسانی سے پل صراط سے گزر کر جنت میں داخل ہوگا، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا یا رسول اللہ ڈراؤ اپنی امت کو دوزخ کی آگ سے فضیلت اس دعا کی بیان کرو تو تمام خلقت نماز روزہ چھوڑ دے اور جو کوئی اس دعا کو پڑھے یا اپنے پاس رکھے اس پر جادو اثر نہ کرے اور دشمن دوست ہوں اور جو کوئی اس دعا کو پڑھے یا اپنے پاس رکھے اس کا منہ قیامت کے دن مانند چاند کے روشن ہوگا اور قضا نماز کا کفارہ ہو اور سفر میں نماز کی سستی نہ ہو اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھے گا تو لوگ کہیں گے کہ یہ کون سا پیغمبر ہے؟ تو حق تعالی فرمائے گا یہ پیغمبر نہیں اس شخص نے دنیا میں دعائے جمیلہ کو صدق دل سے پڑھا تھا اس سبب سے یہ نعمت اور رحمت اس کے لیے ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالی اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ (رسالہ دعائے جمیلہ)۔
اس فضیلت کی نسبت حضور ﷺ کی طرف صحیح نہیں ہے، یہ موضوع ہے، اس فضیلت کو مدِ نظر رکھتے ہوے اس دعا کا پڑھنا درست نہیں، اگر چہ اس دعا میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو قابل اعتراض یا موہمِ شرک ہو لیکن قرآن و احادیث کی مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ملاحظہ ہو شیخ ابراہیم حلبی (م
۹۵٦
ھ) اس قسم کی دعاؤں کے بارے میں فرماتے ہیں:
موضوع باطل لا أصل له ولا يجوز العمل به ولا نقله إلا لبيان بطلانه كما هو شأن الأحاديث الموضوعة ويدلك على وضعه ركاكته والمبالغة الغير الموافقة للشرع والعقل فإن الأجر على قدر المشقة شرعاً وعقلاً وأفضل الأعمال أحمزها وإنما قصد بعض الملحدين بمثل هذا الحديث إفساد الدين وإضلال الخلق وإغراء هم بالفسق وتثبيطهم عن الجد في العبادة فيغتر به بعض من ليس له خبرة بعلوم الحديث وطرقه ولا ملكة يميزها بين صحيحه وسقيمه، قال الربيع بن خيثم: إن للحديث ضوء مثل ضوء النهار يعرفه وظلمة كظلمة الليل تنكره. وقال ابن الجوزي: إن الحديث المنكر يقشعر منه جلد الطالب للعلم وينفر منه قلبه في الغالب انتهى. (شرح منية المصلي، ص ٦۱۷، فصل في مسائل شتى، ط: سهيل).
اس رسالہ کے آخر میں "دعا دفع وبا" کے نام سے جو دعا لکھی گئی ہے اس کے بارے میں مفتی کفایت اللہ صاحب (
۱۲۹۲
۔
۱۳۷۲
ھ) فرماتے ہیں:
یہ کلمات غالباً شیعوں نے بنائے ہیں سنیوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے کہ یہ موہمِ شرک ہیں۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۵۸
) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
یہ کام یقیناً شیعہ فرقے کا ہے اور اس کا مضمون اہل سنت کے عقائد کے موافق نہیں ہے۔ (کفایت المفتی:
۹
/
٦۳
، دار الاشاعت)۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.