دعائے قنوت میں غلطی کی وجہ سے فسادِ نماز کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #135Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۵): قراءت و تجوید اور قاری کی لغزشوں کا بیان

Question

ایک شخص نماز پڑھا رہا تھا نماز میں بعض ملکی حالات کی وجہ سے قنوتِ نازلہ پڑھنا شروع کیا اس میں بعض کلمات تبدیل ہو گئے جس سے معنی بدل گئے مثلاً
"وقنا شرما قضيت"
کی جگہ "
وقنا خير ما قضيت"
پڑھا کیا اس کی وجہ سے نماز فاسد ہوگی یا نہیں؟ قراءتِ قرآن میں بندہ کو مسئلہ معلوم ہے کہ معنی بدل جانے سے نماز فاسد ہوتی ہے، کیا یہ قاعدہ دعاؤں میں بھی جاری ہے یا نہیں؟

Answer

فقہاء کی بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ معنی کے بدلنے سے نماز کا فاسد ہونا قراءت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ دعاؤں اور تسبیحات میں بھی فحش غلطی سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، بایں وجہ بصورتِ مسئولہ نماز فاسد ہو گئی اعادہ کر لیا جائے ۔

(وقنت فيه) ويسن الدعاء المشهور، ويصلي على النبي ﷺ به يفتي

ونحفد بدال مهملة بمعنى نسرع فإن قرأ بذال معجمه فسدت خانية لأنه كلمة مهملة.
وفي الشامية: كذا في البحر لكن فيه أنه ورد صفة البراق "له جناحان يحفذبهما" أي يستعين على السير. وفي تقريرات الرافعي: قلت: الذي في صفة البراق إنما هو بزاي معجمة في آخره كما في مجمع بحار الأنوار وغيره لا بذال منقوطة. (الدر المختار مع رد المحتار مع التحرير المختار: ۲/۷، سعيد).

فتاوی شامی میں ہے:

السنة في تسبيح الركوع سبحان ربي العظيم إلا إن كان لا يحسن الظاء فيبدل به الكريم لئلا يجري على لسانه العزيم فتفسد به الصلاة كذا في شرح درر البحار فليحفظ فإن العامة عنه غافلون حيث يأتون بدل الظاء بزاي مفخمة. (رد المحتار: ۱/٤۹٤، سعيد).

نیز فقہاء نے زلۃ القاری کے تحت تشہد اور دعاؤں سے متعلق بعض جزئیات ذکر فرمائی ہیں اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ فسادِ صلوٰۃ کا حکم قراءت کے ساتھ خاص نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

نوع آخر في زلة القاري، وسئل الوبري عمن قرأ في صلاته: ربنا لك الهمد بالهاء فقال: لا تفسد صلاته إن شاء الله تعالى. (الفتاوى التاتارخانية: ۲، رقم المسألة: ۱۸۲٦، ط: ديوبند).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

وإذا قرأ التحيات لله بالطاء أو قرأ الدحيات لله بالدال قال القاضي الإمام: لا تفسد صلاته،

ولو قرأ: اللهم سل بالسين لا تفسد صلاته. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۱٤۱، ۱٤۳، فصل في قراءة القرآن خطأ).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.