درودِ تاج کے پڑھنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 1 #201Urdu
Vol. 1كتاب السلوك والطريقةباب ٢: اذکار و وظائف اور ادعیہ کا بیان

Question

درود تاج کا پڑھنا کیسا ہے اس کے مصنف کے بارے میں کیا معلومات ہیں؟

Answer

کفایت المفتی میں ہے:
"درودِ تاج اور دعائے گنج العرش کی اسناد بے اصل ہیں" ۔ (کفایت المفتی:
۲
/
۹۹
، ط: دار الاشاعت) ۔
جاننا چاہیے کہ درود تاج کوئی ایسا درود نہیں ہے جو آنحضرت ﷺ سے مروی ہو۔ جبکہ اس کے بعض جملے بھی مفہوم کے لحاظ سے قابل اعتراض ہیں۔ اس سے بہتر وہ درود ہیں جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہیں مثلاً جیسے نماز میں پڑھا جانے والا درود افضل درودوں میں سے ہے۔ درود تاج کا پڑھنا گناہ نہیں لیکن دوسرے ماثور درود اس سے افضل ہیں۔ فتاوی رشیدیہ میں ہے۔
"اس درود شریف کے جو کچھ فضائل بعض جاہل لوگ بیان کرتے ہیں بالکل غلط ہیں اور اس کا درجہ بجز شارع علیہ السلام کے یہاں فرمانے کے معلوم ہونا محال ہے۔ اور اس درود کی تالیف صدہا سال گزرنے کے بعد ہوئی ہے پس کس طرح درود کے اس صیغے کو باعث ثواب قرار دے سکتے ہیں اور صحیح حدیث میں جو درود کے صیغے آئے ہیں ان کو چھوڑنا اور اس میں بہت کچھ ثواب کی امید رکھنا اور اس کا ورد کرنا گمراہی و بدعت ہے اور چونکہ اس میں کلماتِ شرکیہ بھی ہیں اندیشہ عوام کے عقیدے کی خرابی کا ہے لہذا اس کا پڑھنا ممنوع ہے پس درود تاج کی تعلیم دینا ایسا ہی ہے کہ عوام کو زہر قاتل دے دیا جائے۔ کیونکہ بہت سے آدمی عقیدۂ شرکیہ کے فساد میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔" (فتاوی رشیدیہ: ص
۱٤۳
، و تالیفات رشیدیہ: ص
۱٤۹
) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"ابتداء معلوم نہیں کس نے ایجاد کیا جو فضائل عوام جہاں بیان کرتے ہیں وہ محض لغو اور غلط ہیں احادیث میں جو درود وارد ہیں وہ یقیناً درود تاج سے افضل ہیں نیز اس میں بعض الفاظ شرکیہ ہیں اس لیے اس کو ترک کرنا چاہیے۔ فتاوی رشیدیہ میں اس کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح ہے۔" (فتاوی محمودیہ:
۱
/
۲۲۲
) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
"درود تاج کے الفاظ قرآن پاک اور حدیث شریف کے نہیں ہیں اور صحابہ کرام تابعین اور سلف صالحین سے درود تاج پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ درود تاج سینکڑوں برس بعد کی ایجاد ہے جس درود کے الفاظ آنحضرت ﷺ نے اصحاب کرام کو سکھلائے ہیں (جیسے درود ابراہیم وغیرہ) کوئی دوسرا درود جو ایجاد ہو اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سرور کائنات ﷺ کی زبان مبارک سے صادر شدہ الفاظ اور کسی امت کے ایجاد کردہ الفاظ کی برکت میں زمیں و آسمان کا فرق ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ایجاد کردہ اور تعلیم دیے ہوے الفاظ میں جو برکت اور کشش ہے وہ دیگر کلمات میں نہیں ہے۔ اور اگر وہ دوسرے الفاظ خلاف سنت بھی ہوں تو پھر کوئی نسبت ہی باقی نہیں رہتی۔ پھر تو وہ فرق ہو جاتا ہے جو روشنی اور اندھیرے میں ہے۔"
فتوی کا خلاصہ یہ ہے کہ درود تاج کے فضائل جو جہلاء میں مشہور ہیں وہ بے اصل و بے بنیاد ہیں حدیث شریف سے ثابت نہیں ہیں۔ فضائل و مقدار ثواب آنحضرت ﷺ کے بیان کیے بغیر جاننا محال ہے۔ خود درود تاج سینکڑوں برس بعد کی ایجاد ہے تو اس کے پڑھنے کی فضیلت اور مقدار ثواب کس نے اور کب بتائے؟ جس درود کے الفاظ حدیث شریف سے ثابت ہیں انہیں چھوڑ کر غیر مسنون الفاظ پر بڑے بڑے ثواب کے وعدوں کا عقیدہ رکھ کر اس کا وظیفہ لازم کر لینا یہ بدعت ہے۔ نیز اس میں دافع البلاء وغیرہ الفاظ کی نسبت کا فرق عوام نہیں جانتے لہذا اسے پڑھنے کا حکم دینا شرک میں مبتلا کرنے کے برابر ہے۔ درود تاج کا پڑھنا فرض واجب یا مسنون نہیں ہے تو پھر مسنون درود کو چھوڑ کر اس کو لیے بیٹھنا اور اس کو ایمان و کفر کی نشانی بنا لینا کہاں کا انصاف ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:
۲
/
۲۹٦
) ۔
مذکورہ عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ درود تاج کا پڑھنا صحیح نہیں ہے بلکہ احادیث میں جو درود وارد ہوے ہیں ان کا پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ اس کے مصنف کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.