ہفتہ وار مجلس درود و دعا کے اہتمام کا حکم:
Question
ہمارے شہر میں ہماری مسجد میں ہفتے میں ایک رات نماز عشاء کے بعد ہم لوگ درود شریف کا پروگرام منعقد کرنا چاہتے ہیں جس کی صورت حال یہ ہوگی۔
(۱) امام صاحب پہلے درود و سلام کے کچھ فضائل حاضرین کو سنائیں گے۔
(۲) پھر بآواز بلند درود و سلام پڑھیں گے۔
(۳) اس کے بعد اجتماعی طور پر دعا ہوگی۔
کیا اس طرح کی مجلس رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ کیا اس کو بدعت کہنا صحیح ہے یا نہیں؟ ہمارے ہاں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بدعت ہے کیا ان کا یہ کہنا صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
کفایت المفتی میں ہے:
سوال: ہر جمعرات کو ایک جگہ پر جمع ہو کر درود شریف کا ختم سوا لاکھ کا مسلمانوں کی بہبودی کے لیے پڑھ کر دعا مانگنا کیسا ہے۔ اس مجمع میں شریک ہونا اور درود پڑھنا چاہیے یا نہ پڑھنا چاہیے؟
جواب: ایسے اجتماع کا التزام کرنا بے اصل ہے درود شریف فرداً فرداً پڑھنے کا بہت ثواب ہے۔
سوال: چند لوگوں کا مجتمع ہو کر زور زور سے درود پڑھنا یا ذکر کرنا کیسا ہے؟
جواب: اس طرح جماعت بنا کر درود پڑھنا ثابت نہیں، اس لیے ایسی ہیئت کا التزام نہ چاہیے۔ بطور خود درود شریف جس قدر پڑھا جائے موجب ثواب ہے اور زور سے پڑھنا بھی جائز ہے بشرطیکہ کسی نماز پڑھنے والے یا مریض کو تکلیف نہ ہو۔
نیز صفحہ ۱۱۹ پر ہے:
نماز عشاء کے بعد روزانہ درود پڑھنے کو لازم کر لینا بھی درست نہیں ہے ۔ جو لوگ فارغ ہوں اور خوشی سے اور اخلاص سے پڑھنا چاہیں وہ پڑھیں اور جو نہ پڑھنا چاہے اس پر کوئی دباؤ اور جبر نہ کیا جائے ۔ (
كفايت المفتي: ۲/۱۰۰).
مذکورہ کتب فتاوی سے معلوم ہوا کہ ایسی مجالس کا التزام اور اہتمام اس طور پر کہ اس میں شریک ہونے کے لیے لوگوں پر دباؤ اور جبر سے کام لیا جائے ناجائز اور بدعت ہے ۔ ہاں اگر اس کا التزام نہ کیا جائے بلکہ جو لوگ خوشی سے شرکت کرنا چاہتے ہوں وہ شریک ہوں اور جو نہ شریک ہو اس پر الزام یا دباؤ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور بہتر یہ ہے کہ وقت کی تخصیص بھی نہ کریں کبھی کبھی دوسرے اوقات میں بھی پڑھ لیا کریں اور صرف ایک آدمی کے پڑھنے کے بجائے بہتر صورت یہ ہے کہ سب حاضرین آہستہ آواز سے پڑھیں اور اختتام پر اجتماعی دعا کر لی جائے ۔
اس موقع پر بدعت کی حقیقت کو بھی سمجھ لینا چاہیے تاکہ امور بدعت سے بچنا آسان ہو ۔
کفایت المفتی میں ہے:
"بدعت وہ کام ہے جو قرون ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں نہ ہوا ہو اور نہ اس کی اصل پائی جائے اور اس کو دین کا کام سمجھ کر کیا جائے یا چھوڑا جائے تو یہ کرنا یا اس کے چھوڑنے کو دین کا کام سمجھ کر چھوڑنا بدعت ہے ۔ (کفایت المفتی:
۱
/
۱٦٦
) ۔
معرکۂ سنت و بدعت میں ہے:
اس کے علاوہ ایک چیز یہ بھی ہے کہ جس کو شریعت نے لازم قرار نہ دیا ہو یا کسی وقت کے ساتھ خاص نہ کیا ہو اس کو لازم کر لینا اور کسی دن تاریخ کے ساتھ خاص کر لینا ۔ چنانچہ اسی کو اصطلاحاً "
التزام مالا يلزم"
یعنی جو لازم نہ ہو اس کو لازم کر لینا بھی کہتے ہیں ۔" (معرکۂ سنت و بدعت: ص
۱۵۸
)
اس تعریف سے معلوم ہوا کہ کوئی ایسا کام کرنا جس کی اصل قرون مشہود لہا بالخیر میں نہ ہو اور اس کو دین اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے اور ان چیزوں میں التزامات، تقییدات اور تخصیصات کرنا جس کو شریعت نے لازمی قرار نہیں دیا ۔ یہ سب بدعت میں داخل ہیں اور یہی چیزیں بریلویوں کے مروجہ صلوۃ و سلام میں پائی جاتی ہیں ۔ اور ان کی تفصیل یہ ہے ۔
(۱) درود شریف کے لیے وقت کی تخصیص ۔
(۲) مکان کی تخصیص ۔
(۳) اجتماعی ہیئت کی تخصیص ۔
(٤) صورت امامت کی تخصیص ۔
(۵) قائماً پڑھنے کی تخصیص ۔
(٦) بآواز بلند پڑھنے کی تخصیص ۔
(۷) ان سب امور کا التزام ۔
(۸) پھر یہ عقیدہ حضور اکرم ﷺ تشریف لاتے ہیں ۔
ان میں سے ہر فعل مستقل بدعت ہے اس لیے کہ شریعت مطہرہ میں درود شریف کے لیے ان قیود و تخصیصات کا کوئی ثبوت نہیں معلوم ہوا کہ یہ مروجہ طریقہ من گھڑت ہے اور من گھڑت چیزوں کو دین سمجھنا اور ثواب کی امید رکھنا بدعت ہے ۔ اس مروجہ طریقہ کا ثبوت نہ تو صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے ہے نہ تابعین سے نہ تبع تابعین سے اور نہ بزرگانِ دین اور سلف صالحین سے ۔ ہاں اگر درود کی مجلس ایسی رکھی جائے جس میں کوئی بات خلاف شرع نہ ہو اور مذکورہ قیودات، و تخصیصات اور التزامات سے خالی ہو اور لوگوں کو شریک ہونے پر مجبور نہ کیا جائے تو گنجائش ہوگی ۔
خلاصہ یہ کہ اگر عشاء کے بعد کی تخصیص لوگوں کی سہولت کے لیے ہے اس لیے نہیں کہ عشاء کے بعد زیادہ ثواب ملتا ہے یا یہ دین کا جز ہے پھر اجتماعی طور پر پڑھنا بھی لوگوں کے شوق دلانے اور ترغیب کے لیے ہوتا ہے اور آسانی کے لیے ہے جیسے وعظ و نصیحت کے لیے کوئی دن مقرر کیا جائے اور مقصد یہ نہ ہو کہ اس دن زیادہ ثواب ملے گا ۔ بلکہ سہولت کے لیے ہو تو یہ بدعت نہیں ہے ۔ نیز صوفیہ کے اذکار بھی بدعت نہیں ۔ کیونکہ علاج کے طور پر کثرتِ ذکر کی عادت ڈالنے کے لیے ہیں اس خاص ہیئت کو مقصود اور دین کا جز نہیں سمجھا جاتا ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.