تفسیر عثمانی میں وایاک نستعین کی تفسیر پر اشکال کا جواب:

5 min readFatwa Vol 8 #277Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

اشکال: شاہ عبد القادر دہلوی رحمہ اللہ نے
"إياك نعبد وإياك نستعين"
کا ترجمہ یوں کیا ہے، تجھ ہی کو عبادت کرتے ہیں ہم اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ (موضح القرآن) اس کی وضاحت کرتے ہوے لکھتے ہیں: اس آیتِ شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد جائز نہیں ، ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمتِ الہی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانتِ ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت اللہ تعالی ہی سے استعانت ہے۔ (تفسیر عثمانی، ص
۲
)۔
حضرت شیخ الہند کی اس عبارت پر معترضین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر استعانتِ ظاہری سے مراد مافوق الاسباب ہے تو یہ استعانت اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے پھر غیر اللہ سے یہ استعانت کیسے جائز ہے؟ اور اگر استعانتِ ظاہری سے دعا کی درخواست کرنا ہو تو اس میں غیر مستقل کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے داعی اور سائل تو غیر مستقل ہی ہوتا ہے، اس اشکال کا کیا حل ہے؟

Answer

بعض مرتبہ عوام الناس اولیاء اور بزرگوں کو محتاج اور داعی ہونے کے باوجود با اختیار سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی دعا کو رد نہیں کر سکتے، تو بعض جاہل محتاج ہونے کے باوجود ان کو مستقل سمجھتے ہیں جیسے کوئی بادشاہ بعض مخصوص وزراء کی بات کو رد نہیں کر سکتا کہ حکومت کو گرا دیں گے یا کوئی عاشق اپنے محبوب کی بات کو رد نہیں کر سکتا کہ محبوب ناراض ہو جائے گا۔ تو شیخ الہند رحمہ اللہ نے اس عبارت میں ہر قسم کے شرک کی جڑ کاٹ دی کہ اگر کوئی کسی بزرگ سے دعا کی درخواست کرتا ہو اور اس کا یہ عقیدہ ہو کہ اس کی دعا شفاعت قہری کی طرح ہے، اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرنے میں بے بس اور مجبور کی طرح ہے تو یہ بھی مشرکانہ عقیدہ ہے۔
ملاحظہ فرمائیں شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ مستقل اور غیر مستقل محض واسطہ کی تفصیل یوں کرتے ہیں:
ایک قسم یہ ہے کہ اس طریقہ سے زندہ بزرگانِ دین سے بھی استمداد کرتے ہیں اور وہ طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھے کہ ان بزرگان کی دعا جلد قبول ہوتی ہے اور اکثر قبول ہوتی ہے اور اس خیال سے ان کو اپنے مطالب کی درخواست کے لیے واسطہ قرار دیوے اور صرف یہ سمجھے کہ یہ بزرگان صرف واسطہ اور بمنزلہ آلہ کے ہیں اور اس کے سوا اور کوئی دوسرا خیال نہ کرے کہ معاذ اللہ یہ بزرگان قادر مطلق ہیں بلکہ ان کو صرف بمنزلہ عینک کے سمجھے اور یہ بلا شبہ جائز ہے۔
دوسری قسم یہ ہے کہ مستقل طور پر اپنی مراد بزرگان دین سے چاہے اور یہ سمجھے کہ مراد حاصل کرا دینے میں یا خود مراد پوری کرنے میں ان کو بالاستقلال اختیار ہے اور یہ جانے کہ یہ بزرگان حق تعالی کے قرب کا ایسا مرتبہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کی تدبیر اپنی مرضی کے تابع کر سکتے ہیں اور یہی طریقہ ہے کہ عوام جس طریقہ سے استمداد کرتے ہیں اور یہ طریقہ خالص شرک ہے۔ (فتاوی عزیزی، ص
۱۸۰
، و
۱۷۵
، ط: سعید کمپنی)۔
شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ نے شفاعت کی تین قسمیں بیان کی ہیں:
۱۔ شفاعت بالوجاہۃ: اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بادشاہ اپنے نظامِ مملکت کو بچانے کے لیے کسی صاحب وہاجت و دبدبہ وزیر کی شفاعت اور سفارش کو اپنی مرضی کے خلاف مانتا ہے کہ اگر نہ مانے تو نظامِ مملکت میں خلل اور گڑبڑ پیدا ہو جائے گی، یہ شفاعت منفی اور معدوم ہے۔
۲۔ شفاعت بالمحبۃ: کہ کوئی شخص کسی محبوب کی سفارش کو اپنی مرضی کے خلاف اس لیے مانتا ہے کہ محبوب ناراض نہ ہو جائے، تو دل کی مجبوری کی وجہ سے شفاعت مانتے ہیں، یہ شفاعت بھی معدوم ہے۔
۳۔ تیسری قسم شفاعت إذنی ہے، اللہ تعالی اپنی مرضی سے کسی نبی اور ولی کو شفاعت کی اجازت دیں گے، یہ شفاعت ثابت ہے۔ (تقویۃ الایمان، ص
۳٤
۔
٤۰
، باب الشرک فی التصرف)۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی رشیدیہ، ص
۱٤۱
، و امداد المفتین، ص
۱۸۱
، و کفایت المفتی:
۱
/
۱۷۰
، و تفسیر جواہر القرآن:
۱
/
۱۰
)۔
ہم نے سنا ہے کہ سعودی حکومت نے تفسیر عثمانی کے چھاپنے اور تقسیم کرنے پر اس آیتِ کریمہ کی تفسیر و تشریح کی وجہ سے پابندی لگائی ہے یہ ان کی قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے ورنہ اس میں دعا کی ایک قسم کو شرک میں شامل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.