بھائی بہن کی موجود گی میں بھانجی کے لیے وصیت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 8 #308Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضباب اول: وصیت سے متعلق احکام کا بیان

Question

ایک شخص کا انتقال ہوا اس کے بیوی بچے وغیرہ میں سے کوئی نہیں ہے، ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں، ایک بہن کا انتقال کافی عرصہ سے ہو گیا تھا اس کی ایک بیٹی تھی، یہ شخص اپنی بھانجی کو اپنے ساتھ رکھتا تھا، مرنے سے پہلے یہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرے تمام متروکات میری بھانجی کو دے دیے جائیں۔ کیا یہ وصیت صحیح ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ بھائی، بہن کی موجود گی میں بھانجی شرعی وارث نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے وصیت صحیح ہے البتہ صرف ایک تہائی میں نافذ ہوگی باقی دو تہائی بھائی بہنوں کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیے جائیں گے۔ الا یہ کہ سب ورثاء راضی ہوں تو درست ہے۔
ملاحظہ ہو مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں مذکور ہے:

لا تصح بما زاد على الثلث، ولا للقاتل، ولا للوارث في حال من الأحوال إلا في حال التباسها بإجازة الورثة فتصح لأن عدم الجواز كان لحقهم فتجوز بإجازتهم ولما روي ابن عباس رضي الله عنه أنه عليه الصلاة والسلام قال: لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة، وتصح الوصية بالثلث للأجنبي وإن لم يجيزوا لقوله ﷺ: إن الله تصدق عليكم بثلث أموالكم في آخر أعماركم زيادة لكم في أعمالكم فضعوها حيث شئتم أو قال: حيث أحببتم وللإجماع على ذلك. (مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر: ٤/٤۱۹، كتاب الوصايا، دار الكتب العلمية، بيروت).

در مختار میں ہے:

وتجوز بالثلث للأجنبي عند عدم المانع وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته. (الدر المختار: ٦/٦۵۱، سعيد).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے: پوتا، نواسہ اور دوسرے نادار اقرباء جو کسی وجہ سے ترکہ نہیں پا رہے ہیں، دوسروں کے مقابلہ میں ان کے لیے وصیت کرنا زیادہ بہتر ہے۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص
۲۵۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.