ورثاء کا آپس میں تراضی سے تقسیم کرنے کا حکم:
Question
اگر ورثاء آپس میں رضامندی سے میت کی جائیداد میں سے کچھ لینے پر اتفاق کریں، مثلاً: ایک وارث ایک چیز دوسرا دوسری چیز لے اور اس طرح تقسیم کر لیں تو یہ درست ہوگا یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ورثاء کا آپس کی رضامندی سے اس طرح تقسیم کرنا کہ ایک وارث ایک چیز لے لے اور دوسرا دوسری شئی بالکل جائز اور درست ہے، جب کہ ان میں کوئی نابالغ اور مجنون وغیرہ نہ ہو۔
قال في خلاصة الفتاوى: ولوكان في الميراث رقيق وغنم وثياب فقسموا وأخذ بعضهم الرقيق وبعضهم الغنم جاز بالتراضي. (خلاصة الفتاوى: ٤/۲۱۰، ط: رشيديه).
وفي الفتاوى الهندية: ولو صالح عن نصيبه من العروض والعقار خاصة أو عن بعض الأعيان دون البعض جاز هكذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ٤/۲٦۸).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.