واشنگ مشین میں کپڑوں کی دُھلائی کا حکم:
Question
اگر بہت سارے کپڑے واشنگ مشین میں ایک ساتھ دھو لیے جائیں جن میں پاک و ناپاک مخلوط ہوں، تو کیا یہ سب کپڑے پاک ہو جائیں گے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
آج کل واشنگ مشین کی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ کپڑے اس میں بالکل صاف ستھرے اور پاک ہو جاتے ہیں ؛ تفصیل اس کی یہ ہے کہ پہلے مرحلہ میں واشنگ مشین کپڑوں کو صابن لگا کر نجاست کو بھگا دیتی ہے، پھر دوسرے مرحلہ میں پانی سے اس کی دُھلائی کرتی ہے، پھر تیسرے مرحلہ میں صاف پانی سے کھنگال کر صاف کرتی ہے، پھر رَنز وِ اسپَنز کے ذریعہ سے خوب صفائی کرتی ہے، اِن مذکورہ مراحل سے گزر کر کپڑے پاک ہو جاتے ہیں، اس میں تین مرتبہ سے زیادہ پانی بھی استعمال ہوتا ہے اور نچوڑنے کا کام بھی ہوتا ہے ۔ کتبِ فقہیہ سے کپڑوں کی صفائی کے دلائل و شواہد ملاحظہ کیجیے:
قال في الهندية: ثوب نجس غسل في ثلاث جفان أو في واحدة ثلاثاً وعصر في كل مرة طهر لجريان العادة بالغسل هكذا فلولم يطهر لضاق على الناس. (الفتاوى الهندية: ۱/٤۲).
فتاوی تاتارخانیہ میں مرقوم ہے:
ويجب أن يعلم أن إزالة النجاسة واجبة وإن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها وإن كانت شيئاً يزول أثرها ولا يعتبر فيه العدد وإن كان شيئاً لا يزول أثرها فإزالتها بإزالة عينها ويكون ما بقي من الأثر عفواً وإن كان كثيراً
هذا إذا كانت النجاسة مرئية وإن كانت غير مرئية كالبول والخمر ذكر في الأصل وقال يغسلها ثلاث مرات ويعصر في كل مرة فقد شرط الغسل ثلاث مرات وشرط العصر في كل مرة. (الفتاوى التاتارخانية: ۱/۳۰٦، ط: إدارة القرآن).
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ويطهر محل النجاسة غير المرئية بغسلها ثلاثاً وجوباً
والعصر كل مرة تقديراً لغلبة الظن في استخراجها في ظاهر الرواية وفي رواية يكتفي بالعصر مرة وهو أوفق ووضعه في الماء الجاري يغني عن التثليث والعصر كالإناء إذا وضعه فيه فامتلأ وخرج منه طهر إذا غسله في أوان فهي والمياه متفاوتة فالأولي تطهر وما تصيبه بالغسل ثلاثاً والثانية باثنتين والثالثة بواحدة. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٦۱، باب الأنجاس، ط: قديمي كتب خانه).
کتاب الفتاوی میں مذکور ہے: اگر کپڑوں میں نجاست لگ جائے اور وہ نظر آتی ہو تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نجاست اچھی طرح صاف ہو جائے اور نجاست نظر نہ آتی ہو اس میں ضروری ہے کہ اسے تین بار دھویا اور نچوڑا جائے، تاکہ نجاست کے صاف ہونے کا اطمینان ہو جائے، بعد کے فقہاء نے مطلقاً یہی فتوی دیا ہے کہ نجاست جیسی بھی ہو، کم سے کم کپڑے کو تین بار دھونا اور نچوڑنا چاہیے تاکہ نجاست کے نکل جانے اور کپڑے کے صاف ہو جانے کا اچھی طرح اطمینان ہو جائے
اِس اصول کی روشنی میں واشنگ مشین میں کپڑے دھونے کے احکام اِس طرح ہوں گے:
(الف) اگر سارے کپڑے پاک تھے تو ظاہر ہے کہ وہ پاک ہی رہیں گے، چاہے مشین میں اسے ایک بار گردش دی جائے یا کئی بار ۔
(باء) اگر سارے کپڑے ناپاک تھے تو ضروری ہوگا کہ یا تو اسے تین پانی سے دھویا جائے یعنی ایک بار جب مشین کپڑے دھو کر پانی پھینک دے تو دوسری بار اور تیسری بار پھر پانی ڈالا جائے، پہلی بار چونکہ میل کچیل کو بھی صاف کرنا مقصود ہوتا ہے اس لیے زیادہ دیر تک مشین چلائی جاتی ہے، دوسری اور تیسری بار چونکہ نچوڑنا مقصود ہے اس لیے تھوڑی دیر چلا کر پانی کا اخراج ہو جائے یہ بھی کافی ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۷/۳٤۳، ط: نعیمیہ دیوبند) ۔
اہم مسائل جن میں ابتلا عام ہے، میں مذکور ہے: مسئلہ: ناپاک کپڑوں کو واشنگ مشین میں اچھی طرح دھو لیا جائے، پھر اِسپَنز مشین یعنی مشین کا وہ حصہ جس میں کپڑا ڈال کر گھمانے سے کپڑے اچھی طرح نچوڑ جاتے ہیں، اور کچھ حد تک خشک بھی ہو جاتے ہیں، ان کپڑوں کو ڈال دیا جائے اور اِسپَنز کے اوپر صاف پانی کا پائپ لگا کر اتنی دیر چلایا جائے کہ گندے پانی کی جگہ صاف پانی نیچے پائپ سے آنا شروع ہو جائے، تو یہ کپڑے پاک ہو جائیں گے، ہاتھ سے نچوڑنا ضروری نہیں ہے ۔
والحجة على ما قلنا: ما في "الدر المختار مع الشامية": أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار. (۱/۵٤۲، كتاب الطهارة، باب الأنجاس)، ما في "الموسوعة الفقهية" =: ثم إن اشتراط الغسل والعصر ثلاثاً إنما هو إذا غمسه في إجانة، أما إذا غمسه في ماء جار حتى جري عليه الماء أو صب عليه ماء كثير، بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلف غيره ثلاثاً، فقد طهر مطلقاً بلا اشتراط عصر وتكرار غمس. (الموسوعة: ۲۹/ ۹۹، طهارة، تطهير محل النجاسة، حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ۱۵۹، كتاب الطهارة، باب الأنجاس والطهارة عنها
، و فتاوی دار العلوم دیوبند، رقم الفتوی ٤۷۸۸٦)، (اہم مسائل جن میں ابتلا عام ہے، جلد ہفتم، ص ۳۱، جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم، اکل کوا، مہاراشٹر) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (تبیین الحقائق: ۱/۷۵، امدادیہ، و فتاوی حقانیہ: ۲/۵۸۲، و محقق و مدلل جدید مسائل، ص ۱۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.