ڈرائی کلین میں دھلے ہوے کپڑوں کا حکم:

4 min readFatwa Vol 1 #308Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (٦): نجاستوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان

Question

ڈرائی کلین میں ہر قسم کے کپڑے ڈالے جاتے ہیں پاک بھی اور ناپاک بھی اس طرح دُھل کر کپڑے پاک ہو جائیں گے؟ نیز پٹرول سے بار بار کپڑے دُھلتے ہیں اگر اس میں پہلے ناپاک کپڑے دھلے تو کیا بعد میں دھلنے والے کپڑے پاک ہو جائیں گے؟

Answer

ڈرائی کلین کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ اس میں کیمیکل مثلاً پٹرول وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے جو خالص کپڑوں کی دھلائی اور صفائی کے لیے بنایا گیا ہے لہذا اس سے ازالہ نجاست ہو جائے گا اور پاک و ناپاک ہر قسم کے کپڑے پاک ہو جائیں گے۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جو چھینٹیں نجس اس پر گر گئیں وہ پٹرول سے بھی زائل ہو سکتے ہیں پٹرول سے دھلوائیں پاک ہو جائے گا۔ (فتاوی محمودیہ ۱۷/ ۱۳۵)۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
پٹرول سے کپڑے وغیرہ دھونا یا کسی بھی محسوس نجاست کا اس کے ذریعہ ازالہ درست ہو گا، اس لیے کہ پانی ضروری نہیں ہر بہتی ہوئی چیز کافی ہے ہدایہ میں ہے ۔
ويجوز تطهيرها بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالنحل وماء الورد. (
جدید فقہی مسائل ۱/ ۸٦)
نظام الفتاوی میں ہے:
یہیں سے یہ بات بھی نکل آئی کہ جب پٹرول میں کپڑوں کو گردش کرانے اور جھنجھوڑنے سے کپڑوں کے داغ دھبے زائل ہو جاتے ہیں اور کپڑے صاف ستھرے ہو جاتے ہیں، تو جب پٹرول کپڑے میں جذب نہ ہو کر اڑ جاتا ہے اور اس کے اڑ جانے کے بعد اثرِ نجاست (رنگ، بو، مزہ) باقی نہیں رہتا بلکہ زائل ہو جاتا ہے تو کہنا پڑے گا کہ پٹرول ہی سے ازالہ ہوا ہے اور تطہیر نام ہے ازالہ نجاست کا، خواہ قلب ماہیت کی وجہ سے ہو جیسے شراب کا سرکہ بن جانا اور سرکہ کا پاک شمار کیا جانا یا محض اڑ جانے کی وجہ سے ہو جیسے ناپاک روئی کے دھننے سے روئی کا پاک ہو جانا یا غسل بالماء کے ذریعہ سے یا کسی بھی سیال طاہر شئی سے غسل کے ذریعہ سے اور یہ صورت یہاں بھی حاصل ہے لہذا اس بناء پر بھی دوبارہ تطہیر کا حکم دینے کی ضرورت نہ ہو گی۔
البتہ جن لوگوں کو اپنے کپڑے کی ناپاکی کا یقین ہو، مثلاً نجاست لگتے ہوئے یا لگی ہوئی خود دیکھی ہے تو ان کو پٹرول میں دھونے کے لیے دینے سے قبل خود پاک کر لینا چاہیے یا پھر دھل کر آنے کے بعد احتیاطاً خود پاک کر لینا افضل ہوگا، اسی طرح مشین سے نکلنے کے بعد ذی جرم نجاست کا جرم باقی رہے تو اس کا دھونا ضروری رہے گا اس کے بغیر پاک نہیں کہا جائے گا، اسی طرح یہ بات بھی الگ ہوگی کہ از روئے تقویٰ ایسے دھلے ہوئے کپڑوں کی تطہیر بقاعدۂ شرع خود کر لی جائے، مگر اس کو فتویٰ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۳۰۔ ۳۲)۔
ان عبارات سے معلوم ہو گیا کہ پٹرول سے ازالہ نجاست ہو جاتا ہے رہا یہ سوال کہ اس پٹرول کو ایک بار استعمال کے بعد فلٹر کر کے نجس اجزاء نکالے جاتے ہیں اور اس کو صاف کرتے ہیں تو اس طرح تو یہ ماء مستعمل کی طرح ہو گیا، جواب یہ ہے کہ ماء مستعمل طاہر ہوتا ہے البتہ مطہر نہیں اور نجاستِ حقیقی کو دور کر سکتا ہے۔
احسن الفتاوی میں ہے:
مستعمل پانی پاک ہے اس سے وضوء اور غسل درست نہیں البتہ نجاست حقیقیہ کے لیے مطہر ہے یعنی اس سے نجس چیز دھوئی جائے تو پاک ہو جائے گی۔ رد المحتار میں ہے ۔
وحكمه انه ليس بطهور للحدث بل لخبث على الراجح. (
احسن الفتاوی ۲/٤۰)۔
الغرض احتیاط یہ ہے کہ ڈرائی کلین کی مشین سے نکالنے کے بعد کپڑوں پر سادہ پانی ڈال کر نچوڑا جائے۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.