کثرتِ عمرہ کے لیے احرام کی صفائی کا حکم:
Question
ایک شخص ایک سے زائد عمرے کرتا رہتا ہے، بہت سی مرتبہ احرام میلا ہو جاتا ہے یا کچھ مشروب وغیرہ اس پر گرنے کی وجہ سے گندہ ہو جاتا ہے تو کیا ہر بار احرام دھونا اور صاف احرام پہننا ضروری ہے یا ایسے احرام میں عمرہ درست ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
احرام باندھنے کے لیے دو سفید چادریں؛ نئی یا پرانی صاف دہلی ہوئی استعمال کرنا مستحب ہے، ہاں اگر کوئی شخص بار بار عمرہ کرتا ہے اور دھونے کا موقعہ نہیں ملتا تو دھوئے بغیر استعمال کرنا بھی جائز خلاف اولی ہے، اور عمرہ بلاکراہت درست ہے، البتہ دھو کر استعمال کرنا افضل اور بہتر ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:
ولبس إزار ورداء
جديدين أو غسيلين طاهرين أبيضين ككفن الكفاية. قوله جديدين، أشار بتقديمه إلى أفضليته، وكونه أبيض أفضل من غيره وفي عدم غسل العتيق ترك المستحب، بحر. (فتاوى الشامي: ۲/٤۸۱، سعيد). (وكذا في اللباب في شرح الكتاب: ۱/۹۲، ط: دار الكتاب العربي).
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے: دو سفید نئے یا دھلے ہوے کپڑے یعنی چادر اور تہ بند پہننا، دو کپڑے یعنی چادر اور تہ بند کا پہننا سنت ہے، اور ان میں باقی اوصاف کا پایا جانا یعنی سفید اور نئے دھلے ہوے ہونا مستحب ہے، اور ان دو کپڑوں کا نیا ہونا افضل ہے اور پرانے کپڑے کو دھوئے بغیر استعمال کرنے میں ترکِ مستحب ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۱۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.