احرام باندھتے وقت زیر جامہ بھول جانے سے عمرہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #296Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص نے احرام باندھا سلے ہوے کپڑے نکال کر چادریں پہن لیں، لیکن زیر جامہ (underwear) نکالنا بھول گیا، اب کیا عمرہ ادا ہوا یا نہیں؟ کوئی جزا واجب ہوئی یا نہیں؟

Answer

زیر جامہ، نیکر سلے ہوے کپڑوں میں داخل ہے لہٰذا اگر ایک دن رات یا اس سے زیادہ احرام کی حالت میں پہنا ہے تو دم واجب ہو گا اور اگر اس سے کم پہنا ہے تو صدقہ فطر کی مقدار جزا واجب ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا لبس المحرم المخيط على الوجه المعتاد يوماً إلى الليل فعليه دم وإن كان أقل من ذلك فصدقة كذا في المحيط سواء لبسه ناسياً أو عامداً عالماً أو جاهلاً مختاراً أو مكرهاً هكذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية: ۱/۲٤۲).
(وكذا في المحيط: ۲/۷۳۲، ط: دار إحياء التراث العربي، وتحفة الفقهاء، ص ٤۱۹، ط: بيروت).

احسن الفتاوی میں مرقوم ہے: نیکر پہننا بہرحال ناجائز ہے اور اس پر لبس مخیط کی جزاء واجب ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۵۲۱) ۔
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے: دن یا رات سے کم وقت میں سلے ہوے کپڑے پہننا موجبِ صدقہ ہے اور دن یا رات سے زائد وقت تک سلے ہوے کپڑے پہننا موجبِ دم ہے، بحوالہ شامی ۔ (فتاوی حقانیہ: ٤/۲٤) ۔
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
جنایات خواہ قصداً کرے یا خطا (غلطی سے) کرے پہلی دفعہ ہو یا مکرر دوبارہ سہ بارہ ہو، احرام یا د ہوتے ہوے کرے یا بھول کر، خواہ مسئلہ جانتا ہو یا نہ جانتا ہو جزا کے واجب ہونے میں سب کا حکم برابر ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/٤۲۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.