نابالغ بچوں کے حج اور عمرہ کا حکم:
Question
نابالغ بچوں کے حج یا عمرہ کا کیا حکم ہے؟ نیز احرام میں سلا ہوا کپڑا پہننا ممنوع ہے یا سخت سردی کی وجہ سے سلے ہوے کپڑے پہنا سکتے ہیں؟ کیا عمرہ کی نیت بچوں کے اولیاء کریں گے یا وہ خود نیت کریں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بالغ ہونا یہ حج کے وجوب اور فرض کی جگہ واقع ہونے کی شرط ہے، حج ادا ہونے کے جواز اور صحت کی شرط نہیں، پس نابالغ پر حج فرض نہیں ہے، خواہ وہ نابالغ سمجھ دار ہو یعنی ناپاک اور پاک، میٹھی اور کڑوی چیز میں تمیز کر سکتا ہو اور جانتا ہو کہ اسلام نجات کا سبب ہے یا تمیز نہ کر سکتا ہو، پس اگر سمجھ دار نابالغ نے خود حج کیا یا نا سمجھ نابالغ کے ولی نے اس کی طرف سے احرام باندھا اور اس لڑ کے نے حج ادا کیا تو اس کا حج نفلی ہوگا، حج فرض ادا نہیں ہوگا کیونکہ وہ فرض حج کا مکلف نہیں ہے، یعنی اگر کسی بچے نے بلوغ سے پہلے حج کیا تو یہ حجۃ الاسلام یعنی فرض حج نہیں ہوگا بلکہ نفلی حج ہوگا اور اس کے ولی کو چاہیے کہ اس نابالغ کو ممنوعاتِ احرام کے ارتکاب مثلاً سلا ہوا کپڑا پہننے اور خوشبو لگانے سے رو کے لیکن اگر اس نابالغ سے کسی ممنوع احرام کا ارتکاب ہوا تو اس نابالغ یا اس کے ولی پر کچھ جزا لازم نہیں ہو گی ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۳۰) ۔
معلم الحجاج میں ہے:
مسئلہ: اگر نابالغ بچہ ہوشیار اور سمجھدار ہے تو وہ خود احرام باندھے اور افعالِ حج ادا کرے، اور مثل بالغ کے سب افعال کرے، اگر نا سمجھ اور چھوٹا بچہ ہے تو اس کا ولی اس کی طرف سے احرام باندھے ۔
مسئلہ: چھوٹا بچہ نا سمجھ اگر خود افعال ادا کرے یا خود احرام باندھے تو یہ افعال اور احرام صحیح نہیں ہوں گے ۔ البتہ سمجھ دار بچہ اگر خود احرام باندھے اور افعال خود ادا کرے تو صحیح ہو جائیں گے ۔
مسئلہ: سمجھ دار بچہ کی طرف سے ولی احرام نہیں باندھ سکتا ۔
مسئلہ: بچہ سمجھ دار جو افعال خود کر سکتا ہو خود کر لے اور اگر خود نہ کر س کے تو اس کا ولی کر دے البتہ نماز ِ طواف بچہ خود پڑھے اس کی طرف سے ولی نہ پڑھے اور اگر بچہ خود طواف کی نماز نہیں پڑھ سکتا تب بھی ولی اس کی طرف سے نہ پڑھے "
لا يصلي أحد عن أحد ولا يصوم أحد عن أحد".
مسئلہ: سمجھدار بچہ خود طواف کرے اور نا سمجھ کو ولی گود میں لے کر طواف کرائے یہی حکم وقوفِ عرفات اور سعی و رمی وغیرہ کا ہے ۔
مسئلہ: ولی کو چاہیے کہ بچہ کو ممنوعاتِ احرام سے بچائے لیکن اگر کوئی فعل ممنوع بچہ کر لے گا تو اس کی جزا واجب نہ ہو گی نہ بچہ پر اور نہ ولی پر ۔
مسئلہ: جب بچہ کی طرف سے احرام باندھا جائے تو اس کے بدن سے سلے ہوے کپڑے نکال دیے جائیں اور چادر و لنگی اس کو پہنا دی جاوے ۔
مسئلہ: بچہ پر حج فرض نہیں ہے اس لیے یہ حج نفل ہوگا ۔
مسئلہ: بچہ کا احرام لازم نہیں ہوتا اگر تمام افعال چھوڑ دے یا بعض چھوڑ دے تو اس پر کوئی جزا اور قضا واجب نہ ہو گی ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
لباب المناسك مع شرحه، ص۱۲٤، فصل في إحرام الصبي، وغنية الناسك، ص ٤۳، فصل في إحرام الصبي).
مذکورہ عبارات اور مسائل کی روشنی میں تقریباً تمام سوالات کے جوابات آ چکے ہیں ۔ اور جہاں تک سلے ہوے کپڑے پہنانے کا مسئلہ ہے تو سخت سردی کی وجہ سے سلے ہوے کپڑوں کی جگہ ہر قسم کے گرم بغیر سلے ہوے کپڑے ملتے ہیں وہی پہنا دیے جائیں تاہم سلے ہوے کپڑوں کے پہننے سے جزا لازم نہیں ہو گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.