بیت الخلا کا رخ جانبِ قبلہ سے ٤۵ درجہ ہٹ کر ہونا ضروری ہے:

5 min readFatwa Vol 9 #33Urdu
Vol. 9باب… )۱( طہارت سے متعلق متفرق مسائل

Question

مصلی اگر نماز میں ٤۵ درجہ سمتِ قبلہ میں ہے تو اس کی نماز ہو جائے گی، یعنی ٤۵ درجہ سمتِ قبلہ سمجھی جائے گی تو کیا اگر بیت الخلا بنانی ہو تب بھی ٤۵ درجہ قبلہ سے ہٹ کر تعمیر کرنا ضروری ہو گا یا عین قبلہ سے تھوڑا سا انحراف کافی ہو جائے گا اور وعید سے نکل جائے گا؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل۔

Answer

علماء نے لکھا ہے کہ جس طرح نماز کی صحت کا مدار ٤۵ درجہ کے اندر ہونے پر موقوف ہے اسی طرح بیت الخلا بناتے وقت بھی ٤۵ درجہ کا اعتبار کیا جائے گا یعنی بیت الخلا کا رخ سمتِ قبلہ سے ٤۵ درجہ ہٹ کر ہونا ضروری ہو گا، ورنہ بیت الخلا کا رخ سمتِ قبلہ ہونے کا گناہ لازم آئے گا۔ ملاحظہ ہو صحیح بخاری شریف میں ہے:

عن أبي أيوب الأنصاري، أن النبي ﷺ قال: إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة، ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا، قال أبو أيوب: فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض بنيت قبل القبلة فننحرف ونستغفر الله. (صحيح البخاري، رقم: ۳۹٤).

در مختار میں مذکور ہے:

ويكره تحريماً استقبال القبلة بالفرج ولو في الخلاء بالمد، بيت التغوط، وكذا استدبارها في الأصح، وفي الشامي: قوله تحريماً، لما أخرجه الستة عنه ﷺ: إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا، ولهذا كان الأصح من الروايتين كراهة الاستدبار كالاستقبال، قوله استقبال القبلة بالفرج يعم قبل الرجل والمرأة، والظاهر أن المراد بالقبلة جهتها كما في الصلاة، وهو ظاهر الحديث المار وأن التقييد بالفرج يفيد ما صرح به الشافعية أنه لو استقبلها بصدره وحول ذكره عنها لم يكره بخلاف عكسه كما قدمناه في باب المسجد

ولو غفل عن ذلك وجلس يقضي حاجته ثم وجد نفسه كذلك فلا بأس، لكن إن أمكنه الانحراف ينحرف فإنه عد ذلك من موجبات الرحمة فإن لم يفعل فلا بأس. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٦۵۵، سعيد).

جواہر الفقہ میں مرقوم ہے:

في رد المحتار فعلم أن الانحراف اليسير لا يضر، وهو الذي يبقى معه الوجه أو شيء من جوانبه مسامتاً لعين الكعبة أو لهوائها، بأن يخرج الخط من الوجه أو من بعض جوانبه ويمر على الكعبة أو هوائها مستقيماً ولا يلزم أن يكون الخط الخارج على استقامة خارجاً من جبهة المصلي بل منها أو من جوانبها

وفي الخيرية: تحت قوله (سئل) ومن القواعد الفلكية إذا كان الانحراف عن مقتضي الأدلة أكثر من خمس وأربعين درجة يمنة أو يسرة يكون ذلك الانحراف خارجاً عن جهة الربع الذي فيه مكة المشرفة من غير إشكال

أجاب: حيث زالت بالانحراف المذكور المقابلة بالكلية، بحيث لم يبق شيء من سطح الوجه مسامتاً للكعبة عدم الاستقبال المشروط لصحة الصلاة بالإجماع، وإذا عدم الشرط عدم المشروط.

عباراتِ مذکورہ سے سمتِ قبلہ کی جو حد ضروری معلوم ہوئی ہے، اس کا حاصل سہل اور عامیانہ عبارت میں یہ ہے کہ انسان کے چہرہ کا کوئی ذرا سا ادنی حصہ خواہ وسط چہرہ کا ہو یا داہنی، بائیں جانب کا، بیت اللہ شریف کے کسی ذرا سے حصے کے ساتھ مقابل ہو جاوے اور فن ریاضی کی اصطلاحی عبارت میں یہ ہے کہ عین کعبہ سے پینتالیس درجہ تک بھی انحراف ہو جاوے تو استقبال فوت نہیں ہوتا اور نماز صحیح ہو جاتی ہے، اس سے زائد انحراف ہو تو استقبال فوت ہو کر نماز فاسد ہو جائے گی۔ (جواہر الفقہ: ۲/۳۵۸، ۳٦۰، ط: دار العلوم کراچی)۔
مذکورہ بالا عباراتِ فقہیہ سے معلوم ہوا کہ ٤۵ درجہ تک انحراف جہتِ قبلہ میں شامل ہے، لہٰذا بیت الخلا بناتے وقت ٤۵ درجہ سے زیادہ ہٹ کر بنائی جائے، تاکہ حدیث شریف کی وعید میں شامل نہ ہو۔
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے:
احادیثِ مبارکہ میں قبلہ کی طرف استنجاء کے وقت منہ یا پشت کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس کے متبادل بقیہ دونوں طرف منہ یا پشت کرنے کا حکم ہوا ہے اب یہ دونوں اطراف کے علاقے جغرافیائی نظام کے مطابق ہوں گے، یعنی جہاں کعبہ مغرب یا مشرق کی جانب ہو تو اس کے دونوں اطراف شمال و جنوب ہے اور جہاں کعبہ شمال یا جنوب کی طرف ہو تو وہاں کے رہنے والوں کو مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے کا حکم ہے۔ (فتاوی حقانیہ: ۲/۵۹٤، ط: اکوڑہ خٹک)۔
مزید ملاحظہ ہو : (الفتاوی الہندیۃ: ۱/۵۰، و الہدایۃ: ۱/٦۵، و تبیین الحقائق: ۱/۱٦۷، و بدائع الصنائع: ۵/۱۲٦، و البحر الرائق: ۲/۳٦، و مراقی الفلاح، ص ۲۷، و فتاوی محمودیہ: ۵/۳۰۰، و فتاوی رحیمیہ: ۲/۳۵۹، و عمدۃ الفقہ: ۱/۲۸۵، و خیر الفتاوی: ۲/۱۷٤، و فتاوی فریدیہ: ۲/۱۲۵، و کتاب الفتاوی: ۲/٦۸)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.