منحرف مسجد کے قبلہ کو درست کرنے کا حکم:
Question
ایک مصلی کے قبلہ کا رخ تقریباً ٤۵ درجہ منحرف ہے، اور علماء کا کہنا ہے کہ ٤۵ درجہ تک انحراف ہو تو نماز ہو جاتی ہے، اور اس سے زیادہ مفسد ہے، لیکن قبلہ میں انحراف ہے، تو کیا اس کو ٹھیک کرنا چاہیے یا چھوڑ دینا چاہیے، جب کہ چھوڑنے میں غلطی کو قائم دائم رکھنا ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
افضل اور بہتر یہ ہے کہ مسجد، مصلی کے قبلہ کا رخ بالکل صحیح اور درست ہو اور بالکل انحراف نہ ہو تاکہ نماز بالکل صحیح سمتِ قبلہ کی طرف ادا ہو، بنا بریں درست کر لینا زیادہ اچھا ہے۔
علامہ شامی رحمه الله نے البحر الرائق کے حاشیہ میں سمتِ قبلہ کے بارے میں ایک وسعت والا قول لکھا ہے اور دوسرا محتاط قول ذکر کرنے کے بعد اول کو جائز اور ثانی کو مستحب قرار دیا ہے یعنی محتاط قول پر عمل مستحب ہے اور بحوالہ مجموع النوازل اِس کو مختار فرمایا ہے۔ منحۃ الخالق کی عبارت ملاحظہ کیجیے:
في منية المصلي عن أمالي الفتاوى حد القبلة في بلادنا يعني سمرقند ما بين المغربين مغرب الشتاء ومغرب الصيف فإن صلى إلى جهة خرجت من المغربين فسدت صلاته، قال شارحها ابن أمير حاج: وذكر هذه العبارة في الملتقط مع زيادة وهي: وقال أبو منصور: ينظر إلى أقصر يوم في الشتاء وإلى أطول يوم في الصيف فيعرف مغربيهما ثم يترك الثلثين عن يمينه والثلث عن يساره ويصلي فيما بين ذلك وهذا استحباب والأول للجواز، ومشى علي الأول الرستغفني وجعل في مجموع النوازل ما ذكره أبو منصور هو المختار. (منحة الخالق حاشية البحر الرائق: ۱/۲۸۵، ط: كوئته).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں مرقوم ہے:
علمائے امت و فقہائے ملت نے قاطبۃً بلا اختلاف تصریح فرمائی ہے کہ سمتِ قبلہ کا مدار آلاتِ رصدیہ و حساباتِ ریاضیہ پر نہیں، بلکہ اس میں مساجدِ قدیمہ کا اتباع و توافق کافی ہے، جس کی بنا امارات و علاماتِ عرفیہ پر ہے اگر چہ قواعدِ ہیئت کی روسے ان میں سمتِ حقیقی سے کچھ انحراف بھی ہو، جس میں اصل قاعدہ سے ربع دائرہ (۹۰ درجہ) کے قریب تک یعنی دونوں جانب ثمن ثمن دائرہ (٤۵۔ ٤۵ درجہ) تک اور بنا بر احتیاط ما بین المغربین یعنی ہر طرف ۲٤ درجہ مجموعی ٤۸ درجہ تک گنجائش ہے۔
لما في حاشية البحر للشامي بعد نقل القولين: وهذا استحباب والأول للجواز. (۱/۲۸۵)،
اس بنا پر دونوں انحراف مذکور فی السوال کے ہوتے ہوئے بھی نماز صحیح ہو جائے گی لیکن اولی یہ ہے کہ دوسری مساجدِ قدیمہ خواہ اس بستی میں ہوں یا قرب و جوار میں ہوں ان کے موافق اس مسجد کو درست کر لیا جاوے، کتبہ: أشرف علي عفی عنہ ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، امداد المفتین: ۲/۳٦۲، ط: دار الاشاعت) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
اگر بیس ڈگری محراب قبلہ سے منحرف ہے پھر بہتر تو یہ ہے کہ محراب درست کر لی جائے تاکہ نماز ی بلا انحراف صحیح سمتِ قبلہ کا استقبال کریں، جب تک محراب درست نہ ہو تو بیس ڈگری تک انحراف کی گنجائش ہے، جو نمازیں پڑھی جا چکی ہیں وہ صحیح ہو گئیں۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳٤۳، مکتبہ لدھیانوی) ۔
جواہر الفقہ میں ہے: جو مسجدیں سمتِ قبلہ کے مطابق ہیں، خواہ وہ نئی ہوں یا پرانی، ان کی نمازوں کے سمتِ قبلہ کے موافق ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں، اور جن مسجدوں کے قبلے صحیح سمت نہیں ہیں اگر وہ پینتالیس درجہ کے اندر تک ہیں جب بھی نماز صحیح ہو جائے گی، لیکن قاعدہ کے مطابق ان کی سمتِ قبلہ صحیح کر لینا ضروری ہے، لیکن اگر ان کی موجودہ حالت میں بھی ان میں نمازیں پڑھی جائیں، جب بھی ہو جائے گی۔ (جواہر الفقہ: ۲/٤۲۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.