مسجد کے اوپر کمرہ اور نیچے بیت الخلا بنانے کا حکم:
Question
مسجد کے اوپر کے حصہ میں امام و مؤذن کے لیے کمرہ اور نیچے کے حصہ میں بیت الخلا بنانا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ مسجد کے تابع اور اسی کے حکم میں ہوگا یا نہیں؟
Answer
مسجد کی ابتدائی (پہلی) تعمیر کے وقت بانی مسجد نیت کر کے مسجد کے اوپر کے حصے میں امام و مؤذن کے لیے کمرے اور نچلے حصے میں عوام کے مفاد کے لیے بیت الخلا بنا دیں تو اس کی گنجائش ہے بنا سکتے ہیں اور یہ شرعی مسجد سے خارج رہیں گے ۔ مگر جب ایک بار مسجد بن گئی اور ابتدائی تعمیر کے وقت یہ چیزیں شامل نہیں ہوئیں تو مسجد کے اوپر کا حصہ آسمان تک اور مسجد کے نیچے کا حصہ تحت الثریٰ تک مسجد کے تابع ہو گیا اور اس کے حکم میں ہو چکا ۔ اب اس کا کوئی حصہ مسجد سے خارج نہیں کیا جا سکتا ۔ اور نہ ہی اس جگہ کمرے وغیرہ بنانا درست ہے بلکہ اس جگہ کا احترام مسجد جیسا ہے ۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
. "(وإذا جعل تحته سرداباً لمصالحه) أي المسجد جاز كمسجد القدس (فرع) لو بني فوقه بيتاً للإمام لا يضر لأنه من المصالح أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع (قوله أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتي به أو بالصلاة فيه على قولهما وعبارة التتارخانية وإن كان حين بناه خلي بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا يترك." (الدر مع رد المحتار: ٤/۳۵۷، ۳۵۸)
وفيها أيضاً في كتاب الصلاة تحت أحكام المسجد:
وكره تحريماً الوطيء فوقه والبول والتغوط لأنه مسجد إلى عنان السماء.
(قوله إلى عنان السماء) وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الاسبيجابي، بقي لو جعل الواقف تحته بيتاً للخلاء هل يجوز كما في مسجد محلة الشحم في دمشق؟ لم اره صريحاً نعم سيأتي متناً في كتاب الوقف أنه لو جعل تحته سردابا بالمصالحة جاز تأمل." (الدر مع رد المحتار: ۱/٦۵٦).
تقریرات رافعی میں ہے:
(قوله لم أره صريحاً نعم سيأتي متناً الخ) الظاهر عدم الجواز وما يأتي متناً لا يفيد الجواز لأن بيت الخلاء ليس من مصالحه على أن الظاهر عدم صحة جعله مسجداً بجعل بيت الخلاء تحته كما يأتي أنه لو جعل سقاية أسفله لا يكون مسجداً فكذا بيت الخلاء لا نهما ليسا من المصالح تأمل ثم رأيت في غاية البيان ما يفيد الجواز كما يأتي نقل عبارتها في كتاب الوقف من أحكام المسجد. (تقريرات الرافعي: ۱/۸۵).
وفي كتاب الوقف.
"قال أورد الفقيه أبو الليث سؤالاً وجواباً فقال فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء والناس ينتفعون به قيل إذا كان تحته شيء ينتفع به عامة المسلمين يجوز لأنه إذا انتفع به عامتهم صار ذلك لله تعالى أيضا. يعلم حكم كثير من مساجد مصر التي تحتها صهاريج ونحوها.". تقريرات الرافعي: ٤/۸۰، كتاب الوقف، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: (جواہر الفقہ، جلد سوم، ص ۱۲۳، ۱۲٤، و فتاویٰ رحیمیہ: ۹/۹۳، ط: کراچی ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.