اوپر کی منزل کرائے پر دے کر نچلی وقف کر نے کا حکم:
Question
میں دو منزلہ مکان کا مالک ہو ں، اوپر کی منزل کرائے پر دی ہے لوگ اس میں رہتے ہیں اس میں بیت الخلا وغیرہ تمام گھریلو لوازمات ہیں اور ان کے پاس ٹی وی بھی ہے تو میرے لیے جائز ہو گا کہ میں نیچے کی منزل مسجد کے لیے وقف کر دوں اور اوپر کی منزل اپنے حال پر ر ہے کیا یہ وقف صحیح ہو جائے گا؟
Answer
اس صورت میں نچلی کا وقف صحیح نہیں ہو گا ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر کوئی مسجد اس طرح بنائی ہو کہ نیچے دکانیں یا تہ خانہ وغیرہ بنا کر ان کی چھت پر مسجد کا صحن یا مسجد کی کوئی عمارت ہے تو یہ اس شرط پر جائز ہے کہ نیچے دکانیں مسجد کی طرح وقف ہوں اور ان کی آمدنی مسجد کے مصالح میں صرف ہو اور اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ مسجد کی چھت پر کوئی مکان بغرضِ مصالحِ مسجد بنایا جائے، ان دونوں صورتوں میں اس مسجد کی مسجدیت میں کوئی خلل نہ آئے گا ۔ (جواہر الفقہ، جلد سوم، ص ۱۲۳) ۔
الدر المختار میں ہے:
وإذا جعل تحته سرداباً لمصالحه أي المسجد جاز كمسجد القدس ولو جعل لغيرها أو جعل فوقه بيتاً وجعل باب المسجد الى الطريق وعزله عن ملكه لا يكون مسجداً وله يبعه ويورث عنه.
وفي رد المحتار: ظاهره أنه لا فرق أن يكون البيت للمسجد أولا إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجداً فيما إذا لم يكن وقفاً على مصالح المسجد وبه صرح في الإسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفاً عليه صار مسجداً. قال في البحر وحاصله أن شرط كونه مسجداً أن يكون سفله وعلوه مسجداً لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ﴾. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۵۷).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ومن جعل مسجدا ً تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد الى الطريق وعزله فله أن يبيعه وإن مات يورث عنه ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۵۵).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس جگہ مسجد بنائی وہ نیچے اوپر سب مسجد ہی ہو تی ہے ۔ وہاں کو ئی ایسا کام جو احترام مسجد کے خلاف ہو وہ ممنوع ہے، مسجد کے بالائی حصے یا تحتانی حصے کو کسی جگہ سے بھی حق العبد نہیں ہو نا چاہیے
وكره تحريماً الوضوء فوقه والبول والتغوط لأنه مسجد إلى عنان السماء. (الدر المختار) قوله إلى عنان السماء بفتح العين وكذا إلى تحت الثري ولو جعل تحته سردابا لمصالحه جاز. (فتاوى الشامي: ۱/٦۵٦، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
قال في التنوير وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه أي المسجد جاز كمسجد القدس (رد المحتار) وقال الرافعي رحمه الله: (قول الصنف لمصالحه) ليس بقيد، بل الحكم كذلك إذا كان ينتفع به عامة المسلمين على ما أفاده في غاية البيان حيث قال: أورد الفقيه أبو الليث سؤالا وجواباً فقال: فان قيل: أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء والناس ينتفعون به قيل: إذا كان تحته شيء ينتفع به عامة المسلمين يجوز لأنه إذا انتفع به عامتهم صار ذلك لله تعالى أيضاً. (احسن الفتاوی: ٦/٤٤۳).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.