مسجد کے جوتے کے ڈبے کرائے پر رکھنا:

2 min readFatwa Vol 1 #329Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

مسجدوں میں جوتوں کے لیے ڈبے رکھتے ہیں، ان کا کرایہ پر لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ وقف ہو تو پھر سب کے لیے برابر ہو نا چاہیے؟

Answer

فتاوی محمودیہ میں ہے:
وہ کمرہ اگر امام کے رہنے اور تعلیم دینے کے لیے بنایا گیا تھا تو اس کو کرایہ دینا درست نہیں اور اگر کرائے کے لیے بنایا گیا تھا تو کرایہ پر دینا اور کرایہ وصول کرنا درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۳۱۸) ۔
بزازیہ میں ہے:

وإذا آجر الموقوف عليه الوقف إن كان كل الأجر له بأن لم يكن له شريك ولم يكن الوقف محتاجاً إلى العمارة جاز في الدور والحوانيت. (الفتاوى البزازية ٦/۲۸۵)

الدر المختار میں ہے:

ولم تزد في الأوقاف على ثلاث سنين في الضياع وعلى سنة في غيرها كما مر في بابه والحيلة أن يقعد عقوداً متفرقة كل عقد سنة بكذا، فيلزم العقد الاول لا نه ناجز لا الباقي لأنه مضاف وللمتولي فسخه خانيه (الدر المختار: ٦/٦).

رد المحتار میں ہے:

قال في الإسعاف: ولو استثني في كتاب وقفه فقال لا تؤجر أكثر من سنة إلا إذا كان انفع للفقراء فحينئذ يجوز إيجارها إذا رأي ذلك خيرا من غير رفع إلى القاضي للاذن له منه فيه والظاهر انه لو أذن في ذلك للمتولي صح فافهم. (رد المحتار: ٦/۷).

رد المحتار میں دوسری جگہ پر ہے:

(قوله فلم يزد القيم الخ) يعني إذا شرط الواقف ألا يؤجر أكثر من سنة وإن لم يشترط الواقف فللقيم ذلك بلا اذن القاضي كما في المنح عن الخانية (قوله لفقير) أي فيما إذا كان الوقف على الفقراء، ومثله الوقف على المسجد. (رد المحتار: ٤/٤۰۰).

ان عبارات سے معلوم ہوا کہ ایسا کر نا درست ہے کیونکہ وہ ڈبے اسی لیے بنائے گئے ہیں تا کہ مصلیوں کو کرایہ پر دیں گے لہذا یہ درست ہے، اور وقف کی اشیاء کو کرایہ پر دینا جائز ہے اگر چہ سب کا حق ہے کیونکہ وہ کرایہ کے پیسے وقف پر ہی خرچ ہو ں گے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.