وتر کی نماز یا د ہوتے ہوے فجر پڑھنے سے نمازِ فجر کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #71Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

اگر کوئی صاحب ترتیب رات کو وتر کی نماز نہ پڑھے اور اگلے دن فجر کی نماز پڑھے، تو کیا اس کی نمازِ فجر ادا ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اگر صاحب ترتیب نے وتر یاد ہوتے ہوے اگلے دن فجر کی نماز پڑھ لی تو فجر کی نماز فاسد ہوئی، لیکن یہ فساد پکا نہیں، اگر اس طرح نمازیں پڑھتا رہا یہاں تک کہ چھ نمازیں ہو گئیں تو سب نمازیں خود بخود صحیح ہو جائے گی اور یہ احناف کا مذہب ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں مذکور ہے:

و لو صلى الفجر وهو ذاكر أنه لم يوتر فهي فاسدة عند أبي حنيفة رحمه الله خلافاً لهما وهذا بناء على أن الوتر واجب عنده، سنة عندهما ولا ترتيب فيما بين الفرائض والسنن وعلى هذا إذا صلى العشاء ثم توضأ وصلى السنة والوتر ثم تبين أنه صلى العشاء بغير طهارة فعنده يعيد العشاء والسنة دون الوتر لأن الوتر فرض على حدة عنده وعندهما يعيد الوتر أيضاً لكونه تبعاً للعشاء. (الهداية: ۱/۱۵٦، ط: مكتبه شركة علمية).
يفسد فساداً موقوفاً حتى لو صلى ست صلوات ولم يعد انقلب الكل جائزاً عند أبي حنيفة رحمه الله

(الهداية: ۱/۱۵٦. ط: مكتبه شركة علمية).
وفي الفتاوى السراجية: إذا صلى الفجر وهو ذاكر أنه لم يوتر لم يجز عند أبي حنيفة رحمه الله إلا أن يكون في آخر الوقت. (الفتاوى السراجية، ص ۱۰۱، ط: زمزم پبلشرز).

بہشتی زیور میں ہے: اگر وتر کی نماز قضا ہو گئی اور سوائے وتر کے کوئی اور نماز اس کے ذمہ قضا نہیں ہے تو بغیر وتر کی قضا پڑھے ہوے فجر کی نماز درست نہیں ہے، اگر وتر کا قضا ہونا یاد ہو پھر بھی پہلے قضا نہ پڑھے بلکہ فجر کی نماز پڑھ لیوے تو اب قضا پڑھ کے فجر کی نماز پھر پڑھنی پڑے گی ۔ (بہشتی زیور، ص ۱۵٦، مسئلہ ۱۱، ط: دار الاشاعت) ۔
عمدۃ الفقہ میں ہے: اسی طرح اگر فجر کی نماز پڑھی اور اس کو یاد تھا کہ وتر نہیں پڑھے تو امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک وہ نماز فاسد ہو جائے گی ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۳٤٦) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (عمدۃ الفقہ: ۲/۳۵۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.