صاحب ترتیب کا وتر بھول کر وقتی نماز ادا کرنے کا حکم:
Question
اگر کوئی صاحب ترتیب وتر بھول جائے اور پانچ نمازوں کے بعد یاد آئے تو وتر کے ساتھ دوسری نمازیں بھی قضا کرے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اگر بھول کر وقتیہ نمازیں ادا کر چکا ہے تو یاد آنے کے بعد فقط وتر کی قضا واجب ہے باقی نمازیں صحیح اور درست ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
ثم الترتيب يسقط بالنسيان وبما هو في معنى النسيان كذا في المضمرات. ولو تذكر صلاة قد نسيها بعد ما أدى وقتية جازت الوقتية كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲۲). (وكذا في الهداية: ۱/۷۳، المكتبة الإسلامية، والمحيط البرهاني: ۲/۳٤، ط: دار إحياء التراث).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے:
صاحب ترتیب کے لیے ضروری ہے کہ پہلے فوت شدہ نماز کی قضا کرے پھر وقتی نماز پڑھے، لیکن اگر بھول کر وقتی نماز ادا کر لی پھر بعد میں فوت شدہ نماز یا د آئی تو اس کی وقتی نماز صحیح ہو گئی اور فوت شدہ نماز کو قضا کر لے اور اگر وقتی نماز شروع کرنے سے پہلے اس کو فوت شدہ نماز یا د تھی یا نماز کے دوران یا د آ گئی تو فوت شدہ نماز کو قضا کر کے وقتی نماز کو دوبارہ پڑھے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/٦۲٤) ۔
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
اگر وقت کی نماز ادا کرنے کے بعد کوئی بھولی ہوئی قضا نماز یا د آئی تو وقت کی نماز جائز ہو گئی اس کے لوٹا نے کی ضرورت نہیں قضا نماز کے بھولنے سے اور ان چیزوں سے جو بھولنے کے حکم میں ہیں ترتیب ساقط ہو جاتی ہے کیوں کہ بھولنا آسمانی عذر ہے اس میں بندہ کو اختیار نہیں ہے اور بھولنے کی صورت میں قضا نماز پڑھنے میں ترتیب کا حکم یا د آنے پر مشروط ہے یعنی اس کا وقت یا د آنے سے ہوتا ہے جب تک یا د نہ آئے گی اس وقت تک وقت نہیں ہوگا اور ترتیب لازم نہیں ہو گی ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۳۵۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.