ذاتی رنجش سے امام کو بلا وجہ برطرف کرنا :
Question
ہمارے ہاں امام صاحب ڈھائی سال سے مسجد اور مدرسہ میں خدمت انجام دے ر ہے تھے الحمد للہ اب تک ان کے بارہ میں کوئی شکایت نہیں ہوئی ۔ البتہ چند مہینے پہلے امام صاحب اور ایک طالب علم کے والد کے درمیاں معمولی واقعہ پیش آیا ۔ اتفاق سے یہ آدمی مسجد چیئرمیں (CHAIRMAN) کا لڑکا ہے اس واقعہ کے پیش آنے کے بعد چیئرمیں اور بعض متولیانِ مسجد امام صاحب کی مخالفت کرنے لگے اور امام کو معزول کرنے کی کوشش کرتے ر ہے بالآخر ان کو معزول کر ہی دیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ مدرسہ کو بھی بند کر دیا اور طلبہ کے والدین سے کہ دیا کہ بچے کسی اور مدرسہ میں داخل کرا دیں ۔ بعض متولیوں کے اس برتاؤ کو دیکھ کر جو انہوں نے امام صاحب کے ساتھ روا رکھا دوسرے متولیوں نے استعفاء دے دیا، امام صاحب اسی علاقہ کے ہیں اور وقتاً فوقتاً کبھی نماز پڑھاتے رہتے ہیں کیونکہ نمازیوں کا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن متولی یہاں موجود ہوتے ہیں تو وہ نا خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور مؤذن کو نماز پڑھانے کا کہ دیتے ہیں اس تمہید کے بعد چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں ۔
(۱) مسجد کے متولیوں نے جو برتاؤ عالم امام کے ساتھ کیا ہے کیا شرعاً علماء کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنے کی گنجائش ہے؟
(۲) عام محلے والے اور نمازی ان بعض متولیوں کے اعمال و اخلاق کے ذمہ دار ہوں گے یا نہیں؟
(۳) کیا ایک عالم کو امامت سے روکا جا سکتا ہے جبکہ وہ محلے میں سب سے زیادہ علم والا ہو؟
Answer
قال في التنوير وشرحه:
"ولو أم قوماً وهم له كارهون، إن الكراهة لفساد فيه أو لانّهم احق بالإمامة منه كره له ذلك تحريماً لحديث أبي داود لا يقبل الله صلوة من تقدم قوما وهم له كارهون وإن هو احق لا والكراهة عليهم وهكذا في الهندية. ۱/۸۷."
وفي الدر أيضا:
"الأحق بالإمامة تقديماً، بل نصبا الأعلم بأحكام الصلاة (إلى إن قال) والخيار إلى القوم فإن اختلفوا اعتبر أكثرهم ولو قدموا غير الأولى اساوأ بلا إثم، وفي رد المحتار: قال في التتارخانية ولو أن رجلين في الفقه والصلاح سواء إلا إن أحدهما أقرأ فقدم القوم الأخر فقد اساؤا وتركوا السنة، ولكن لا يأثمون لأنهم قدموا رجلاً صالحاً". (التنوير مع الدر المختار: ۱/۵۵۷).
وفي الدر أيضاً:
"الباني للمسجد أولى من القوم بنصب الإمام والمؤذن في المختار إلا إذا عين القوم اصلح ممن عين الباني لأن منفعة ذلك ترجع إليهم.". الدر المختار: ٤/٤۳۰).
وفي شرح النقاية:
"وفي رواية: إن سركم أن تقبل صلوتكم فليؤكم علماءكم فإنهم وفدكم فيما بينكم وبين ربكم، رواه الطبراني وفي رواية الحاكم فليؤمكم خياركم، وفي رواية، اكرموا حملة القرآن فمن اكرمهم فقد اكرمني وفي رواية حامل القرآن راية الإسلام ومن اكرمه فقد اكرم الله ومن أهانه فعليه لعنة الله" (الجامع الصغير للإمام الحافظ السيوطي. ۱/۱٤۲). (شرح نقايه: ۱/۸٦).
ان عبارات سے امورِ ذیل مستفاد ہوے ۔
اگر امام صاحب خطا کا ر نہیں اور ان بعض متولیوں کی ناراضگی میں امام کا کوئی قصور نہیں اور امام میں کوئی نقص بھی موجود نہیں تو ان متولیوں کی ناراضگی کا کوئی اعتبار نہیں ۔ امام کے پیچھے بلا کراہت نماز درست ہوگی ۔ اور اس معاملہ کا گناہ ان بعض متولیوں پر ہوگا ۔ نیز جب متولیوں کا کسی امام سے اختلاف ہو تو پھر نمازیوں کی اکثریت کی رائے کا اعتبار ہوتا ہے اور جب یہاں نمازیوں کی اکثریت امام سے راضی ہیں تو انہیں کی رائے کا اعتبار ہوگا ۔ نیز جب پورے محلے میں مذکورہ امام ہی سب سے زیادہ حقدار اور امامت کے اہل ہیں تو کسی اور کو امام مقرر کرنا خلاف سنت ہے ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب امام خطا وار نہیں اور نمازی خوش ہیں تو ان بعض متولیوں کی وجہ سے امام کو معزول کرنا جائز نہیں ۔ ذاتی عداوت اور اختلاف کی وجہ سے امام کو معزول کرنے والے اور امام کی توہین کرنے والے ظالم و مجرم ہیں اور سخت گناہ گار ہیں ان کو چاہیے کہ امام صاحب سے معافی مانگیں اور ان پر توبہ لا زم ہے ورنہ وہ فاسق اور مستحق مؤاخذہ ہیں ۔
یہ سوال ایک جانب سے آیا ہے جو بعض متولی حضرات امام کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ان کا موقف ہم نے نہیں سنا اگر وہ شرعی وجوہات کی وجہ سے امام کو پسند نہ کرتے ہوں تو امام کی مخالفت درست ہوگی ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.