استخارہ میں خواب کی حیثیت:
Question
کیا استخارہ میں خواب دیکھنا ضروری ہے یا نہیں؟
Answer
استخارہ میں خواب کا آنا ضروری نہیں ہے، دل کا رجحان کافی ہے ہاں کبھی رجحان خواب کے ذریعہ سے بھی ہو جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں، اگر کوئی خواب نہ آئے لیکن دل کا رجحان جس طرف ہو جائے اس پر عمل کر لے، ان شاء اللہ تعالی اسی میں خیر و برکت ہو گی ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
وفي شرح الشرعة: المسموع من المشايخ أنه ينبغي أن ينام على طهارة مستقبل القبلة بعد قراءة الدعاء المذكور فإن رأى في منامه بياضاً أو خضرة فذلك الأمر خير وإن رأى فيه سواداً أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب. (فتاوى الشامي: ۲/۲۷، سعيد).
شرح شرعۃ الاسلام میں مرقوم ہے: بعض مشائخ سے یہ بات سننے میں آئی ہے کہ نمازِ استخارہ کے بعد دعا پڑھ کر قبلہ رُخ ہو کر سو جائے پھر اگر خواب میں سفید یا سبز رنگ دیکھے تو یہ خیر ہونے کی علامت ہے، اور اگر سیاہ یا سرخ رنگ دیکھے تو یہ نامناسب ہونے کی علامت ہے، اس سے اجتناب مناسب ہے ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:
استخارہ میں کسی چیز کا نظر آنا ضروری نہیں، فیصلے کے لیے ایک طرف رجحان کافی ہے، سو فیصد اطمینان ضروری نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/۲۲۳) ۔
قاموس الفقہ میں مرقوم ہے:
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص خواب نہ دیکھے، لیکن طبیعت کو ایک جہت پر اطمینان ہو جائے، یہ بھی استخارہ کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے کافی ہے، خواب دیکھنا ہی ضروری نہیں ہے ۔ (قاموس الفقہ: ۲/۱۰۷) ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے استخارہ کے بارے میں آتا ہے؛
إن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كتب في الجد والكلالة كتاباً، فمكث يستخير الله، يقول: اللهم إن علمت فيه خيراً فأمضه "، حتى إذا طعن، دعا بالكتاب فمحي فلم يدر أحد ما كان فيه، فقال: إني كتبت في الجد والكلالة كتاباً، وكنت أستخير الله فيه، فرأيت أن أترككم على ما كنتم عليه. (مصنف عبد الرزاق: ۱۰/۳۰۱). (وكذا في المدخل إلى السن الكبرى للبيهقي).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.