منقش و مصور جائے نماز پر نماز پڑھنے کا حکم:
Question
آج کل جائے نماز پر خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کی تصویریں بنی ہوئی ہوتی ہیں، تو کیا ایسے جائے نماز پر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
أفيدونا بارك الله فيكم.
Answer
بیت اللہ اور مسجدِ نبوی کی عظمت اور ان کا احترام ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے، اور جائے نماز پر جو نقش ہوتا ہے وہ اصل کے حکم میں نہیں ہے لہٰذا اس پر بلاکراہت نماز پڑھنا جائز اور درست ہے ۔ نیز یہ غیر ذی روح کی تصویر ہے جو ممنوع تصویر میں داخل نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن أبي طلحة صاحب رسول الله ﷺ قال: إن رسول الله ﷺ قال: إن الملائكة لا تدخل بيتاً فيه الصورة قال بسر: ثم اشتكى زيد فعدناه فإذا على بابه ستر فيه صورة فقلت لعبيد الله ربيب ميمونة زوج النبي ﷺ ألم يخبرنا زيد عن الصور يوم الأول فقال عبيد الله ألم تسمعه حين قال: إلا رقماً في ثوب. (صحيح البخاري، رقم: ۵۹۵۸، باب من كره القعود على الصورة).
قال العيني في شرح أبي داود: وأما تصوير صورة الشجر ونبات الأرض وغير ذلك مما ليس فيه صورة حيوان، فليس بحرام. (شرح أبي داود: ۱/۵۰۵، ط: مكتبة الرشد).
وفي الفتاوى الهندية: ولا يكره تمثال غير ذي الروح كذا في النهاية. (۱/۱۰۷).
شرح منية المصلي
میں مذکور ہے:
وأما صورة غير ذي روح فلا خلاف في عدم كراهية الصلاة عليها أو إليها. (۳۵۹، ط: سهيل اكيڈمي). (وكذا في فتاوى الشامي: ۱/٦٤۹، سعيد، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۳٦۲، قديمي).
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
ان مصلوں پر نماز پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں نہ ان پر کپڑا چڑھانے کی ضرورت ہے نہ ان کو فروخت کرنے کی ضرورت اور اس تصویر سے خانہ کعبہ کی تعظیم میں بھی کوئی فرق نہیں آتا کیوں کہ تصویر کا حکم عین شئی نہیں ہوتا، دوسرے جب خانہ کعبہ میں نماز پڑھی جاتی ہے تو وہاں بھی زمین پیروں کے نیچے ہوتی ہے، جب وہ تعظیم کے منافی نہیں تو تصویر کا پیروں کے نیچے ہونا بطریقِ اولی تعظیم کے منافی نہ ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۹۲، محمودیہ) ۔
فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے:
کعبۃ اللہ وغیرہ کا مصلی پر جو نقش ہوتا ہے چونکہ وہ اصل نہیں بلکہ اس جیسا ایک مصنوعی نقشہ ہے لہٰذا اس کا احترام ضروری نہیں اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی عظمت ہوتی ہے، اہانت کا خیال نہیں ہوتا اس لیے اگر نا دانستہ اتفاقاً پیر پڑ جائے تو گناہ نہ ہوگا ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۸۲، مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
ایضاح المسائل میں مذکور ہے:
ان مصلوں پر پیر رکھنے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، اس لیے کہ تصویر اصلی شئی کے حکم میں نہیں ہوتی بلکہ اصلی شئی سے کم درجہ کی ہوتی ہے ہاں البتہ جائے نماز سادہ ہونا زیادہ بہتر ہے اور جائز دونوں طرح ہیں ۔ (ایضاح المسائل، ص ۱۳۳) ۔
اشکال اور جواب:
اشکال: بعض مفتی حضرات نے اس کو شعائر اللہ کی توہین قرار دیا ہے اس کا کیا جواب ہے؟ ملاحظہ ہو نظام الفتاوی میں مرقوم ہے: اگر بیت اللہ اور مسجدِ نبوی اس پر صحیح اور صاف طور پر نظر آتا ہے تو اس پر پیر رکھنا اور نماز پڑھنا دونوں ناجائز ہے، اس لیے کہ بیت اللہ اور مسجدِ نبوی کا شعائر میں سے ہونا مسلَّم اور ظاہر ہے اور شعائر کا احترام واجب ہے، کما قال اللہ تعالی:
﴿ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب﴾
اور معظم چیز کو پیروں سے روندنا اس کی اہانت کو مستلزم ہے، اور یہ دونوں نقشہ اگر چہ عین کعبہ نہیں لیکن ان کا عکاس ضرور ہے اس لیے ان کی اہانت بھی ان دونوں کی اہانت کو مستلزم ہوں گی ان نقشوں پر سجدہ کرنا ناجائز اور حرام ہوگا، اگر یہ چیز شرک نہ ہو تو ابہامِ شرک ضرور ہے ابہامِ شرک بھی ممنوع ہو جائے گا ۔ (نظام الفتاوی: ۱/٤۸ بتغیر یسیر) ۔
الجواب: اصل اور فرع کا حکم جداگانہ ہوتا ہے اصل کا جو حکم ہوتا ہے وہ بعینہٖ فرع کا حکم نہیں ہوتا بلکہ دونوں میں فرق ہوتا ہے، کتبِ فقہ و اصول میں اس کی نظائر کثیرہ موجود ہیں؛
قال في الهداية: وإن أبرأ الكفيل لم يبرأ الأصيل عنه، لأنه تبع، ولأن عليه المطالبة وبقاء الدين على الأصيل بدونه جائز، وكذا إذا أخر الطالب عن الأصيل فهو تأخير عن الكفيل، ولو أخر عن الكفيل لم يكن تأخيراً عن الذي عليه الأصل. (الهداية: ۳/۱۱۸).
وينظر: (السراجي في الميراث، ص ۳۳، ط: بشرى).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اس تصویر سے خانہ کعبہ کی تعظیم میں بھی کوئی فرق نہیں آتا کیوں کہ تصویر کا حکم عین شئی کا نہیں ہوتا ۔ (۱۱/۹۲، محمودیہ) ۔
فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے: کعبۃ اللہ وغیرہ کا مصلی پر جو نقشہ ہوتا ہے چونکہ وہ اصل نہیں بلکہ اس جیسا ایک مصنوعی نقشہ ہے لہٰذا اس کا احترام ضروری نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۸۲، مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
ایضاح المسائل میں ہے: تصویر اصل شئی کے حکم میں نہیں ہوتی بلکہ اصل شئی سے کم درجہ ہوتی ہے ۔ (۱۳۳) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اصل اور عکس میں فرق ہے لہٰذا جو درجہ بیت اللہ اور مسجدِ نبوی کا ہے وہی درجہ اور حکم تصویر کا نہیں ہے، بنا بریں تصویر کا احترام بھی لازم نہیں ہے ۔ نیز خانہ کعبہ یا مسجدِ نبوی کی تصویر سجدہ کے مقام پر ہوتی ہے پاؤں کی جگہ نہیں ہوتی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.