سعی الی الجمعہ سے ظہر کے باطل ہونے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #138Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص جمعہ کے دن ہوائی جہاز سے سفر کرنے والا تھا، اس لیے اس نے نمازِ ظہر زوال کے فوراً بعد پڑھ لی، پھر معلوم ہوا کہ موسم خراب ہونے کی وجہ سے ہوائی جہاز تاخیر سے روانہ ہو گا، اس وقت وہ گھر پر ہی تھا تو جمعہ کے لیے روانہ ہوا، ٹرافک کی وجہ سے مسجد تک پہنچنے میں دیر ہو گئی، جب پہنچا تو نماز ختم ہو گئی، اب اس شخص کی ادا کی ہوئی ظہر کا کیا حکم ہو گا؟ بینوا توجروا ۔

Answer

امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک سعی الی الجمعہ سے نمازِ ظہر باطل ہو گئی، اب اس کا اعادہ لازم ہے، ہاں صاحبین رحمه الله کے نزدیک امام کی اقتدا نہیں کی اس لیے اعادہ لازم نہیں لیکن چونکہ عبادات میں امام صاحب کے قول پر فتوی ہے اس لیے شخص مذکور پر ظہر کا اعادہ لازم ہو گا ۔ ملاحظہ ہو اللباب میں مذکور ہے:

فإن بدا له، أي لمن صلى الظهر ولو بمعذرة على المذهب، أن يحضر الجمعة فتوجه إليها، والإمام فيها ولم تقم بعد بطلت صلاة الظهر، أي وصف الفرضية وصارت نفلاً، عند أبي حنيفة رحمه الله بالسعي، وإن لم يدركها، وقالا: لا تبطل حتى يدخل مع الإمام، قال في التصحيح، ورجح دليل الإمام في الهداية، واختاره البرهاني والنسفي. (اللباب: ۱/۱۱۲).
وقال في ملتقى الأبحر: لو صلى الظهر قبلها جاز مع الكراهة ثم إذا سعى إليها والإمام فيها تبطل ظهره وقالا: لا تبطل ما لم يدرك الجمعة ويشرع فيها. (ملتقى الأبحر، ص ۱۳٦).

مزید ملاحظہ ہو : (
مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي، ص ۵۲۱، وفتح باب العناية: ۲/۱۵، والهداية: ۱/۱۷۰، والتصحيح والترجيح على مختصر القدوري، ص ۱۸۵، ط: بيروت).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.