نماز میں سورۂ فاتحہ اور سورت کے درمیان تسمیہ پڑھنے کا حکم:
Question
نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے یا نہیں؟ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ نہیں پڑھنا چاہیے، بعض میں لکھا ہے کہ پڑھنا چاہیے، اب صحیح اور معمول بہ قول کون سا ہے؟
Answer
سورۂ فاتحہ کے بعد سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کے بارے میں فقہائے احناف کے درمیان اختلاف ہے لیکن اصح اور معمول بہ یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔
ملاحظہ ہو درِ مختار مع ردِ محتار میں منقول ہے:
لا تسن بين الفاتحة والسورة مطلقاً، ولو سرية ولا تكره اتفاقاً وما صححه الزاهدي من وجوبها ضعفه في البحر. وفي رد المحتار: وذكر في المحيط: المختار قول محمد رحمه الله وهو أن يسمي قبل الفاتحة وقبل كل سورة في كل ركعة
قوله ولا تكره اتفاقاً، ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأنه سمى بين الفاتحة والسورة المقروءة سراً وجهراً كان حسناً عند أبي حنيفة رحمه الله ورجحه المحقق ابن الهمام رحمه الله وتلميذه الحلبي رحمه الله لشبهة الاختلاف في كونها آية من كل سورة، بحر. (فتاوى الشامي: ۱/٤۹۱، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: (
البحر الرائق: ۱/۳۱۲، ط: كوئته، والهداية مع فتح القدير: ۱/۲۹۳، دار الفكر).
فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے:
سورۂ فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا بہتر ہے۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۲۹، طبع قدیم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.