اللہ کے ہمزہ یا اکبر کے ہمزہ میں مد کرنے سے نماز کا حکم:
Question
ایک صاحب نماز میں اللہ اکبر میں پہلی ہمزہ میں مد پیدا کرتا ہے اور آللہ اکبر کہتا ہے، کیا اس کی نماز فاسد ہوئی یا نہیں؟ اور اگر اکبر کی جگہ اکبار پڑھے تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
اکثر علماء نے لکھا ہے کہ اللہ اکبر کے پہلے ہمزہ میں مد کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی، اور باء کے بعد مد کے مفسد ہونے میں اختلاف ہے، ہاں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ پہلے ہمزہ میں مد کرنے سے نماز فاسد نہ ہو گی۔ دونوں اقوال میں تطبیق کی یہ صورت ہو گی کہ اگر عوام الناس غلبہ جہل کی وجہ سے ایسا کریں تو مفسد نہیں بشرطیکہ ان کو کسی نے تنبیہ نہ کی ہو، لیکن اگر تنبیہ کرنے کے بعد بھی اصلاح کی کوشش نہ کریں تو مفسد ہے، البتہ عالم فاضل ایسی غلطی کرے تو نماز نہیں ہو گی۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
اعلم أن المد إن كان في الله، فأما في أوله أو وسطه أو آخره، فإن كان في أوله لم يصر به شارعاً وأفسد الصلاة لو في أثنائها، ولا يكفر إن كان جاهلاً لأنه جازم والإكفار في الشك في مضمون الجملة، وإن كان في وسطه، فإن بالغ حتى حدث ألف ثانية بين اللام والهاء كره، قيل: والمختار أنها لا تفسد، وليس ببعيد وإن كان في آخره فهو خطأ ولا يفسد أيضاً وقياس عدم الفساد فيهما صحة الشروع بهما، وإن كان المد في أكبر، فإن في أوله فهو خطأ مفسد وإن تعمده قيل: يكفر للشك، وقيل: لا، ولا ينبغي أن يختلف في أنه لا يصح الشروع به، وإن في وسطه أفسد، ولا يصح الشروع به، وقال الصدر الشهيد: يصح، وينبغي تقييده بما إذا لم يقصد به المخالفة كما نبه عليه محمد بن مقاتل، وفي المبتغى: لا يفسد لأنه إشباع وهو لغة قوم، وقيل يفسد لأن أكبار اسم ولد إبليس.
فإن ثبت أنه لغة فالوجه الصحة؛ وإن في آخره فقد قيل: يفسد الصلاة وقياسه أن لا يصح الشروع به أيضاً كذا في الحلية ملخصاً. (فتاوى الشامي: ۱/۲۸۰، سعيد).
البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں مرقوم ہے:
لو مد ألف الله، لا يصير شارعاً وخيف عليه الكفر إن كان قاصداً، وكذا لو مد ألف أكبر، أو باءه، لا يصير شارعاً؛ لأن أكبار جمع أكبر، وهو الطبل، وقيل: اسم للشيطان، ولو مد هاء الله، فهو خطأ لغة، وكذا لو مد راء ومد لام الله، صواب، وجزم الهاء خطأ لأنه لم يجئ إلا في ضرورة الشعر. (البحر الرائق: ۱/۳۱٤، كوئته).
نیز فتاوی محمودیہ (٦/٦۳۷)، فتاوی دار العلوم دیوبند (۲/۱۷٦)، فتاوی رحیمیہ (۲/٤۱۸) اور بہشتی زیور (دوسرا حصہ، ص ۱۴۳) میں بھی مفسد نماز قرار دیا ہے۔ ہاں غلبہ جہل کی وجہ سے احسن الفتاوی میں غیر مفسد بتایا ہے۔
احسن الفتاوی کی عبارت ملاحظہ ہو :
علامہ شامی رحمه الله نے حلیہ وغیرہ سے نقل فرمایا ہے کہ تکبیر میں اسمِ ذات اللہ اور اکبر کے الف کو کھینچ کر پڑھنا مفسدِ نماز ہے، اور لام کو اتنا کھینچنا کہ ایک الف مزید پیدا ہو جائے مکروہ ہے، مفسد نہیں، اسی طرح باء کو کھینچنا مکروہ ہے، باء کے مد کے مفسد ہونے میں اختلاف ہے، اور راء پر پیش کھینچ کر پڑھنا مفسد ہے۔ مگر غلبہ جہل کی وجہ سے متاخرین کا یہ فیصلہ ہے کہ اعراب اور مد کی غلطی مفسد نہیں، البتہ اگر کوئی تنبیہ کے باوجود اصلاح کی کوشش نہیں کرتا تو اس کی نماز نہیں ہو گی، اور غلط خواں کو امام بنانا بہر صورت ناجائز ہے، بجز اس مجبوری کے کہ کوئی صحیح پڑھنے والا موجود نہ ہو، اس کی تفصیل میرے رسالہ "الارشاد الی مخرج الضاد" میں ہے۔ (احسن الفتاوی: ۳/٤۲٤)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.