مالِ حرام سے بنی ہوئی مسجد کا حکم:

4 min readFatwa Vol 1 #347Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

اگر کوئی مسجد مالِ حرام سے بنی ہوئی ہو تو اس کو اکھاڑا جائے گا یا اس میں نماز پڑھی جائے گی؟

Answer

بعض اکابر رحمہ اللہ اس مسئلہ میں احتیاطا سختی فرماتے ہیں کہ اگر خالص حرام سے یا غالب حرام سے بنی ہو تو اس میں نماز مکروہ تحریمی ہے ۔ اور اس کو اکھاڑ کر یا گرا کر اس کی جگہ دوسری مسجد بنا دے یا اس مسجد کو بند رکھا جائے لیکن حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے امداد الاحکام میں تحریر فرمایا ہے کہ جتنا مالِ حرام لگایا گیا اگر اتنی مقدار میں صدقہ کر دیا جائے تو اس میں نماز پڑھنا جائز ہوگا بشرطیکہ سامان خریدنے کے وقت اس مالِ حرام کی طرف اشارہ کر کے سامان نہ خریدا گیا ہو ۔ ملاحظہ ہو:
امداد الاحکام میں ہے:
مالِ حرام سے بنائی ہوئی مسجد وہ ہے جس میں گارا اور اینٹ و لکڑی وغیرہ مغصوب ہوں یا زمیں مغصوب ہو اور اگر رقم حرام کی ہو تو وہ رقم تو مسجد میں نہیں لگتی بلکہ اس سے خریدا ہوا سامان مسجد میں لگا ہے اب اگر یہ صورت ہوئی کہ سامان اولا ادھار منگا لیا گیا پھر قیمت مال حرام سے ادا کر دی گئی تو مسجد میں مال حرام نہیں لگا، اور اگر قیمت نقد دی گئی تو اس میں دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ مالِ حرام دکھلا کر معاملہ کیا گیا کہ ان روپیوں کی فلاں چیز دے دو، دوسری یہ کہ مالِ حرام دکھلا کر معاملہ نہیں کیا گیا بلکہ یوں کہا کہ دس روپیہ یا پندرہ روپیہ کی چیز دے دو، اور قیمت میں روپیہ مطلق تھا پھر اس قیمت کو مالِ حرام سے نقد ادا کر دیا صورتِ اولی میں خریدی ہوئی شئے حرام ہوں گی اور ان کا مسجد میں لگانا ہی حرام ہوا اور دوسری سورت میں خریدی ہوئی شئے حرام نہیں ہوئی، اس کا لگانا مسجد میں درست ہو گیا، گو اس کا گناہ ہوا کہ مالِ حرام سے قیمت ادا کی ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳٤۳) ۔

رد المحتار
میں ہے:

(قوله اكتسب حراما الخ) توضيح المسألة ما في التاتارخانية حيث قال رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشتري فهذا على خمسة أوجه: (۱) أما أن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشتري منه بها (۲) أو اشتري قبل الدفع بها ودفعها (۳) أو اشتري قبل الدفع بها ودفع غيرها (٤) أو اشتري مطلقا ودفع تلك الدراهم (۵) أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم، قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشتري بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوي الآن على قلو الكرخي دفعا للحرج عن الناس.
وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوي اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعاً للدرر وغيرها. (رد المحتار: ۵/۲۳۵).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.