چھوٹی بچی کو مرد کے غسل دینے کا حکم:
Question
اگر ایک سال یا دو سال کی بچی کا انتقال ہو جائے تو اس کو مرد غسل دے سکتا ہے یا عورت ہی غسل دے گی؟ اور مرد کا غسل دینا مکروہ ہوگا یا جائز؟
Answer
چھوٹی بچی کو مرد کا غسل دینا جائز اور درست ہے ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں مرقوم ہے:
والصبي الذي لا يشتهى والصبية كذلك غسلهما الرجال والنساء. (البحر الرائق: ۲/۱۸۸، دار المعرفة بيروت).
فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
فإن كانت الميت صغيراً لا يشتهى جاز أن يغسله النساء وكذا إذا كانت صغيرة لا تشتهى جاز للرجل غسلها. (الفتاوى الهندية: ۱/۱٦۰).
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے: اگر لڑکا ایسا چھوٹا ہو کہ اس کو خواہش نہ ہوتی ہو تو جائز ہے کہ اس کو عورتیں نہلائیں اور اسی طرح اگر لڑکی چھوٹی ہو جو ابھی حدِ شہوت کو نہ پہنچی ہو تو جائز ہے کہ مرد اس کو نہلائیں، جو لڑکا یا لڑکی حدِ شہوت کو پہنچ گئے وہ بالغ کے حکم میں ہیں پس ایسے لڑکے کو اجنبی عورت نہیں نہلا سکتی اور ایسی لڑکی کو مرد نہیں نہلا سکتا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۵۰۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.