پانچ تکبیریں کہنے سے نمازِ جنازہ کا حکم:
Question
ایک امام صاحب نے کسی جنازہ پر پانچ تکبیریں کہہ دیں، تو کیا نمازِ جنازہ ہو گئی یا اعادہ کی ضرورت ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
نمازِ جنازہ میں پانچ تکبیروں کی وجہ سے کوئی خرابی نہیں آتی نماز ہو گئی، اعادہ کی بھی ضرورت نہیں ہے، ہاں پانچویں تکبیر میں مقتدی امام کا اتباع نہ کریں، پھر امام کے ساتھ سلام پھیر دیں ۔
قال في الدر المختار: ولو كبر إمامه خمساً لم يتبع لأنه منسوخ فيمكث المؤتم حتى يسلم معه إذا سلم به يفتى. وفي رد المحتار: قوله لأنه منسوخ، لأن الآثار اختلفت في فعل رسول الله ﷺ فروي الخمس والسبع والتسع وأكثر من ذلك إلا أن آخر فعله عليه الصلاة والسلام كان أربع تكبيرات فكان ناسخاً لما قبله
قوله به يفتى، رجححه في فتح القدير بأن البقاء في حرمة الصلاة بعد فراغها ليس بخطأ مطلقاً إنما الخطأ في المتابعة في الخامسة. (الدر المختار: ۲/۲۱٤، سعيد).
وفي حاشية الطحطاوي: ولكن ينتظر سلامه في المختار ليسلم معه في الأصح. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص: ۵۸۷، قديمي).
فتاوی فریدیہ میں ہے: پانچ تکبیرات کرنے سے جنازہ میں نقصان نہیں آتا البتہ زائد تکبیر میں مقتدی امام کے ساتھ تکبیر نہ کریں گے اور سلام پھیرنے میں اس امام کے ساتھ شریک ہوں گے ۔ (فتاوی فریدیہ: ۳/۲۱٦) ۔
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے: سوال: نماز میں سہواً بجائے چار تکبیر کے پانچ تکبیر پر سلام پھیرا تو نماز جنازہ ادا ہو گی یا نہیں؟ جواب: نماز ہو گئی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/۵۵٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.