فرض یا واجب عمل کا ایصالِ ثواب کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #216Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

فرض یا واجب عمل کا ثواب کسی کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟ مثلاً فجر کی نماز کا ثواب مرحومین کو بخش دے تو اس کی اجازت ہو گی یا نہیں؟

Answer

فرض یا واجب عمل کا ثواب دینا جائز اور درست ہے اور مرحوم کو اس سے نفع ہو گا ۔
ملاحظہ علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله البحر الرائق میں لکھتے ہیں:

وظاهر إطلاقهم يقتضي أنه لا فرق بين الفرض والنفل فإذا صلى فريضة وجعل ثوابها لغيره فإنه يصح لكن لا يعود الفرض في ذمته، لأن عدم الثواب لا يستلزم عدم السقوط عن ذمته، ولم أر منقولاً. (البحر الرائق: ۳/٦٤، ط: دار المعرفة بيروت).
منحة الخالق
میں علامہ شامی رحمه الله لکھتے ہیں:

قوله المصنف: ومن أهل بحج عن أبويه فعين صح، قال: في الشرنبلالية يفيد بطريق أولى أنه إذا أهل عن أحدهما على الإبهام له أن يجعلها عن أحدهما بعينه كما في الفتح وتعليل المسألة بأنه متبرع بجعل ثواب عمله لأحدهما يفيد وقوع الحج عن الفاعل فيسقط به الفرض عنه، وإن جعل ثوابه لغيره. (منحة الخالق حاشية البحر الرائق: ۳/٦۸، ط: كوئته).

الدر المنتقی فی شرح الملتقی میں علامہ علاء الدین حصکفی رحمه الله لکھتے ہیں:

وللإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره في جميع العبادات، فرضاً أو نفلاً. (الدر المنتقى في شرح الملتقى: ۱/۳۱۰). وللمزيد ينظر: (فتاوى الشامي: ۲/۲۳٤، سعيد، و ۵۹۵، سعيد).

باقیاتِ فتاوی رشیدیہ میں مرقوم ہے:
سوال: نفل نماز اور روزہ کا ثواب زندہ آدمی کو ہبہ کرنا جائز ہے، یا نہیں؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ فرض نماز روزہ میں نیابت درست نہیں، لیکن ادائے فرض سے دو فائدے ہیں: سقوط عذاب اور حصول ثواب، سو اگر کوئی شخص فرائض کا فقط ثواب دوسرے شخص کو ہبہ کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ اور نفل عبادت کا ثواب فاسق کو ہبہ کرنا درست ہے، یا نہیں؟
جواب: ثواب نوافل کا زندہ کو بھی دینا درست ہے جیسا کہ مردہ کو دینا درست ہے، نفل اور فقط فرض کا ثواب دے سکتے ہیں، اور فاسق کو ثواب دے سکتے ہیں ۔ (باقیاتِ فتاوی رشیدیہ، ص ۱۹۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.