حکومت کے بلا غسل و کفن و بلا نماز دفن کرنے پر نماز کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #222Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

مغربی افریقہ میں ایک قسم کی بیماری ایبولا (EBOLA) کے نام سے پھیلی، اطباء کے نزدیک یہ مرض متعدی قرار پایا اور بہت سارے لوگ اس کی بنا پر موت کا شکار ہوئے، حکومت نے لوگوں کو ان کے قریب آنے سے منع کر دیا حتی کہ ان کے رشتہ داروں کو بھی اجازت نہیں ملی، خود حکومت نے بلا غسل و کفن و بلا نماز کے دفن کر دیا، بعض ان میں سے مسلمان بھی تھے، اب مسلمانوں پر کیا حکم عائد ہوتا ہے، ان کو کیا کرنا چاہیے؟

Answer

مسلمانوں کو چاہیے کہ حتی الامکان کوشش کر کے مسلمان میت کو حکومت سے چھڑا کر غسل، کفن اور نمازِ جنازہ کے ساتھ دفن کریں، یعنی جو میت کے حقوق ہیں ان کو پورا کریں، لیکن بصد کوشش ناکامی ہو تو جسم کے پھٹنے سے پہلے قبر پر ہی نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن رجلاً أسود أو امرأة سوداء كان يقم المسجد فمات، فسأل النبي ﷺ عنه، فقالوا: مات قال: أفلا كنتم آذنتموني به دلوني على قبره، أوقال: قبرها، فأتى قبرها فصلى عليها. (رواه البخاري: ۱/٦۵/٤۵۸، فيصل).
قال في الدر المختار: وإن دفن وأهيل عليه التراب بغير صلاة، أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له صلي على قبره استحساناً ما لم يغلب على الظن تفسخه من غير تقدير هو الأصح. وظاهره أنه لو شك في تفسخه صلي عليه.
قوله وأهيل عليه التراب فإن لم يهل أخرج وصلي عليه كما قدمناه، بحر، قوله أو بها بحر، والصحيح أنه لا يصلى على قبره في هذه الحالة لأنها بلا غسل غير مشروعة كذا في غاية البيان لكن في السراج وغيره قيل: لا يصلى على قبره وقال الكرخي: يصلى وهو الاستحسان لأن الأولى لم يعتد بها لترك الشرط مع الإمكان والآن زال الإمكان فسقطت فرضية الغسل وهذا يقتضي ترجيح الإطلاق وهو الأولى. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/ ۲۲٤، سعيد). (وكذا في المحيط البرهاني: ۲/۳۲۸، والبحر الرائق: ۲/۱۸۲، والفتاوى الهندية: ۱/۱٦۵).

فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
اگر اس کو ہاتھ لگا کر غسل دینا دشوار تھا تو لوٹے یا مشک سے پانی بہا دیا جاتا، اگر یہ بھی نہ ہو سکتا تھا تو ہاتھ پر تھیلی باندھ کر صرف تیمم کرا دیا جاتا تو پھر نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جاتا اور جس میت کو بلا غسل و نماز دفن کر دیا جائے اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا حکم ہے جب تک اس کے پھٹ جانے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کا ظن غالب نہ ہو ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/۵۰۱، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.