عذابِ قبر میں روح کا تعلق جسم کے ساتھ ہونے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #234Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک ثواب و عذابِ قبر روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے، لیکن بہت مرتبہ جسم کو شیر، چیتا وغیرہ درندے کھا لیتے ہیں، یا قبرستان ویران ہو جاتا ہے اور اس کی کھدائی کر کے لوگ مٹی اِدھر اُدھر لے جاتے ہیں تو عذاب اور ثواب روح کے ساتھ جسم پر کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

قبر مدفن ہے اور برزخ سے مراد موت سے لے کر حشر تک کا زمانہ ہے جو عالمِ برزخ کہلاتا ہے، اور مرنے کے بعد ہر فردِ بشر عالم برزخ میں پہنچتا ہے خواہ وہ قبر میں دفن کیا جائے یا شیر، چیتے وغیرہ درندے کا شکار ہو جائے یا پانی میں ڈوب کر سمندری جانور کی خوراک بن جائے یا جل کر راکھ ہو جائے اور راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے، غرض کسی بھی شکل میں ہو قادرِ مطلق کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ جسم کے بکھرے ہوئے اجزا کے ساتھ روح کا تعلق پیدا کر دے اور ان تمام اجزا میں آرام یا تکلیف کا احساس پیدا ہو جائے، کیوں کہ عالمِ برزخ ایک الگ عالم ہے جس کو دنیا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ اور احادیث میں قبر کا ذکر اس وجہ سے آتا ہے کہ لوگ عموماً مردوں کو قبر میں دفن کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو : شرح عقائد النسفیہ میں مرقوم ہے:

وأنكر عذاب القبر بعض المعتزلة والروافض لأن الميت جماد لا حياة له ولا إدراك له فتعذيبه محال. الجواب: أنه يجوز أن يخلق الله تعالى في جميع أجزائه أو بعض أجزائه نوعاً من الحياة قدر ما يدرك ألم العذاب أو لذة التنعيم، وهذا لا يستلزم إعادة الروح إلى بدنه، ولا أن يتحرك ويضطرب أو يرى أثر العذاب عليه حتى أن الغريق في الماء والمأكول في بطون الحيوانات والمصلوب في الهواء معذب وإن لم نطلع عليه. (شرح العقائد النسفية، ۱۳۰).
قال في الجواهر البهية: وعذاب القبر حق يعني العذاب قبل الحشر ولو في قعر البحر وحواصل الطيور وبطون السباع وإضافة العذاب إلى القبر بناء على كثرة الوقوع، لأن أكثر الناس يدفنون في القبور. (الجواهر البهية: ۲/٤).
قال الإمام الغزالي رحمه الله في الاقتصاد في الاعتقاد: وأما الذي تأكله السباع فغاية ما في الباب أن يكون بطن السبع قبراً وإعادة الحياة إلى جزء يدرك العذاب ممكن. وفي حاشيته: إنما سمي عذاب القبر بالتغليب، وإلا فالأصل أنه عذاب أو نعيم البرزخ. (۱/٦۸).

شیخ عبد الغنی میدانی حنفی شرح عقیدۃ الطحاویہ میں لکھتے ہیں:

قوله في قبره، جرى على الغالب، وإلا فمن أكلته السباع وأحرقته النار ومن لم يدفن. (ص ۱۱۷).

عبد المحسن سنن ابی داود کی شرح میں لکھتے ہیں کہ عالمِ برزخ کو عالمِ دنیا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا :

والمهم في الأمر: إن المسلم؛ لا يتردد ولا يتوقف في الإيمان والتصديق بما جاء به كتاب الله عز وجل وسنة رسوله ﷺ، سواء أدركه أو لم يدركه، وسواء عقله أو لم يعقله، مع العلم بأن أمور الآخرة ليست مثل أمور الدنيا، وأمور البرزخ ليست مثل أمور الدنيا، حتى يقيس الإنسان هذا على هذا، فإن هناك فرقاً، ولا يستوي أمور الدنيا وأمور الآخرة، فإذا وجد الإنسان الشيء الذي لا يعرفه فلا يتوقف ويتردد أو يشك فيما جاء به الحديث عن رسول الله ﷺ، بل الواجب التصديق والإيمان. (شرح سنن أبي داود: ۱/۲).

عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
علماء نے فرمایا کہ عذابِ برزخ کو عذابِ قبر کہتے ہیں اور برزخ دنیا و آخرت کی درمیانی مدت کو کہتے ہیں جس میت کو اللہ تعالی عذاب کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کو اسی عالمِ برزخ میں عذاب کرتا ہے چاہے میت کو دفن کریں یا جانور کو کھلا دیں یا سولی پر چڑھا دیں یا جلا کر خاک کر دیں یا باریک کر کے ہوا میں اڑا دیں یا دریا میں غرق کر دیں، اللہ تعالی اس کے عذاب کرنے پر ہر طرح قادر ہے جس طرح چاہے عذاب کرے اور عذابِ برزخ کو اس واسطے عذابِ قبر کہتے ہیں کہ اکثر یہ عذاب قبر میں ہوتا ہے یا یوں کہیں گے کہ اصل قبر وہی ہے جہاں برزخ کا مقام ہے اور زمین کے گڑھے کو مجازاً قبر کہتے ہیں ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۵۵۰، ط: زوار اکیڈمی) ۔
مزید دیکھیں: (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۲/٤۲۱، ط: طبع جدید) ۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ ثوابِ قبر اور عذابِ قبر کا تعلق قبر والے آدمی کی روح کے ساتھ ساتھ اس کے جسدِ مثالی سے ہے، وہ جسد اگر چہ مثالی ہے لیکن روح کے تعلق کی وجہ سے وہ جسد مثالی اصلی کی طرح ہو جائے گا اور اس کو ثواب و عذاب ہوگا، شبِ معراج میں رسول اللہ ﷺ حضرت موسی علیہ السلام کی قبر سے گزرے تو آپ نے عالمِ برزخ والے حضرت موسی علیہ السلام کے جسدِ مثالی کا مشاہدہ فرمایا تھا، جسدِ مثالی کا مقام اللہ تعالی کو معلوم ہے، ہمیں اس کا علم نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.