اسکول کی فیس زکوٰۃ سے منہا کرنے کا حکم:
Question
کیا تعلیم حاصل کرنے کی فیس کو زکوٰۃ سے منہا کیا جائے گا یا نہیں؟ ایک عورت یونیورسٹی کی فیس ادا کرنے کے لیے چند مہینوں سے کچھ پیسے جمع کرتی ہے، تو زکوٰۃ ادا کرتے وقت فیس کی رقم منہا کی جائے گی یا پورے پیسے میں زکوٰۃ واجب ہو گی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
گزشتہ سال یا ماہ کی واجب الاداء فیس کی رقم منہا کر کے زکوٰۃ ادا کی جائے گی، لیکن آئندہ ماہ کی یا آئندہ سال کی فیس کی رقم منہا نہیں کی جائے گی ۔ یعنی جو اس کے ذمہ قرض ہے وہ منہا کریں گے لیکن آئندہ جو اس کے ذمہ واجب ہونے والی ہے وہ رقم منہا نہیں ہو گی ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقي معه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي وإن كان قصد الإنفاق أيضاً في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا وبين ما حال الحول عليه وهو محتاج منه إلى أداء دين. (فتاوى الشامي: ۲/۲٦۳، سعيد).
وفي البحر الرائق: في معراج الدراية في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. (البحر الرائق: ۲/۲۰٦، كوئته).
(وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۷۱۵، ط: قديمي).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں مرقوم ہے:
اگر اپنی بہت سی ضروریات کو بند کر کے کسی خاص ضرورت کے لیے روپیہ جمع کیا جائے تو سال بھر کے بعد اس پر زکوٰۃ ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/٦٤، کبیر، ط: دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.