برائے حج جمع کردہ رقم پر زکوٰۃ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #52Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

ایک شخص نے پاکستان یا ہندوستان میں حج کے لئے جمادی الثانیہ میں رقم جمع کرائی، اور حج کی منظوری آ گئی لیکن رمضان تک حج کے لئے نہیں گیا جب کہ رمضان زکوٰۃ کا مہینہ ہے پھر ذی قعدہ میں گیا اس پر رمضان میں اس رقم کی زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں؟ اور فرض اور نفل حج کا فرق ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں جو رقم بعد رمضان اس کو مل گئی اس پر زکوٰۃ لازم ہے اور جتنی رقم حکومت نے ضروریاتِ حج کے لئے لے لی وہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے یعنی اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاج به فحال الحول وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي وإن كان قصده الإنفاق منه أيضاً في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها. (شامي: ۲/۲٦۲، سعيد).

احسن الفتاوی میں ہے:
آمد و رفت کے کرایہ اور معلم وغیرہ کی فیس کے لئے جو رقم دی گئی ہے اس پر زکوۃ نہیں ہے، اس سے زائد رقم جو کرنسی کی صورت میں اس کو واپس ملے گی اس میں سے یکم رمضان تک جتنی رقم بچے گی اس پر زکوۃ فرض ہے، جو خرچ ہو گئی اس پر نہیں،
قال في الشامية: إذا أمسكه لينفق منه كل

الخ
۔ (احسن الفتاوی ٤/۲٦٤)۔
بعض مفتی حضرات فرماتے ہیں کہ کل رقم پر زکوۃ فرض ہے۔ ملاحظہ ہو: خیر الفتاوی: ۳/٤۷٤، وغیرہ۔
لیکن جب آدمی حج کے لئے رقم جمع کراتا ہے اور اس کے بدلے میں اس کو حج کے انتظام کا حق مل جاتا ہے تو یہ رقم حاجی صاحب کی ملکیت سے نکل گئی ہاں جو رقم واپس ملے گی اس پر زکوۃ ہو گی، جب رقم ملکیت سے نکلی تو اس پر زکوٰۃ نہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو کھیت کی سیرابی کے لئے نہر کے انتظام کا حق مل جائے اور اس کے عوض رقم ادا کرے تو یہ رقم ملکیت سے نکلی، ہدایہ میں حق الشرب کی بیع کو جائز کہا یا حق المرور کے عوض آدمی کسی کو رقم دے دے تو وہ ملکیت سے نکل گئی یا اجارہ میں ایک سال کا کرایہ پہلے سے ادا کر دیا تو وہ رقم بھی ملکیت سے نکل گئی یا استصناع میں جوتا بنانے کا آرڈر دے دیا اگر چہ ابھی تک تیار نہیں ہوا لیکن جب ثمن دے دے تو رقم ملکیت سے نکل گئی اور یہ مسئلہ اجارہ کی طرح یوں ہے کہ حکومت بمنزلہ اجیر ہے اور یہ شخص بمنزلہ مستاجر ہے اور اگر اجارہ میں پہلے سے اجرت دی جائے تو وہ اجرت ملکیت سے خارج ہو جاتی ہے۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

ثم الأجرة تستحق بإحدى معانٍ ثلاثة: إما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل، أو باستيفاء المعقود عليه، فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة، فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۳، كتاب الإجارة، في بيان متى تجب الأجرة).

بدائع الصنائع میں ہے:

لأنهما لما شرطا تعجيل البدل لزم اعتبار شرطهما لقوله عليه السلام "المسلمون على شروطهم" وملك الآجر البدل حتى تجوز له هبته والتصدق به والإبراء عنه. (بدائع الصنائع: ٤/۲۰۳، فصل في حكم الإجارة، سعيد).

لہذا حکومت اس رقم کی مالک بن گئی اور حاجی صاحب پر اس کی زکوۃ نہیں اور ہم اس مسئلہ میں حضرت مفتی رشید صاحب صاحبِ احسن الفتاوی کے تابع ہیں۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
سفر حج کے کرایہ اور مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران ہونے والے لازمی اخراجات، اس کی حاجتِ اصلیہ یعنی بنیادی ضروریات میں داخل ہیں، ان میں زکوۃ واجب نہیں، اس سے زائد جو رقم حاجی اپنے طور پر سفر حج میں خرچ کرتا ہے وہ حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں اس کی زکوۃ واجب ہو گی۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ ص۲۷٤)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.