بڑی بلڈنگ میں ایک فلیٹ مسجد کے لیے مخصوص کرنے کا حکم:

21 min readFatwa Vol 1 #352Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

آج کل بڑے شہروں میں مساجد کے لیے الگ جگہ خریدنے اور اس کی تعمیر کے سلسلہ میں بہت دشواریاں ہیں پھر بعض غیر مسلم ممالک میں شاندار مسجد متعصب غیر مسلموں کے حسد اور انتقام کا نشانہ بھی بنتی ہے، جبکہ مسلمانوں کے لیے مسجد ضرورت کے درجے میں ہے اس لیے کہ اعتکاف اور مسجد کا ثواب وغیرہ مسجد کے ساتھ مخصوص ہیں تو اگر بڑی بلڈنگ میں ایک فلیٹ کو مسجد کے لیے خریدا جائے اور اس کے اوپر نیچے رہائشی مکانات ہوں تو کیا یہ فلیٹ مسجد بن جائے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شریعتِ مطہرہ نے مسجد کو ایک خاص اہمیت دی ہے اور اس کے احکام بھی دیگر احکامِ اوقاف سے کچھ جداگانہ ہیں، چنانچہ ظاہر الروایہ کے مطابق کسی مسجد کے مسجدِ شرعی ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ زمیں جس پر مسجد کی عمارت کھڑی کی جا رہی ہے وہ وقف ہو یعنی مسجد کے تحتانی اور فوقانی حصے کا وقف ہونا ضروری ہے اور اس سے کلیۃً حق العبد کا منقطع ہونا لازم اور ضروری ہے اس کے بغیر وہ مسجد، مسجدِ شرعی نہیں کہلائے گی ۔ ملاحظہ فرمائیں علامہ فخر الدین زیلعی رحمہ اللہ شرحِ کنز میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوے رقم طراز ہیں:

ومن جعل مسجداً تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل بابه إلى الطريق وعزله أو اتخذ وسط داره مسجداً وأذن للناس بالدخول فله بيعه ويورث عنه، لأنه لم يخلص لله لبقاء حق العبد فيه والمسجد لا يكون إلا خالصاً لله لما تلونا ومع بقاء حق العبد في أسفله أو في أعلاه أو في جوانبه محيطاً به لا يتحقق الخلوص كله أما إذا كان السفل مسجداً فلأن لصاحب العلو حقاً في السفل حتى لا يكون لصاحب السفل أن يحدث فيه شيئاً من غير رضا صاحب العلو وأما إذا جعل العلو مسجداً فلأن أرض العلو ملك لصاحب السفل وليس له من التصرفات شيء من غير رضا صاحب السفل كالبناء وغيره بخلاف مسجد بيت المقدس فإن السرداب فيه ليس بمملوك لأحد بل هو لمصالح المسجد حتى لوكان غيره مثله نقول بأنه صار مسجداً وأما إذا اتخذ وسط داره مسجداً فلأن ملكه محيط بجوانبه فكان له حق المنع من الدخول والمسجد من شرطه ألا يكون لأحد فيه حق المنع قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ﴾ ولأنه لم يفرزه حين أبقي الطريق لنفسه فلم يخلص لله. (تبيين الحقائق: ۳/۳۳۰، ط: إمداديه، ملتان).
وللاستزادة ينظر: (البحر الرائق: ۵/۲۷۱، ط: دار المعرفة، والهداية: ۲/، وفتح القدير: ٦/۲۳٤، ط: دار الفكر، والعناية شرح الهداية).

ہاں اگر بلڈنگ میں مسجد کے اوپر کا فلیٹ یا نیچے کا فلیٹ وقف ہو اور ابتدائی تعمیر کے وقت بانی حضرات نے مسجد کے اوپر اور نیچے کا حصہ مسجد سے خارج کر دیا ہو اور اس کا کرایہ مسجد کے لیے کر دیا ہو تو اس صورت میں فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ مسجد، مسجدِ شرعی کے حکم میں ہوگی ۔ ملاحظہ ہو الدر المختار مع شامی میں ہے:

قال في الدر المختار: وإذا جعل تحته سرداباً لمصالحه أي المسجد جاز كمسجد القدس أو جعل فوقه بيتاً (فرع) لو بني فوقه بيتاً للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع، ولو قال: عنيت ذلك لم يصدق، التتارخانية. وقال في الشامية: قوله أو جعل فوقه بيتاً الخ. ظاهره أنه لا فرق بين أن يكون البيت للمسجد أو لا، إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجداً فيما إذا لم يكن وقفاً على مصالح المسجد وبه صرح في الإسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفاً عليه صار مسجداً. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۵۷، ۳۵۸، مطلب في أحكام المسجد، سعيد).

اور فقہاء کا یہ قول کہ مسجدِ شرعی کے شرط یہ ہے کہ نیچے اوپر دونوں مسجد ہوتا کہ بندہ کا حق بالکلیہ منقطع ہو جائے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تحت و فوق کا حقیقۃً بجمیع وجوہ مسجد ہونا ضروری ہے، بایں طور کہ تمام احکامِ مسجد اس پر مرتب ہوں، مثلاً: حائضہ و جنبی کے دخول کا ممنوع ہونا، بیع و شراء کا مکروہ ہونا وغیرہ، بلکہ فقہاء کی غرض یہ ہے کہ تحت اور فوق دونوں سے حق العبد کلیۃً منقطع ہو چکا ہو اگر کسی شخص کی ملکیت اس پر ہوگی تو اس کی مسجدیت میں خلل واقع ہوگا، اور اگر تحت و فوق دونوں مسجد کے متعلقات پر وقف کر دیے جائیں تو حق العبد ختم ہوگا اور مسجد کی مسجدیت میں کوئی خلل نہیں آئے گا ۔
چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ وضاحت کرتے ہوے فرماتے ہیں:
یہ مسجد اس وقت مسجد ہوگی جب اس سرداب و علو کو مصالح مسجد کے لیے بناوے یا مسجد پر وقف کر دے اور حاصل عبارتِ بحر کا یہ ہے کہ یہ جو فقہاء کے کلام سے مفہوم ہوتا ہے کہ مسجد اس وقت مسجد ہوتی ہے کہ اس علو و سفل سب مسجد ہو ۔ سو اس کلام سے یہ نہ سمجھا جاوے کہ علو و سفل بھی مسجد ہی ہو بلکہ اس اشتراط سے اصل مقصود یہ ہے کہ اس سے حق عبد منقطع ہو جاوے خواہ مسجدیت کی وجہ سے یا وقف علی المسجد کی وجہ سے پس اشتراط مسجدیت تمثیلاً ہے نہ کہ حصراً اور اصل اشتراط انقطاعِ حق العبد ہے، اور اگر تمثیلاً نہ ہو تو تعلیلاً ہے تو اشتراکِ علت سے کہ وہ انقطاعِ حق عبد ہے، حکم معلول بھی عام ہوگا اور جہاں انقطاع نہ ہو وہ مسجد نہ ہوگی اور لینقطع الخ؛ سے چونکہ اس عدمِ انقطاع کی صورت بھی مفہوم ہوتی تھی اس اعتبار سے آگے بخلاف کہ ر ہے ہیں اور یہ قول:
لأنه مسجد إلى عنان السماء وكذا إلى تحت الثري
، یہ اس صورت میں جب پہلے سے اس کے نیچے ہے اب نہ بنایا ہو پس تبعاً سب مسجد ہو جاوے گا اور جب اول ہی سے اس کے نیچے سرداب بنا لیا ہو تو قصد سے وہ جز و مستثنیٰ ہو جاوے گا:
وللقصد ترجيح على التبع
(امداد الفتاویٰ: ۲/٦٦۰) ۔
جواہر الفقہ میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
اگر کوئی مسجد اس طرح بنائی جائے کہ نیچے دکانیں یا تہ خانہ وغیرہ بنا کر ان کی چھت پر مسجد کا صحن یا مسجد کی کوئی عمارت ہے تو یہ اس شرط پر جائز ہے کہ نیچے کی دکانیں مسجد کی طرح وقف ہوں اور ان کی آمدنی مسجد کے مصالح میں صرف ہو اور اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ مسجد کی چھت پر کوئی مکان بغرض مصالح مسجد بنا دیا جائے، ان دونوں صورتوں میں اس مسجد کی مسجدیت میں کوئی خلل نہ آئے گا چنانچہ فتاوی شامی میں بحوالہ اسعاف نقل کیا ہے اس صورت میں نیچے کی دکانیں اور اوپر کا مکان وغیرہ مسجد میں داخل نہ ہوگا اور اسی بنا پر ان کا کرایہ دینا، ان میں تجارت کرنا غسل کی حالت والے آدمی اور حیض و نفاس والی عورت کا ان میں داخل ہونا وغیرہ سب جائز ہوگا ۔
تنبیہ: لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صورت صرف اسی وقت ہو سکتی ہے کہ مسجد بنانے کے وقت اول ہی بنانے والے نے اوپر کے مکان یا نیچے کے تہ خانہ یا دکان وغیرہ کو مسجد سے علیحدہ کر کے کرایہ پر دینے اور اس کو مسجد پر وقف کرنے کی نیت کر لی ہو، ورنہ اگر اول مسجد بنا دی گئی تو پھر بعد میں اس کے نیچے کوئی دکان یا اوپر کرایہ کے لیے مکان بنانا ہرگز جائز نہیں الخ ۔ (جواہر الفقہ، جلد سوم، ص: ۱۲۳ ۔ ۱۲٤، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (مجموعۃ الفتاوی از حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ: ۱/۲۱۹ ۔ ۲۲۳، و فتاویٰ رحیمیہ: ۵/۱۸۹) ۔
ضرورت زمانہ اور غیر ظاہر الروایہ:
مسئلہ مذکورہ بالا میں ظاہر الروایہ کے علاوہ ائمہ مذہب سے چند اور روایتیں بھی مروی ہیں، جن کو صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے ۔ عبارت ملاحظہ کیجیے:

وروي الحسن رحمه الله عنه أنه قال: إذا جعل السفل مسجداً وعلي ظهره مسكن فهو مسجد لأن المسجد مما يتأبد وذلك يتحقق في السفل دون العلو، وعن محمد رحمه الله على عكس هذا لأن المسجد معظم وإذا كان فوقه مسكن أو مستغل يتعذر تعظيمه وعن أبي يوسف رحمه الله أنه جوز في الوجهين حين قدم بغداد ورأي ضيق المنازل فكأنه اعتبر الضرورة، وعن محمد رحمه الله أنه حين دخل الري أجاز ذلك كله لما قلنا. (الهداية: ۲/٦٤٤، كتاب الوقف).

امام حسن بن زیاد رحمہ اللہ نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ اگر نچلی منزل مسجد بنا دی جائے اور اس کے اوپر رہائش گاہ تو مسجد ہو گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کے مسجد ہونے کے لیے تابید اور پائداری ضروری ہے، اوپر کی منزل میں پائداری نہیں ہے، نیچے کی منزل زمیں ہے جس میں پائداری ہے ۔
اور امام محمد رحمہ اللہ سے جو روایت منقول ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے، ان کا کہنا ہے کہ مسجد اوپر ہو سکتی ہے نیچے رہائش گاہ یا ذریعہ آمدنی کی دکانیں، اس لیے کہ اگر مسجد کے اوپر رہائش گاہ، یا دکانیں بنوائی جائیں گی تو مسجد کی عظمت اور اس کے تقدس میں خلل واقع ہوگا ۔
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ روایت منقول ہے کہ جب وہ بغداد میں آ کر قیام پذیر ہوے اور گنجان آبادی کے ساتھ اراضی کی قلت دیکھی اور ضرورت محسوس فرمائی تو اجازت دی کہ چاہے اوپر مسجد ہو یا نیچے اور دوسری منزلوں کو ذاتی استعمال میں لا یا جائے تو بھی مسجد، مسجد شرعی ہو جائے گی ۔ اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جب وہ "رئے" تشریف لا کر وہاں مقیم ہوے اور آبادی کی کثرت کی وجہ سے حرج اور تنگی دیکھی اجازت مرحمت فرمائی کہ نیچے اوپر جس طرح مسجد ہو اور دوسری منزلوں کو ذاتی استعمال میں لا یا جائے تب بھی وہ مسجد، شرعی مسجد ہو جائے گی، گویا کہ صاحبین رحمہ اللہ نے مدار احتیاج اور ضرورت پر رکھا اور اجازت مرحمت فرمائی ۔
محقق ابن ہمام رحمہ اللہ اس پر روشنی ڈالتے ہوے تحریر فرماتے ہیں:

وهذا تعليل صحيح، لأنه تعليل بالضرورة. (فتح القدير: ٦/۲۳۵، ط: دار الفكر).

مطلب یہ ہے کہ یہ علت صحیح ہے کیونکہ اس میں ضرورت کو مدِ نظر رکھا گیا ہے، تو جب اس قسم کی ضرورت و حاجت پیش آئے تو مخصوص حالات میں اس پر غور کیا جا سکتا ہے ۔ ہاں عام حالات میں ظاہر الروایہ پر عمل راجح ہے ۔ اور اصولِ افتاء کے مناسب بھی ہے ۔ کما فی شرح عقود رسم المفتی ۔
فتاوی تاتارخانیہ میں بھی صاحبین رحمہ اللہ کے یہ اقوال منقول ہیں:

وفي رواية الحسن رحمه الله: يجوز السفل دون العلو، وعند محمد رحمه الله يجوز العلو أيضاً، وفي جامع الفتاوى: إذا كان السفل مملوكاً وفوقه مسجداً جاز وعن أبي يوسف رحمه الله أنه أجاز أن يكون الأسفل مسجداً، والأعلى ملكاً، وعن محمد رحمه الله أنه حين دخل الري ورأي ضيق الأمكنة جوز ذلك. (الفتاوى التاتارخانية: ۵/۸٤۳، أحكام المسجد).
(وكذا في الجوهرة النيرة: ۲/۲۵، ط: إمداديه، ملتان).

علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ نے ان روایات کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

وحاصله أن شرط كونه مسجداً أن يكون سفله وعلوه مسجداً لينقطع حق العبد عنه هذا هو ظاهر المذهب وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية. (البحر الرائق: ۵/۲۵۱، ط: كوئته). (وكذا في فتاوى الشامي: ٤/۳۵۸، سعيد).

تبیین الحقائق میں علامہ فخر الدین زیلعی رحمہ اللہ نے بھی یہ روایات ذکر فرمائی ہیں اور حاشیہ میں امام شہاب الدین شلبی لکھتے ہیں:
وهذه الروايات كلها خلاف ظاهر الرواية. (حاشية تبيين الحقائق: ۳/۳۰۰، ط: إمداديه، ملتان).

حاصل یہ ہے کہ یہ اقوال ضعیف ہیں اور ظاہر الروایہ کے خلاف ہیں تو عام حالات میں مفتیٰ بہ قول پر عمل ہوگا، لیکن مخصوص حالات میں بوقتِ ضرورت جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ان اقوال پر عمل کرنے کی گنجائش ہو سکتی ہے جب کہ صاحبین کے اقوال بھی قواعدِ مذہب کے موافق ہیں ۔ جیسے کہ قاعدہ ہے:
الضرورات تبيح المحظورات". (قواعد الفقه: ۸۹). والمشقة تجلب التيسير. (ص ۱۲۲). وغيره.

اور فقہاء نے بوقتِ ضرورت ضعیف قول پر عمل کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے:
چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ حیض کے بیان میں فرماتے ہیں:

وفي معراج الدراية معزياً إلى فخر الأئمة: لو أفتي مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلباً للتيسير كان حسناً. (البحر الرائق: ۱/۲۰۲، دار المعرفة).
(وكذا في فتاوى الشامي: ۱/۲۸۹، سعيد).

اگر چہ عبادات میں مطلقاً قولِ امام کو ترجیح ہے لیکن بوقتِ ضرورت صاحبین کے قول پر فتوی دینے کی اجازت ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لا يرجح قول صاحبيه أو أحدهما على قوله إلا لموجب، وهو إما لضعف دليل الإمام وإما للضرورة (شرح عقود رسم المفتي، ص ٤۱).

مفتی عمیم الاحسان المجددی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مسألة: لا يجوز العمل والإفتاء بالضعيف والمرجوح إلا عن ضرورة فلو أفتي في مواضع الضرورة طلباً للتيسير كان حسناً. (قواعد الفقه، ص ۵۷٦).

علامہ شامی رحمہ اللہ طہارت کے بیان میں بوقتِ ضرورت اور عام ابتلا میں آسانی کے پہلو کو مدِ نظر رکھتے ہوے فرماتے ہیں:
قال: وقال في شرح المنية: المعلوم من قواعد أئمتنا التسهيل في مواضع الضرورة والبلوي العامة كما في مسألة آبار الفلوات ونحوها. (فتاوى الشامي: ۱/۱۸۹، سعيد).

حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ظاہر الروایہ پر عمل لا زم نہیں خصوصاً نادر الروایہ مؤید بالحدیث ہو تو اسی کو لینا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو فیض الباری میں فرماتے ہیں:

واعلم أن الروايات إذا اختلفت عن إمامنا في مسألة، فعامة مشايخنا يسلكون فيها مسلك الترجيح، فيأخذون بظاهر الرواية، ويتركون نادرها، وليس بسديد عندي، سيما إذا كانت الرواية النادرة تتأيد بالحديث، فإني أحمله على تلك الرواية، ولا أعبأ بكونها نادرة فإن الرواية إذا جاءت عن إمامنا لا بد أن يكون لها عنده دليل من حديث أو غيره (فيض الباري: ۱/۳۵۷، باب ما إذا ذكر في المسجد انه جنب خرج كما هو، كتاب الغسل).

معلوم ہوا کہ خارجی وجوہات کی وجہ سے ظاہر الروایہ کا ترک جائز ہے جیسا کہ فی زماننا حالات اور ضرورت کے پیش نظر اگر غیر ظاہر الروایہ جو کہ امام صاحب ہی سے مروی ہے اس پر عمل کیا جائے تو گنجائش ہونی چاہیے ۔
نیز بوقتِ احتلام امساکِ ذکر سے وجوبِ غسل کے بارے میں فقہاء نے بوقتِ ضرورت خاص مسافر اور مہمان کے لیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر فتوی دیا ہے تاکہ حرج اور تنگی کا شکار نہ ہو جائے ۔ ملاحظہ ہو:

قال في الدر: وبقوله يفتي في ضيف خاف ريبة أو استحيي وفي القهستاني التاتارخانية معزياً للنوازل: وبقول أبي يوسف رحمه الله نأخذ، لأنه أيسر على المسلمين، قلت: ولا سيما في الشتاء والسفر. وفي الشامية: وفي الذخيرة: إن الفقيه أبا الليث رحمه الله، وخلف بن أيوب رحمه الله أخذا بقول أبي يوسف رحمه الله، وفي جامع الفتاوى: إن الفتوى على قوله، قوله: قلت؛ ظاهره الميل إلى اختيار ما في النوازل فينبغي الإفتاء بقوله في مواضع الضرورة فقط، تأمل. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۱٦۰، سعيد).

مفتی جاد الحق علی جاد الحق مفتی جمہوریۃ مصر العربیہ نے فتاوی دار الافتاء المصریہ میں مساجد کے بارے میں پہلے راجح قول بیان کرنے کے بعد ضرورت کے پیش نظر صاحبین کے قول کو لینے کی اجازت دی ہے ۔
عبارت ملاحظہ فرمائیے:

وعلى هذا إذا كانت هناك ضرورة تدعو إلى المشروع المسئول عنه فلا بأس بالأخذ بقول الصاحبين رحمه الله في الرواية المذكورة عنهما لأنها تتفق مع قواعد المذهب كقاعدة "الضرورات تبيح المحظورات"، وقاعدة: "المشقة تجلب التيسير". وغيرهما وهذا مقرر في قول الله عزوجل: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾ [الحج: ۷۸] والله تعالى أعلم. (فتاوى دار الإفتاء المصرية: ۷/۱۵۵).

بطورِ ختامِ مسک امیر شریعت حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمہ اللہ کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:
غیر ظاہر الروایہ مسائل پر بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیں: پس حاصل یہ ہے کہ عام حالات میں:
۱ ۔ ظاہر الروایہ یہ ہے کہ اگر بوقتِ بنائے مسجد کسی ایک منزل کو مسجد اور دوسری منزل کو مسجد کے مصالح، یا اس کی آمدنی کے لیے وقف کر کے واقف اپنی ملکیت سے خارج کر دے تو یہ مسجد، مسجدِ شرعی ہو جائے گی ۔
۲۔ اور اگر ایک منزل کو مسجد بنا کر دوسری منزل کو واقف اپنے ذاتی استعمال کے لیے رکھے تو ظاہر الروایہ یہ ہے کہ یہ مسجد نہیں ہوگی ۔
۳۔ حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق اگر نچلی منزل مسجد اور اوپر کی منزل اپنے ذاتی استعمال کے لیے رکھی جائے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک درست ہوگا ۔
٤۔ امام محمد بن حسن رحمہ اللہ سے ظاہر الروایہ کے خلاف یہ روایت ملتی ہے کہ اگر اوپر کی منزل مسجد بنائی جائے اور نیچے کی منزل اپنے ذاتی استعمال میں رکھی جائے تو درست ہوگا ۔
اور عام حالات میں ظاہر الروایہ پر عمل راقم الحروف کے نزدیک اقرب الی الفقہ، اوفق بالزمان اور قابل فتوی ہے جس پر عمل آسان ہے ۔
یہ تمام اقوال و روایات عام حالات میں ہیں، مخصوص حالات میں ایک دوسرا قول بھی منقول ہے، یعنی جب امام ابو یوسف رحمہ اللہ بغداد میں آ کر آباد ہوے، گھنی آبادی کے اس شہر میں اراضی کی قلت دیکھی، اسی طرح امام محمد بن حسن رحمہ اللہ "ری" میں جا کر قیام پذیر ہوے اور ان نو آباد شہروں میں کثرت آبادی کی وجہ سے پیدا ہونے والی تنگی کو دیکھا تو ان دونوں حضرات نے رائے دی کہ چاہے اوپر مسجد ہو، یا نیچے اور دوسری منزلوں کو ذاتی استعمال میں لا یا جائے تو بھی مسجد، مسجدِ شرعی ہو جائے گی، اس قول کا تعلق عام نارمل حالات سے نہیں ہے، بلکہ ضرورت اور حاجت کی صورت میں اس رائے کو ان دونوں بزرگوں نے اختیار کیا ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ صورت بابِ ضرورت و حاجت کی ہے جن پر مخصوص حالات میں غور کیا جا سکتا ہے ۔ (مباحثِ فقہیہ، ص ۲٦۵، ۲٦٦) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.