حضرت فاطمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہما کے نکاح کا خطبہ:

8 min readFatwa Vol 9 #316Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

نکاح پڑھانے کے وقت کون سا خطبہ پڑھنا چاہیے؟ اور کہاں سے ثابت ہے؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کے وقت آنحضرت ﷺ نے کون سا خطبہ پڑھا تھا؟ میں نے سنا ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح نجاشی نے پڑھایا تھا تو انہوں نے خطبہ پڑھا تھا یا نہیں؟ اگر پڑھا تھا تو کون سا ؟

Answer

عقدِ نکاح سے پہلے ایسا خطبہ جس میں اللہ تعالی کی حمد اور نبی ﷺ پر درود و سلام ہو پڑھنا سنت ہے، ہاں جو عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه سے خطبۃ الحاجہ کے نام سے مشہور ہے اس کا پڑھنا بہتر ہے۔ وہ خطبہ ابو داود شریف کی روایت میں مذکور ہے ملاحظہ ہو :

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه في خطبة الحاجة في النكاح وغيره

"إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، يا أيها الذين اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام، إن الله كان عليكم رقيباً، يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون، يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولاً سديداً يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزاً عظيماً. (سنن أبي داود: ۲/ ۲۰۳/۲۱۲۰، باب في خطبة النكاح، ط: دار الكتاب العربي).
قال في رد المحتار: وأطلق الخطبة فأفاد أنها لا تتعين بألفاظ مخصوصة وإن خطب بما ورد فهو أحسن. (فتاوى الشامي: ۳/۸، ط: سعيد).

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کے وقت آپ ﷺ نے درج ذیل خطبہ پڑھا تھا۔
ملاحظہ ہو شرحِ زرقانی علی مواہبِ اللدنیہ میں مرقوم ہے:

في حديث أنس رضي الله عنه

فقال ﷺ: الحمد لله المحمود بنعمته، المعبود بقدرته، المطاع المرهوب من عذابه وسطوته، النافذ أمره في سماء وأرضه، الذي خلق الخلق بقدرته وميزهم بأحكامه، وأعزهم بدينه، وأكرمهم بنبيه محمد ﷺ أن الله تبارك اسمه وتعالت عظمته جعل المصاهرة سبباً لاحقاً، أمراً مفترضاً، أوشج به الأحكام، وألزم به الأنام، فقال عز من قائل: ﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا
ۗ
وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا﴾، [الفرقان: ۵٤] فأمر الله يجري إلى قضاءه، وقضاء يجري إلى قدره، ولكل قضاء قدر، ولكل قدر أجل، ولكل أجل كتاب، يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب، ثم الله تعالى أمرني أن أزوج فاطمة رضي الله عنه من علي بن أبي طالب رضي الله عنه، فاشهدوا أني قد زوجته على أربعمائة مثقال فضة إن رضي بذلك علي. (شرح الزرقاني: ۲/۳٦۲).

ترجمہ: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو قابل تعریف ہے اپنی نعمت کی وجہ سے، اور معبود ہے اپنی قدرت کی بنیاد پر، اس کی اطاعت کی جاتی ہے، اور اس سے ڈرا جاتا ہے اس کے عذاب اور پکڑ کی وجہ سے، اپنے حکم کو زمین اور آسمان میں نافذ کرنے والا ہے، جس نے مخلوق کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اور اپنے احکام سے ان کو ممیز کیا، اور اپنے دین کے ذریعہ ان کو اعزاز بخشا، اور اپنے نبی محمد ﷺ کے ذریعہ ان کا آ کرام کیا، اللہ تعالی کا نام بابرکت ہے، اور اس کی ذات بڑی عظمت والی ہے، اور اس نے سسرالی رشتہ داری کو ملاپ کا ذریعہ بنایا، اس کے ذریعہ رشتہ داریوں کو جوڑا، اس کو مخلوق پر لازم کیا، اللہ تعالی فرماتے ہیں: اور وہ ایسی ذات ہے جس نے پانی سے آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا، سسرال والا بنا دیا اور تیرا رب بڑی قدرت والا ہے، پس اللہ تعالی کا حکم اس کے فیصلہ کا نتیجہ ہے اور اس کا فیصلہ اس کی تقدیر کا ثمرہ ہے، اور ہر فیصلہ مقدر ہے اور ہر امر مقدر کے لیے ایک وقت ہے اور ہر زمانہ کے لیے خاص خاص احکام جاری ہوتے ہیں، اللہ تعالی جس حکم کو چاہے منسوخ کر دیتے ہیں اور جس حکم کو چاہے قائم رکھتے ہیں، اور اصل کتاب اُسی کے پاس ہے، پھر اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں فاطمہ رضی الله عنه کا نکاح علی بن ابی طالب رضی الله عنه سے کر دوں، تو آپ لوگ گواہ رہیں، میں نے چار سو مثقال چاندی پر نکاح کرا دیا اگر علی رضی الله عنه اس پر راضی ہو ۔
مزید ملاحظہ ہو : (تاریخ الخمیس: ۱/۳٦۲، و مرقاۃ المفاتیح: ۱۷/٤۵۲، و السیرۃ الحلبیۃ: ۲/٤۷۲، ط: دار المعرفۃ) ۔

وفي مختصر تاريخ مدينة دمشق: محمد بن دينا ر العرقي، روي عن هشيم، بسنده إلى أنس بن مالك رضي الله عنه قال: بينا أناْ عند النبي ﷺ إذ غشيه الوحي، فلما سري عنه قال: هل تدري ما جاء به جبريل من عند صاحب العرش؟ قلت: لا، قال: إن ربي أمرني أن أزوج فاطمة من علي بن أبي طالب رضي الله عنه، انطلق فادع لي أبا بكر وعمر وعثمان وطلحة والزبيرث، وبعددهم من الأنصار، فانطلقت، فدعوتهم، فلما أخذوا المقاعد، قال النبي ﷺ

(مختصر تاريخ مدينة دمشق: ٦/٤۹۱).

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کا خطبہ نجاشی نے پڑھایا تھا۔ ملاحظہ ہو دلائل النبوہ میں ہے:

أن أم حبيبة رضي الله عنه بنت أبي سفيان رضي الله عنه قالت: ما شعرت وأناْ في أرض الحبشة إلا برسول النجاشي، جارية يقال لها أبرهة، كانت تقوم على ثيابه ودهنه، فاستأذنت علي، فأذنت لها، فقالت: إن الملك يقول لك: إن رسول الله ﷺ كتب إلى أن أزوجكه، فقلت: بشرك الله بخير، وقالت: يقول لك الملك: وكلي من يزوجك، فأرسلت إلى خالد بن سعيد رضي الله عنه فوكلته، وأعطيت أبرهة سوارين من فضة، وخدمتين من فضة كانتا علي، وخواتم من فضة كانت في كل أصبع رجلي، سروراً بما بشرتني به، فلما أن كان من العشي أمر النجاشي جعفر بن أبي طالب رضي الله عنه ومن هنا من المسلمين يحضرون وخطب النجاشي، فقال: الحمد لله الملك القدوس السلام المؤمن المهيمن العزيز الجبار، أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبده ورسوله، وأنه الذي بشر به عيسى ابن مريم عليه السلام، أما بعد، فإن رسول الله ﷺ كتب إلى أن أزوجه أم حبيبة بنت أبي سفيان، فأجبت إلى ما دعا إليه رسول الله ﷺ، وقد أصدقتها أربعمائة دينار، ثم سكب الدنانير بين يدي القوم. (دلائل النبوة للإمام البيهقي: ۳/٤٦۱/۱۳٤٦).

روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ نجاشی نے جعفر بن ابی طالب رضی الله عنه اور جو مسلمان وہاں تھے ان کو جمع کر کے خطبہ پڑھا اور خطبہ کے بعد فرمایا کہ: اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے یہ تحریر فرمایا کہ میں آپ کا نکاح ام حبیبہ رضی الله عنه سے کر دوں، پس میں نے آپ کا نکاح آپ کے ارشاد کے مطابق کر دیا اور چار سو دینار مہر مقرر کیا۔
مزید ملاحظہ ہو : (البدایۃ و النہایۃ: ٤/۱٦٤، ط: دار إحیاء التراث العربی، و مختصر تاریخ مدینۃ دمشق: ۳/۱۷٦، و امہات المؤمنین فی مدرسۃ النبوۃ للشیخ مصطفی طحان، ص ٦۹، و زوجات النبی، ص ۷۸، و السیرۃ الحلبیۃ: ۲/۷۵۸، ط: دار المعرفۃ، بیروت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.