غیر مسلم کی گواہی سے نکاح کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #323Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک نو مسلم لڑکی کا نکاح ایک مسلمان مرد سے ہوا اور نکاح کے گواہوں میں اس کا بھائی اور والد تھا اور دونوں غیر مسلم تھے اور دونوں کا اصرار تھا کہ گواہ بن جائیں، اور نکاح پڑھانے والا مسلمان تھا، تو اس حالت میں نکاح ہوا یا نہیں؟ بینوا بالدلیل ۔

Answer

اگر رجسٹر میں گواہوں کے خانے میں غیر مسلم بھائی اور والد کے نام درج تھے، لیکن مجلس نکاح میں دوسرے مسلمان موجود تھے تو ان سب کی گواہی سے نکاح ہو گیا، البتہ اگر مجلس نکاح میں صرف دولہا، دلہن تھے اور غیر مسلم بھائی اور والد تھے، ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا تو نکاح نہیں ہوا، دو مسلمان گواہوں کی موجود گی میں دو بارہ نکاح کیا جائے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں مذکور ہے:

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولاً كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف

ولا بد من اعتبار الإسلام في أنكحة المسلمين لأنه لا شهادة للكافر على المسلم. (الهداية: ۲/۳۰٦، ط: المصباح).

بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:

وأما صفات الشاهد الذي ينعقد به النكاح

ومنها: الإسلام في نكاح المسلم المسلمة فلا ينعقد نكاح المسلم المسلمة بشهادة الكفار لأن الكافر ليس من أهل الولاية على المسلم قال الله تعالى: ﴿ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلاً﴾ وكذا لا يملك الكافر قبول نكاح المسلم. (بدائع الصنائع: ۲/۲۵۳، سعيد).

حاضرین مجلس کی گواہی سے نکاح صحیح ہو نے سے متعلق در مختار میں منقول ہے:

ولو بعث مريد النكاح أقواماً للخطبة فزوجها الأب أو الولي بحضرتهم صح، فيجعل المتكلم فقط خاطباً والباقي شهوداً، به يفتي فتح. وفي الشامي: قوله صح، في الفتح عن الفتاوى: قيل: لا يصح

وقيل: يصح وهو الصحيح وعليه الفتوى لأنه لا ضرورة في جعل الكل خاطباً فيجعل المتكلم فقط والباقي شهوداً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۷، سعيد).

کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
مسلمہ عورت کے نکاح کے انعقاد و جواز کے لیے مسلمان شاہدوں کی موجود گی اور ایجاب و قبول کو سننا شرط ہے، ایک گواہ مسلمان اور ایک غیر مسلم ہو تو نکاح جائز نہ ہوگا ۔ (کفایت المفتی: ٦/۵۰۸، جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
جب مجمع کے سامنے ایجاب و قبول کرایا گیا ہے تو وہی سب گواہ ہیں، مستقلاً مقرر کر کے گواہ بنانا ضروری نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/٦۲۱، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.