" میں تم سے محبت کرتا ہوں" اِن الفاظ سے ثبوتِ رجعت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #336Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دی، پھر نو یا دس دن کے بعد شوہر نے فون پر بیوی سے کہا (I Love you) میں تم سے محبت کرتا ہوں، کیا اِن الفاظ سے فون پر رجوع صحیح ہوا یا نہیں؟

Answer

رجعت کا ثبوت جس طرح الفاظِ صریحہ سے ہوتا ہے اسی طرح الفاظِ کنایہ سے نیت کے ساتھ ہوتا ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں، میں تم سے محبت کرتا ہوں، یہ کنایہ کے الفاظ ہیں، اگر شوہر نے مذکورہ الفاظ کہتے وقت رجعت کی نیت کی تھی تو رجعت ثابت ہو گئی، اب دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

ألفاظ الرجعة صريح وكناية: فالصريح راجعتك في حال خطابها وراجعت امرأتي في حال غيبتها وحضورها أيضاً

والكنايات: أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعاً إلا بالنية. (فتح القدير: ٤/۱۵۹، دار الفكر). (وكذا في فتاوى الشامي: ۳/۳۹۸، سعيد، وفتاوى الهندية: ۱/٤٦۸، وكتاب الفقه على المذاهب الأربعة: ٤/۳۳۰).

قاموس الفقہ میں مذکور ہے:
رجعت ایسے الفاظ سے بھی ہو سکتی ہے جو صراحۃً رجعت کے مفہوم کو بتلاتے ہوں اور ایسے الفاظ سے بھی جن میں کسی قدر ابہام ہو اور ان میں رجعت کے سوا دوسرے معنی کی بھی گنجائش ہو فقہ کی اصطلاح میں ایسے الفاظ کنایہ کہلاتے ہیں، جیسے تو میرے نزدیک ویسے ہی ہے جیسے پہلے تھی، ایسے الفاظ سے نیت کی ضرورت ہو گی، اگر رجعت کی نیت کی تو رجعت ہو گی ورنہ نہیں ۔ (قاموس الفقہ: ۳/٤۷۳، ط: زمزم) ۔
(و کذا فی فتاوی محمودیہ: ۱۳/۳٦٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.