بلا بیانِ نفع مطلق شرکت کا حکم:
Question
زید ایک چھوٹی سی دکان چلاتا تھا، خالد ایک بڑی کمپنی کا مینیجر تھا، اس نے زید کے ساتھ شرکت کا ارادہ کیا زید نے کہا ٹھیک ہے، پھر کئی مہینوں کے بعد بڑی دکان کرایہ پر ملی تو زید نے خالد کو اطلاع دی، خالد نے کمپنی سے اپنی معرفت بہت رعایتی قیمت پر اُدھار مال دلوانا شروع کیا، زید محنت کرتا تھا اور خالد مال فراہم کرتا تھا، یہاں تک کہ خوب ترقی کی، زید خالد سے ماہانہ تنخواہ حاصل کرتا تھا، اور دکان کے پیسے مال میں خالد کو ادا کر دیتا تھا، خالد کی شرکت کی وجہ سے زید کو دو فائدے ہوئے ؛۱ ۔ مال بہت ہی رعایتی قیمت میں ملا، ۲ ۔ اُدھار ملا اور پیسے دینے میں کوئی جلدی نہیں تھی، اطمینان سے دینا ہوتا تھا ۔ اب دریافت طلب دو باتیں ہیں: ۱ ۔ کیا زید کا خالد سے ماہانہ تنخواہ لینا درست ہے یا نہیں؟ ۲ ۔ زید کی محنت سے دکان نے ترقی کر لی کیا خالد بھی اس دکان میں شریک ہوگا یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنے فیصد جب کہ نفع کی تقسیم کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ زید اور خالد کے درمیان شرکت کا معاملہ صحیح اور درست ہے، ہر ایک کو آدھا آدھا منافع ملے گا، اور زمانہ حال کے فقہاء کے نزدیک شریک اجیر اور ملازم بن سکتا ہے، اس لیے زید کا تنخواہ لینا بھی صحیح ہے، بظاہر اس قسم کی شرکت میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو اس قسم کے معاملہ کے بارے میں فقیہ النفس امام قاضی خان رحمه الله اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
رجل اشتري عبداً وقبضه فطلب رجل آخر منه الشركة فيه فاشركه كان العبد بينهما نصفين. (فتاوى قاضيخان بهامش الفتاوى الهندية: ۳/٦۱۷).
عالمگیری میں بھی اس طرح کے معاملہ میں نصف نصف کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو :
ولو أقر فلان شريكي فيما في هذا الحانوت فإن جميع ما في الحانوت يصير مشتركاً بينهما. (الفتاوى الهندية: ٤/۲۲۰)
کسی شخص نے یہ اقرار کیا کہ فلاں آدمی میرا شریکِ تجارت ہے تو جو کچھ اس دکان میں ہے اس دکان کا تمام مال دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
قال: أنت شريكي في التجارات فما في أيديهما من متاع التجارات بينهما وكذلك الدراهم والدنانير. (الفتاوى الهندية: ٤/۲۲۰)
ایک شخص نے دوسرے سے یہ کہا کہ آپ میری تمام تجارتوں میں شریک ہیں تو جو کچھ ان دونوں کے پاس اموالِ تجارت ہیں وہ ان کے درمیان نصف نصف ہوگا، اسی طرح دراہم و دنانیر کا حکم ہوگا یعنی لفظِ شرکت کی وجہ سے نقد بھی دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا ۔
فتح القدیر میں محقق ابن ہمام رحمه الله فرماتے ہیں کہ مطلق شرکت دونوں کے درمیان برابری چاہتی ہے یعنی آدھا آدھا منافع ملے گا ۔ عبارت ملاحظہ ہو :
ولو اشتري رجل عبداً وقبضه فطلب إليه آخر أن يشركه فيه فأشركه فيه فله نصف بمثل نصف الثمن الذي اشتراه به وهذا بناء على أن مقتضي الشركة يقتضي التسوية. (فتح القدير: ٦/۱٦٦، ط: دار الفكر). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۲/۳۰٤).
بخاری شریف کی ایک روایت سے بھی استیناس حاصل کیا جا سکتا ہے کہ مطلق شرکت برابری کی متقاضی ہے ۔
حدیث شریف ملاحظہ ہو :
عن زهرة بن معبد عن جده عبد الله بن هشام وكان قد أدرك النبي ﷺ وذهبت به أمه زينب بنت حميد إلى رسول الله ﷺ فقالت: يا رسول الله! بايعه
وعن زهرة بن معبد أنه كان يخرج به جده عبد الله بن هشام إلى السوق فيشتري الطعام فيلقاه ابن عمر رضي الله عنه وابن الزبير رضي الله عنه فيقولان له أشركنا فإن النبي ﷺ قد دعا لك بالبركة فيشركهم
الخ.
قال أبوعبد الله: إذا قال الرجل للرجل أشركني فإذا سكت فيكون شريكه بالنصف. (صحيح البخاري، رقم: ۲٤۳٦، باب الشركة في الطعام).
حدیثِ بالا سے استدلال کرتے ہوئے امام بخاری رحمه الله نے فرمایا کہ مطلق شرکت، شرکت بالنصف پر محمول ہو گی، علامہ عینی رحمه الله اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ شریک کی خاموشی رضامندی پر دلالت کرتی ہے ۔
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:
لأن سكوته يدل على الرضا. (عمدة القاري: ۹ / ۲۹۱، ط: دار الحديث، ملتان).
خلاصہ یہ ہے کہ جب زید نے خالد کو اپنی دکان میں شریک کر لیا تو یہ شرکت بالنصف ہو گئی، اس طور پر کہ زید دکان میں تجارت کرتا ہے اور خالد اپنی وجاہت اور معرفت سے سامان فراہم کرتا ہے، جیسے فقہاء نے تحریر فرمایا ہے کہ زید کسی صاحب ہنر کو بٹھا دے اور زید اپنی وجاہت اور پہچان کی وجہ سے کام قبول کرے اور نفع میں دونوں شریک ہوں تو یہ شرکت صحیح ہے اور یہ شرکۃ الوجوہ کی طرح ہے، صاحب ہدایہ رحمه الله نے اس کو شرکۃ الوجوہ فرمایا ہے ۔
ہدایہ کی عبارت ملاحظہ کیجیے:
لأن هذه شركة الوجوه في الحقيقة، فهذا لوجاهته يقبل، وهذا لحذاقته يعمل فينتظم بذلك المصلحة فلا تضره الجهالة فيما يحصل. (الهداية: ۳/۳۱۷، مسائل منثورة من كتاب الاجارات، ط: شركة علمية).
تكمله فتح القدير
میں مرقوم ہے:
لأن هذا شركة التقبل في العمل بأبدانها سواء، فيصير رأس مال أحدهما التقبل، ورأس مال الآخر العمل. (تكملة فتح القدير: ۸/۸۹، ط: دار الفكر).
صاحب عنایہ علامہ اکمل الدین بابرتی رحمه الله فرماتے ہیں:
لأن شركة التقبل أن يكون ضمان العمل عليهما وأحدهما يتولي القبول من الناس والآخر يتولي العمل لحذاقته وهو متعارف فوجب القول بجوازها للتعامل بها قال ﷺ: ماراه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن. (العناية بهامش فتح القدير: ۹/۱۵۰، دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.