فلمی ایکٹرز کی ملازمت کرنے کا حکم:
Question
کیا فلمی ایکٹرز کی ملازمت جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے جو کمائی حاصل ہوتی ہے وہ حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فلموں میں کام کرنا متعدد گناہوں کا مجموعہ ہے، اس کا دیکھنا، اس میں ملازمت کرنا اور اس کی تجارت کرنا سخت گناہ اور حرام ہے، فلم میں پائے جانے والے چند منکرات اور کبیرہ گناہ حسبِ ذیل ہیں:
۱ ۔ بے حیائی اور عریانیت کے مناظر، ۲ ۔ غیر اخلاقی مکالمات، بلکہ مخربِ اخلاق کردار کے مناظر، ۳ ۔ غیر محرم کے ساتھ فحش کردار کے مناظر، ٤ ۔ موسیقی کے ساتھ گانے ۔ عشق و معاشقہ کے ناجائز اسباب اور خواہشات اُبھارنے والے مناظر، چوری، ڈاکہ زنی اور جرائم پیشہ لوگوں کے کردار کے مناظر، وغیرہ وغیرہ ۔ اگر ان میں سے ایک بھی موجود ہو تو اس قسم کی ملازمت کی حرمت اور اس کے عدمِ جواز کے لیے کافی ہے، چہ جائیکہ یہ سب کا مجموعہ ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله﴾ [لقمان: ٦]،
قال العلامة الآلوسي في روح المعاني: ولهو الحديث على ما روي عن الحسن رحمه الله: كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها. (روح المعاني: ۲۱/٦۷).
قال الملا علي القاري في المرقاة: وقال النووي في الروضة: غناء الإنسان بمجرد صوته مكروه وسماعه مكروه وإن كان سماعه من الأجنبية كان أشد كراهة والغناء بآلات مطربة هو من شعار شاربي الخمر كالعود والطنبور والصنج والمعازف وسائر الأوتار حرام وكذا سماعه حرام. (مرقاة المفاتيح: ۹/۱۳۲).
قال في تكملة البحر الرائق: ودلت المسألة على أن الملاهي كلها حرام حتى التغني بضرب القصب قال عليه الصلاة والسلام ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر الحرير والخمر والمعازف، أخرجه البخاري، وفي لفظ آخر: ليشربن أناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها يعزف على رؤوسهم بالمعازف والمغنيات يخسف الله بهم الأرض ويجعل منهم القردة والخنازير واختلفوا في التغني المجرد قال بعضهم: إنه حرام مطلقاً والاستماع إليه معصية لا طلاق الحديث وهو اختيار شيخ الإسلام. (تكملة البحر الرائق: ۸/۲۱٤، دار المعرفة، بيروت).
للمزيد من البحث راجع: (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳٤۸، سعيد، والهداية: ٤/۸۰، ط: المكتبة الإسلامية، وتبيين الحقائق: ٦/۱۳، ط: إمداديه، ملتان، وفتح القدير).
کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے:
فلموں میں ادا کاری سخت گناہ ہے جو عند اللہ سخت پکڑ کا باعث ہے اور یہ صرف بے شرمی نہیں بلکہ بے شرمی کی ندائے عام ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ انسان کی جو نیکی دوسروں پر اثر انداز ہو تو اس کا دائرۂ اثر جتنا وسیع ہو انسان اسی قدر اجر کا مستحق ہے اور اسی طرح اگر کوئی شخص برائی کا داعی ہو تو اس کی اس قبیح دعوت کا اثر جتنا وسیع ہوگا وہ اسی نسبت سے گناہ گار بھی ہوگا ۔ (کتاب الفتاوی: ۱/۳۱۸) ۔
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
ناچ گانا شرعاً ناجائز ہے، اس کا دیکھنا اور سننا بھی ناجائز ہے اگر چہ وہ فلم ہی کے ذریعہ ہو فلم تو خود مستقل لغو تماشا ہے اس میں اور لوگوں کو ملایا جائے تو مجموعہ لغویات ہوگا ۔ (۱۹/۵۱۱، جامعہ فاروقیہ) ۔
مزید دیکھیں: (کتاب الفتاوی: ۵/۲۰۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.