سیٹلمنٹ ڈسکاؤنٹ کا حکم:
Question
کیا سیٹلمنٹ ڈسکاؤنٹ (settlement discount) جائز ہے یا نہیں؟ یعنی بائع مشتری سے یہ کہے کہ اگر آپ ۳۰ دن کے اندر پیسے ادا کر دیں گے تومیں آپ کو ۲ فیصد رعایت دوں گا، اور اگر ۳۰ دن کے بعد ادا کیا تو پوری رقم ادا کرنی ہو گی ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر ابتدا میں ایسی شرط لگائی تو یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا، ہاں بغیر شرط کے صلح کر لے تو اس کی گنجائش ہے، کہ دائن نے کم کر کے مدیون پر احسان کیا اور مدیون نے جلدی ادا کر کے دائن پر احسان کیا، اسی طرح ابتدا ء ً عقد میں شرط نہ لگائے بلکہ وعدہ کر لے تو بھی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
وذكر في شرح الكافي للإسبيجابي جواز هذا الصلح مطلقاً على قياس قول أبي يوسف رحمه الله لأنه إحسان من المديون في القضاء بالتعجيل وإحسان من صاحب الدين في الاقتضاء بحط بعض حقه وحسن هذا إذا لم يكن مشروطاً في الآخر، وأما إذا شرط أحدهما في مقابلة الآخر فدخل في الصلح معاوضة فاسدة فيكون فاسداً، وهكذا في غاية البيان. (رد المحتار: ۲/۲۵۳، سعيد).
قال في العناية: ومن له على آخر ألف درهم، ومن له ألف درهم حالة فقال: أد إلى غداً منها خمسمائة على ذلك بريء من الفضل ففعل فهو بريء. (العناية: ٦/٤۳۳).
وفي أحكام القرآن للجصاص:
ومن أجاز من السلف إذا قال: عجل لي واضع عنك فجائز أن يكون أجازوه إذا لم يجعله شرطاً فيه وذلك بأن يضع عنه بغير شرط ويعجل الآخر الباقي بغير شرط. (أحكام القرآن: ۱/٤٦۷).
بدایۃ المجتہد میں ابن رشد قرطبی مالکی رحمه الله فرماتے ہیں:
أما ضع وتعجل: فأجازه ابن عباس رضي الله عنه من الصحابة وزفر من فقهاء الأمصار، ومنعه جماعة منهم ابن عمر رضي الله عنه من الصحابة، ومالك وأبو حنيفة رحمه الله، والثوري، وجماعة من فقهاء الأمصار، واختلف قول الشافعي في ذلك، فأجاز مالك، وجمهور من ينكر: ضع وتعجل أن يتعجل الرجل في دينه المؤجل عرضاً يأخذه، وإن كانت قيمته أقل من دينه، وعمدة من لم يجز ضع وتعجل. أنه شبيه بالزيادة مع النظرة المجتمع على تحريمها ووجه شبهه بها أنه جعل للزمان مقداراً من الثمن بدلاً منه في الموضعين جميعاً وذلك أنه هنالك لما زاد له في الزمان زاد له عرضه ثمناً وهنا لماحط عنه الزمان حط عنه في مقابلته ثمناً وعمدة من أجاز ما روي عن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ لما أمر بإخراج بني النضير جاء ناس منهم فقالوا يا نبي الله إنك أمرت بإخراجنا ولنا على الناس ديون لم تحل، فقال رسول الله ﷺ: ضعوا وتعجلوا. فسبب الخلاف معارضة قياس الشبه لهذا الحديث. (بداية المجتهد: ۲/۱٤٤، ط: مصر).
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں مرقوم ہے:
دین مؤجل اگر جلد ادا کر دیا جائے تو اس صورت میں دین کا کچھ حصہ چھوڑنا اس وقت جائز ہے جب یہ چھوڑنا تعجیل کے لیے شرط نہ ہو، بلکہ تبرعاً دائن کچھ دین ساقط کر دے، لیکن اگر یہ سقوط تعجیل کے ساتھ مشروط ہو، تو اس صورت میں سقوط اور کمی جائز نہیں ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ۳/۱۱۷) ۔
ربا اور اس عقد میں چند اعتبار سے فرق ہے:
۱ ۔ ربا میں مدیون پر ظلم ہے اور
ضع وتعجَّل
میں مدیون پر احسان ہے ۔
۲ ۔ عقدِ ربا زیادتِ دین کا ذریعہ ہے اور
ضع وتعجَّل
میں دین کا اسقاط ہے، یعنی ایک لاکھ کچھ مدت کے بعد دو لاکھ بن جائے گا اور
ضع وتعجَّل
میں ایک لاکھ پچاس ہزار بن گیا ۔
۳ ۔ ربا میں مدیون پر مزید بوجھ ڈالنا ہے اور
ضع وتعجَّل
میں بوجھ ہلکا کرنا ہے ۔
٤ ۔ عقدِ کتابت میں احناف اور حنابلہ کے ہاں
ضع وتعجَّل
جائز ہے جب کہ وہ بھی دین ہے ۔
ہاں اگر عقد میں مشروط ہو تو اصلاً یہ معاملہ جائز نہیں ہے ۔
قال في الدر المختار: ولا يصح الصلح عن درهم على دنانير مؤجلة أو عن ألف مؤجل على نصفه حالاً لأنه اعتياض عن الأجل وهو حرام. (الدر المختار: ۵/٦٤۰، سعيد).
وقال في الهداية: ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز، لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه، ذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام. (الهداية: ۳/۲۵۱). (وكذا في الجوهرة النيرة: ۳/۲٤٦، موقع الإسلام، ودرر الحكام شرح مجلة الأحكام: ٤/٤٤، ومجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: ۳/٤۳٤، ط: بيروت).
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۵۱٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.