اقامت میں لفظِ "اللہ اکبر" کی راء کا اعراب:

2 min readFatwa Vol 2 #41Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

اقامت میں لفظ "اللہ اکبر" کی راء پر کیا اعراب ہونا چاہے؟

Answer

اقامت میں لفظِ "اللہ اکبر" کی راء ساکن ہو گی یا دوسرے کلمہ کے ساتھ ملا کر فتحہ دیں گے ۔ البتہ ضمہ پڑھنا خلافِ سنت ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

قلت: والحاصل أن التكبيرة الثانية في الأذان ساكنة الراء للوقف حقيقة ورفعها خطأ، وأما التكبيرة الأولي من كل تكبيرتين منه وجميع تكبيرات الإقامة، فقيل محركة الراء بالفتحة على نية الوقف، وقيل بالضمة إعراباً، وقيل ساكنة بلا حركة على ما هو ظاهر كلام الإمداد والزيلعي والبدائع وجماعة من الشافعية

ثم رأيت لسيدي عبد الغني رسالة في هذه المسألة سماها "تصديق من أخبر بفتح راء الله أكبر" أكثر فيها النقل وحاصلها أن السنة أن يسكن الراء من الله أكبر الأول أو يصلها بالله أكبر الثانية، فإن سكنها كفى، وإن وصلها نوي السكون فحرك الراء بالفتحة، فإن ضمها خالف السنة. لأن طلب الوقف على أكبر الأول صيره كالساكن إصالة فحرك بالفتح. (الشامي: ۱/۳۸٦، مطلب في الكلام على حديث "الأذان جزم")

احسن الفتاوی میں ہے:
اذان اور اقامت میں دو تکبیروں کو ایک کلمہ شمار کیا جاتا ہے، اذان میں ہر دو تکبیروں میں سے پہلی تکبیر اور اقامت میں پہلی تین تکبیروں کی راء پر رفع پڑھنا خلافِ سنت ہے، اس کو ساکن پڑھنا چاہیے یا مفتوح کر کے دوسری تکبیر کے ساتھ ملایا جائے ۔ (احسن الفتاوی: ۲/۲۹٦)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اعلیٰ بات یہ ہے کہ اس طرح پڑھے "اللہ اکبرْ اللہ اکبرْ" یعنی دونوں جگہ راء کو ساکن کر دے اس پر کوئی حرکت نہ پڑھے ۔ اگر پہلی راء پر حرکت پڑھنا ہے تو زبر پڑھے ۔ اس طرح "اللہ اکبرُ اللہ اکبرُ" پیش لگا کر پڑھنے کو رد المحتار میں خلافِ سنت لکھا ہے ۔ دوسرے "اکبر" کی راء کو بہر حال ساکن پڑھے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/٤۰۹، کلمات اذان کا بیان، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.