اذان میں لفظِ "اللہ اکبر" کی راء کا اعراب:

3 min readFatwa Vol 2 #14Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

اذان میں لفظِ "اللہ اکبر" کی راء پر فتحہ پڑھنا چاہیے یا ضمہ یا کسرہ یا ساکن ہونا چاہیے؟

Answer

اذان میں دو تکبیروں کو ایک کلمہ شمار کیا جاتا ہے لہذا ثانی تکبیر کو ساکن پڑھیں گے اور اول کو ساکن پڑھنا بھی صحیح ہے اور اگر ملائے تو فتحہ پڑھنا چاہیے ۔ ضمہ پڑھنا خلافِ سنت ہے، اگر کوئی اشکال کرے کہ ساکن کو کسرہ دینا چاہیے کیوں کہ قاعدہ ہے:
الساكن إذا حرك حرك بالكسر.
تو جواب یہ ہے کہ اللہ اکبر کی راء کو کسرہ دینا سنت اور طریقہ معروفہ کے خلاف ہے ۔ نیز کسرہ دینا اللہ تعالی کی شان اور عظمت و کبریائی کے ساتھ مناسب بھی نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ويفتح راء أكبر والعوام يضمونها. وفي الشامية: فائدة: في روضة العلماء قال ابن الأنباري: عوام الناس يضمون الراء في أكبر، وكان المبرد يقول: الأذان سمع موقوفاً في مقاطيعه والأصل في أكبر تسكين الراء فحولت حركة ألف اسم الله إلى الراء كما في "الٓمٓ الله" وفي المغني: حركة الراء فتحة وإن وصل بنية الوقف، ثم قيل هي حركة الساكنين ولم يكسر حفظاً لتفخيم الله.
قلت: والحاصل أن التكبيرة الثانية في الأذان ساكنة الراء للوقف حقيقة ورفعها خطأ، وأما التكبيرة الأولي من كل تكبيرتين منه وجميع تكبيرات الإقامة، فقيل محركة الراء بالفتحة على نية الوقف، وقيل بالضمة إعراباً، وقيل ساكنة بلا حركة على ما هو ظاهر كلام الإمداد والزيلعي والبدائع وجماعة من الشافعية

ثم رأيت لسيدي عبد الغني رسالة في هذه المسألة سماها "تصديق من أخبر بفتح راء الله أكبر" أكثر فيها النقل وحاصلها أن السنة أن يسكن الراء من الله أكبر الأول أو يصلها بالله أكبر الثانية، فإن سكنها كفي، وإن وصلها نوي السكون فحرك الراء بالفتحة، فإن ضمها خالف السنة. لأن طلب الوقف على أكبر الأول صيره كالساكن أصالة فحرك بالفتح. (الدر المختار مع الشامي: ۱/۳۸٦، مطلب في الكلام على حديث "الأذان جزم"، سعيد)

احسن الفتاوی میں ہے:
اذان اور اقامت میں دو تکبیروں کو ایک کلمہ شمار کیا جاتا ہے، اذان میں ہر دو تکبیروں میں سے پہلی تکبیر اور اقامت میں پہلی تین تکبیروں کی راء پر رفع پڑھنا خلافِ سنت ہے، اس کو ساکن پڑھنا چاہیے یا مفتوح کر کے دوسری تکبیر کے ساتھ ملایا جائے ۔ (احسن الفتاوی: ۲/۲۹٦)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اعلیٰ بات یہ ہے کہ اس طرح پڑھے "اللہ اکبرْ اللہ اکبرْ" یعنی دونوں جگہ راء کو ساکن کر دے اس پر کوئی حرکت نہ پڑھے ۔ اگر پہلی راء پر حرکت پڑھنا ہے تو زبر پڑھے ۔ پیش لگا کر پڑھنے کو رد المحتار میں خلافِ سنت لکھا ہے ۔ دوسرے "اکبر" کی راء کو بہر حال ساکن پڑھے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/٤۰۹، کلمات اذان کا بیان، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.