اگر مصلی پر ناپاک بچہ بیٹھ جائے تو نماز کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #45Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۳): صفۃ الصلاۃ کا بیان

Question

ناپاک بچہ اگر کسی نماز ی شخص پر بیٹھ گیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟

Answer

اگر وہ ناپاک بچہ اپنی قوت سے بیٹھا ہے نماز ی کے تھامنے کا محتاج نہیں ہے، تو نجاست نماز ی کی طرف منسوب نہیں ہو گی اور نماز ہو جائے گی، اور اگر اس ناپاک بچہ میں خود سنبھلنے کی سکت نہیں تو اگر وہ اتنی دیر تک نہیں بیٹھا جتنی دیر میں وہ ایک رکن ادا کر س کے تو نماز فاسد نہ ہو گی، اور اگر ایک رکن کی مقدار ٹھہرا تو مصلی حاملِ نجاست کہلائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

فلو جلس الصبي المتنجس الثوب والبدن في حجر المصلي وهو يستمسك أو الحمام المتنجس على رأسه جازت صلاته لأنه الذي يستعمله فلم يكن حامل النجاسة. (البحر الرائق: ۱/۲۲۸، باب الأنجاس، كوئته)

نیز دوسری جگہ مذکور ہے:

وفي الظهيرية: الصبي إذا كان ثوبه نجساً أو هو نجس فجلس على حجر المصلي وهو يستمسك أو الحمام النجس إذا وقع على رأس المصلي وهو يصلي كذلك جازت الصلاة

لأن الذي على المصلي مستعمل له فلم يصر المصلي حاملاً للنجاسة. (البحر الرائق: ۱/۲٦۷، باب شروط الصلوة، كوئته)

عالمگیری میں ہے:

إذا وضع في حجر المصلي الصبي الغير المستمسك وعليه نجاسة مانعة إن لم يمكث قدر ما أمكنه أداء ركن لا تفسد صلاته وإن مكث تفسد بخلاف ما لو استمسك وإن طال مكثه وكذا الحمامة المتنجسة إذا جلست عليه هكذا في الخلاصة وفتح القدير. (الفتاوى الهندية: ۱/٦۳).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.